یمن کا انسانی المیہ اور مسلم دنیا کی بے حسی

شیئر کریں:

تحریر:آئی ایم ملک
اس وقت جب پوری دنیا کورونا جیسی آفت سے نمٹنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کو آگے بڑھ رہی ہے۔
جنگ کے شعلوں میں جھلستی سرزمین یمن پر انسانی المیہ اور بھی بھیانک ہونے لگا ہے۔
ہزاروں افراد بے گھر ہیں خوراک اور ادویات کی قلت نے اہل یمن کی آزمائش میں اضافہ کر دیا۔
اور ظلم یہ کہ یہ سب کچھ ایک مسلم ملک پر مسلمان ملک کی وجہ سے ہی ہو رہاہے۔
سعودی اتحاد کے تحت یمن کے خلاف جاری جنگ اور ناکہ بندی نے اسے دکھ کرب اور تکلیفوں کی دنیا میں دھکیل دیا ہے۔
جنگ زدہ یمن میں امن خواب بن چکا ہے برسوں جن گلی کوچوں میں بسر کی آنکھوں کے سامنے وہی بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
زمینی و فضائی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں گھر تباہ ہوئے اور چالیس ہزار کے قریب لوگ لاپتہ ہو چکے ہیں۔
جنگ و جدل سے نا واقف معصوم شہری حملے کی صورت میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کربس جان بچانے کی فکر میں ملبے کے ڈھیر بنے گھروں کے بیچ و بیچ دوڑ پڑتے ہیں۔
یمن پر 2015 میں جنگ مسلط کی گئی ہے اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد اس جنگ کی بھینٹ چڑھائے جا چکے ہیں۔
اقوام متحدہ بھی بارہا سعودی عرب اور اتحادی فوج پر زور دے چکا ہے کہ وہاں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے اور کورونا کی وجہ سے صورت حال اور خراب ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود سعودی عرب کی قیادت میں اکتالیس ملکی اتحاد جنگ ختم کرنے پر آمادہ دیکھائی نہیں دیتا۔
لاکھوں لوگوں کو خوراکی کمی کا سامنا ہے اور علاج معالجے کی سہولیات بھی بمباری سے تباہ و برباد ہو چکی ہیں۔
صحرا کی تپتی دھوپ، کئی کئی میل پیدل سفر،بھوک پیاس اور اوپر سے گھر بار لٹ جانے کا دکھ اہل یمن نے نا جانے کیا کیا دکھ جھیلے۔
ماوں سے بچھڑے بچے اور خاندان کی ایک جھلک دیکھنے کو ترستے لاپتہ افراد اقوام عالم سے بس ایک ہی سوال کر رہے ہیں کہ سرزمین یمن پر امن کا سورج آخر کب طلوع ہو گا۔


شیئر کریں: