March 4, 2019 at 7:47 pm

افغانستان میں طالبان نے امریکی و افغان فورسز کی مشترکہ ملٹری بیس پر حملہ کیا جس میں 23 افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق طالبان نے افغان صوبے ہلمند کے شہر شوراب میں امریکا اور افغان فورسز کی مشترکہ ملٹری بیس پر حملہ جدید ہتھیاروں اور خود کش بمباروں کی مدد سے حملہ کیا۔افغانستان کی وزارت دفاع کے ترجمان نے طالبان کے حملوں میں 23 اہلکاروں کی ہلاکت اور 15 کے زخمی ہونے کا بتایا۔ ترجمان نے جوابی کارروائی میں 20 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا ہے۔گورنر ہلمند کے ترجمان نے بھی کارروائی میں 23 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے حملے کے لیے 7 خود کش بمبار تعینات کیے تھے جو جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔
دوسری جانب طالبان نے ہلمند ملٹری بیس پر حملے کو شوراب فدائی آپریشن کا نام دیتے ہوئے 400 کے قریب امریکی اور افغان سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔طالبان کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ فدائی آپریشن میں 9 حملہ آوروں نے حصہ لیا جس کے نتیجے میں پائلٹوں سمیت 137 امریکی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے حملے میں متعدد ہیلی کاپٹر اور جنگی طیارے، ہاموی اور بکتر بند ٹینک، کئی گاڑیاں گاڑیاں، فوجی ایمبولینس، آئل ٹینکر، لاجسٹک ڈپو، اسلحہ ڈپو اور طیاروں کا بڑا ورکشاپ سمیت فوجی تنصیبات کا 40 فیصد تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہےافغان حکام یا امریکی فوج کی جانب سے تاحال طالبان کے دعوے کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

Facebook Comments