یوم عاشور پر کربلا میں کیا ہوا؟

شیئر کریں:

خانوادہ رسالت نے اپنی قربانی سے دین حق کا پرچم تاقیامت سربلند کردیا۔ نواسہ رسول اور ان کے
اصحاب کی یاد میں جگہ جگہ مجالس اور جلوس برآمد کیے جارہے ہیں۔

امام عالی مقام کے کڑیل جوان کی یاد میں 9 محرم کے جلوس

سب ہی جگہ اہل ایمان اپنے اپنے انداز سے معرکہ حق و باطل کا ذکر کر رہے ہیں۔ علماء بیان کرتے ہیں واقعہ کربلا معرفت اور عشق حقیقی کی اعلی ترین مثال ہے۔ جہاں امام عالی مقام نے اللہ کی وحدانیت کو منوانے کے لئے پورے گھر قربان کردیا۔
امام حسینؑ نے سر کٹانا تو گوارا کیا لیکن باطل نظام اور نظریہ کے سامنے سر نہ جھکایا۔ امام عالی مقام نے دین محمدی کی آبیاری اپنے اور بچوں کے خون سے کی۔ آج مجالس اور جلوسوں میں اسی اسوہ حسینی کو اجاگر کیا جا رہاہے۔

حق کے متلاشیوں کا امام “حر ریاحی”

علما بیان کرتے ہیں قافلہ حسینی اٹھائیس رجب اکسٹھ ہجری کو مدینہ منورہ سے روانہ ہوا۔ حج سے پہلے قافلہ مکہ پہنچا۔ فوج یزید نے خانہ کعبہ میں آل رسول پر حملہ کی سازش بنائی ، لیکن امام نے خانہ خدا کی حرمت کی خاطر حج کو عمرہ میں تبدیل کیا۔
یہ قافلہ دو محرم کو دشت نینوا یعنی کربلائے معلی پہنچا۔ دینی محمدی کی بقا کے لیے اسی جگہ حق و باطل کا معرکہ دس محرم اکسٹھ ہجری کو ہوا۔

فجر کی نماز شے اصحاب امام عالی مقام اور آل رسول کے جوانوں کی شہادت کا دفتر کھلا۔ ایک ایک کر کے سب شہید کر دیے گئے۔ آخر میں چھ ماہ کا شہزادہ علی اصغر بچے انہیں بھی یزیدی فوج نے پانی پیلانے کے بجائے جانوروں کو مارنے والے تیر سے امام حسین کے ہاتھوں میں ذبح کر دیا۔
عصر عاشور امام حسین علیہ السلام تنہا رہ گئے اور ہاتف کی ندا بلند ہونے پر سجدہ شکر میں گئے۔ پھر یزیدیوں نے حملہ کر کے شہید کر دیا اور پھر سربھی تن سے جدا کر دیا۔
یہاں یزیدی فوج نے آل رسول کو گھیر کے بھوکا پیاسا شہید کیا۔
یہی نہیں امام حسین کی شہادت کے بعد سرشام یزیدی فوج نے سیدانیوں کے خیموں کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی۔ ایک ایک پاک بیبیوں کے سروں سے چادریں کھینچ لی گئیں۔ خواتین کو خوف زدہ کیا گیا ۔ کوششوں کے باوجود یزید ذکر امام حسینؑ کو چھپا نہیں سکا اور 14 سو سال سے یہ ذکر بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ان ہی شہدا کی لازوال قربانی کی یاد کا سلسلہ آٹھ ربیع الاول تک جاری رہتا ہے۔
یزید لعین نے سوچا تھا کہ ریگستان میں اس واقعہ کا کسی کو علم نہیں ہوگا اور وہ آل رسول پر الزام لگا کے انہیں باغی قرار دے دے گا۔ خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

شیر خدا کی بیٹی اور امام حسینؑ کی بہن شہزادی زینب سلام اللہ علیہ نے بغیر تلوار اپنے خطبوں سے یزید لعین کو تا قیامت زلت و عبرت کا نشان بنا دیا۔
شہدائے کربلا کی قربانی ایسی لَو بن چکی ہے جو حریت پسندوں کو تاقیامت حقیقت ابدی کا پتہ دیتی رہے گی۔
ایثار اور وفا کے اعلیٰ ترین نمونے ہمیں کربلا میں ملتے ہیں، کربلا اور امام عالی مقام حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات گرامی رہتی دنیا تک کے حریت پسندوں اور غیور مسلم امہ کے لئے مشعل راہ ہیں، امام عالی مقام نے ظلم و استبداد کے سامنے اپنے بہتر جانثاروں کیساتھ قیام کرکے دنیائے انسانیت کو یہ درس دیا کہ ظالم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اس کے سامنے کلمہ حق کے لئے ڈٹ جانے کا نام ہی حسینیت ہے۔


شیئر کریں: