ہیپاٹائٹس سے ہر گھنٹے ایک اور زچگی کے دوران 2 پاکستانی مرتی ہیں

شیئر کریں:

ہر سولہویں منٹ میں ایک پاکستانی ہیپاٹائٹس اور اکتسویں منٹ میں یہاں ایک عورت زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ہے ان زندگیوں کو بچایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ امراض قابل علاج ہیں یہ قیمتی جانیں ریت کی طرح ہمارے ہاتھوں سے پھسل رہی ہیں ہم بے بس ہیں، یہ باتیں ڈاؤ یونیورسٹی کی پرو وائس چانسلر پروفیسر نصرت شاہ نے ڈاؤ میڈیکل کالج کے معین آڈیٹوریم میں ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے کے سلسلے میں منعقدہ سیمینار سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہیں، سیمینار کا اہتمام پاکستان سوسائٹی آف گیسٹرو انٹرالاجی نے ورلڈ گیسٹرو انٹرالاجی آرگنائزیشن کے اشتراک سے کیا تھا۔ سیمینار میں سیشن چیئر کے فرائض پروفیسر سعد خالد نیاز، اور پروفیسر خالد محمود نے ادا کیے، جبکہ پروفیسر امان اللہ عباسی، ڈاکٹر بدر فیاض زبیری، ڈاکٹر ہما قریشی، ڈاکٹر سجاد جمیل، ڈاکٹر عبدالقادر میمن، ڈاکٹر ماجد نے مقالے پیش کیے۔


سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نصرت شاہ نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں یہ سانحات کتنی خاموشی سے رونما ہو رہے ہیں،ایک روز میں 50 عورتیں دوران زچگی مر جاتی ہیں لگ بھگ 96 افراد ہیپاٹائٹس کی مختلف اقسام کا شکار ہوکر خاموشی کے ساتھ مر جاتے ہیں نہ کوئی خبر بنتی ہے نہ سرکاری ادارے توجہ دیتے ہیں یہ خاموشی ہمیں کن پستیوں میں دھکیل رہی ہے۔ ہم تو اپنے پڑوسی ممالک انڈیا ایران بنگلہ دیش سے بھی پیچھے جا رہے ہیں اس پر ہمیں سوچنا ہوگا اور کچھ کرنا ہوگا۔ ہمارا شمار افریقہ کے پسماندہ ممالک کے ساتھ کیا جاتا ہے۔آگہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سجاد جمیل نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق ہیپاٹائٹس اے سے ایک لاکھ اور ہیپاٹائٹس ای سے 60 ہزار افراد سالانہ لقمہ اجل ہو جاتے ہیں جبکہ شرح اموات حاملہ خواتین میں اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ پاکستان میں بچوں میں ہونے والے وائرل ہیپاٹائٹس کا 50 سے 60 فیصد ہیپاٹائٹس اے پر مشتمل ہوتا ہے۔ ابتدائی مراحل میں علامات ظاہر ہونے کی وجہ سے 96 فیصد افراد پانچ سال کی عمر تک ہیپاٹائٹس اے کے سامنے مزاحمت رکھتے ہیں دوسری طرف بالغ افراد میں ہیپاٹائٹس اے 3.5 سے 4 فیصد پیچیدہ ہیپاٹائٹس کا باعث بنتا ہے اور تقریبا 98 سے 100 فیصد بالغ افراد کو جوانی میں ہیپاٹائٹس اے کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ہیپاٹائٹس اے کی علامات میں بخار، یرقان، ہاضمے کی خرابی, شدید زرد پیشاب، کمزوری، الٹی، پیٹ کے دائیں جانب درد ہونا، متلی، چکر شامل ہیں۔ ہیپاٹائٹس سے بچنے کے طریقوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ویکسین کرانا، پھل اور سبزیاں دھو کر کھانا، اچھی طرح پکا کر کھانا، ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوائیں استعمال کرنا، برتن دھو کر استعمال کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بچوں کو 15 ماہ تک کی عمر تک 6دفعہ ویکسین دینے سے انہیں دس جان لیوا بیماریوں سے محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے ایک مقامی اسپتال کی 7 سالہ رپورٹ کے مطابق ہیپاٹائٹس کے2735 مریضوں میں سے 232 اسپتال میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے 30 مریض جگر کی خرابی کا شکار ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بالغوں میں 20 سے 22 فیصد اور بچوں میں 2.4 فیصد پیچیدہ ہیپاٹائٹس کی وجہ ہیپاٹائٹس ای ہے۔ ہیپاٹائٹس ای کے باعث اموات کی شرح 0.4 سے 4 فیصد ہے جبکہ دوران حمل یہ شرح کئی گنا، 16 سے 33 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ گندے پانی، گٹر والے پانی کے باعث ہیپاٹائٹس ای کا پھیلاؤ پاکستان میں شدت اختیار کر رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق سندھ میں خصوصاً کراچی حیدرآباد لاڑکانہ سکھر میرپورخاص گندے اور آلودہ پانی کی فراہمی کے باعث سب سے زیادہ ہیپاٹائٹس اے اور ای کے خطرے سے دوچار ہیں۔ڈاکٹر ہما قریشی نے کہا کہ ہیپاٹائٹس سی سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں چین کے بعد پاکستان دوسرے نمبر پر ہے۔ 2019 کی ایک رپورٹ کے مطابق خون کی منتقلی کے باعث ہیپاٹائٹس سی ہونے کا خطرہ 14.8 فیصد شرح کے ساتھ سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے نمبر پر سرنج یا انجکشن کا استعمال، اسپتال کی ہسٹری، دانتوں کا علاج، سرجیکل ہسٹری وغیرہ شامل ہیں۔2020کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی سے 164000 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ موجودہ رفتار کے ساتھ ہیپاٹائٹس سی کا خاتمہ ناممکن دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ صوبوں کو پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے خاتمے کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔اسپتالوں میں تمام مریضوں کا ہیپاٹائٹس سی کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے لیکن مثبت پایا جانے والوں کو علاج کے مقامات پر منتقل نہیں کیا جاتا، ہم ان مریضوںکا معالج سے رابطہ کرانے کا موقع گنوارہے ہیں۔


شیئر کریں: