ہنستا مسکراتا ایک اور دوست ریاض شاکر ساتھ چھوڑ گیا

شیئر کریں:

تحریر علیم عثمان

حالیہ برسوں میں لاہور ہائی کورٹ میں ہونے والی سیاسی حوالے سے سب سے اہم جوڈیشل انکوائری
کی آخری سماعت ختم ہوئی تو 5 منٹ بعد مَیں دوسرے بلاک میں واقع جج صاحب کے کورٹ روم پہنچ
چکا تھا جو اس نہائت اہم جوڈیشل انکوائری کمیشن کے سربراہ تھے ، مَیں جج کے چیمبر میں داخل
ہونے لگا تو اپنے آگے ایک اور رپورٹر کو اندر جاتے پایا یہ ریاض شاکر تھا۔

جج صاحب بہت محبت سے اس کا حال چال پوچھتے ہوئے کہہ رہے تھے بہت عرصہ ہوا آپ سے ملاقات ہی نہیں ہو پائی۔
خیر چند منٹ بعد میں نے مزید وقت ضائع کیے بغیر جج صاحب سے انکوائری کی بابت آف دی رکارڈ بات چیت شروع کردی۔
جسٹس خلیل الرحمٰن رمدے کے بڑے بھائی چوہدری فاروق بھی ذاتی طور پر ریاض شاکر سے بہت پیار کرتے تھے۔
بطور اٹارنی جنرل آف پاکستان وہ جب بھی لاہور ہائی کورٹ آتے ریاض شاکر سے ایکسکلوژو گفتگو ضرور کرتے اور اگلی
صبح کے “جنگ” کے لئے ایک 3 کالمی ایکسکلوژو خبر بنوا جاتے۔
وہ بہت اچھے کارٹونسٹ ؍ابن؍ شاکر کا بیٹا تھا اور خود بھی زبردست کارٹونسٹ تھا۔
لاہور ہائی کورٹ میں سائلین اور صحافیوں سمیت عام لوگوں کے لئے سب سے زیادہ “دہشت” جسٹس رمدے کے کورٹ روم میں طاری ہوتی تھی لیکن ریاض شاکر وہاں جتنا وقت بیٹھتا۔

جسٹس رمدے کا فحش کارٹون بناتا اور ارد گرد بیٹھے ساتھی کورٹ رپورٹرز میں circulate کرتا رہتا . اکثر کورٹ رومز میں وہ زیادہ تر وقت اسی ‘شرارت’ میں گزار دیتا۔
میری اس سے پہلی ملاقات 1988 میں روزنامہ مساوات میں ہوئی جب وہ بدر منیر چوہدری کے ہمراہ بطور سٹی رپورٹر اپنی خبر فائل کرنے میرے پاس ڈیسک پر آیا۔
غالباً یہیں سے اس نے اپنا صحافتی کیریئر شروع کیا تھا . 1990 میں ، مَیں “جنگ” میں بطور رپورٹر بھرتی ہوگیا اور “خبریں” شروع ہونے سے قبل 1992 کے اواخر میں جب میں “جنگ” چھوڑ کر بطور پولیٹیکل رپورٹر “خبریں” چلا گیا تو “جنگ” میں میری جگہ ہائی کورٹ سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کی زمہ داری ریاض شاکر نے جا کر سنبھالی۔
روزنامہ “پاکستان” اور پھر 1998 کے اواخر میں روزنامہ”دن” سے مجھے پھر سے اعلیٰ عدلیہ کی رپورٹنگ کرنا پڑی تو اس سے ملاقات رہنے لگی۔
وہ میری خصوصی طور پر عزت کرتا تھا اور مجھ سے بڑا پیار کرتا تھا۔
ہر رپورٹر کا ایک رکارڈ رجسٹر ہوتا ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر اس کی شائع شدہ خبروں کے تراشے لگائے جاتے ہیں ، وہ بتاتا تھا کہ “جنگ” میں جو رجسٹر میں چھوڑ کر آیا تھا وہی اسے دے دیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ میں اکثر وہ دیگر ساتھی رپورٹروں کی موجودگی میں اس رجسٹر کا حوالہ دے کر اس کے مختلف اوراق پر چسپاں میری ایکسکلوژو سٹوریز کی تعریف کرتا۔
کورٹ رپورٹرز میں اس کی دوستی صرف “نوائے وقت” کے کورٹ رپورٹر محترم Saeed Aasi کے ساتھ تھی اور ان کے بعد “نوائے وقت” سے جب Badar Munir Chaudhary ہائی کورٹ آنے لگے تو دونوں کی بے مثال جوڑی بن گئی۔
بدر منیر اگرچہ شائد آرائیں ہونے کے ناطے ایک “سیانا” صحافی ہوتے ہوئے پریس کلب کی “راج نیتی” میں بھی بھر پور حصہ لیتا تھا اور لاہور پریس کلب کے صدر سمیت کلیدی عہدوں پر رہا لیکن ریاض شاکر کو مَیں نے کبھی پریس کلب میں نہیں دیکھا۔
اس کا اپنا ہی لائف سٹائل تھا وہ روزانہ کی تمام خبریں ہائی کورٹ ہی کے PRO روم میں بنا کر نکلتا تھا اور سیدھا دفتر جا کر فائل کرکے گھر چلا جاتا اور پھر شام کو دفتر آتا۔
مَیں نے اُسے کبھی صحافیوں اور صحافتی کلچر میں رچا بسا نہیں پایا ، شائد یہ صرف اس کا ذریعہ روزگار ہی تھا ، اس کی first love نہیں . وہ بنیادی طور پر ایک ارٹسٹ تھا۔

بہرحال ، ان باتوں اور یادوں کا اب کیا فائدہ ! ھم بدنصیب کسی کو اس کی زندگی میں نہ کھوجنے کی کوشش کرپاتے ہیں نہ اسے celebrate کرتے ہیں ، نہ یہ دریافت کرپاتے ہیں کہ کوئی ہر وقت ہنستا ہنساتا مُسکراتا چہرہ کن امراض میں مبتلا ھے اور سب سے چھپائے خاموشی سےاندر ہی اندر کس تکلیف سے گَزر رہا ھے اور پھر جب اچانک ایسے “حادثے” کی خبر ملتی ھے تو نہ اسے دل قبول کر رہا ہوتا ھے نہ دماع . بعد میں تو یوں اچانک چھوڑ جانے والوں کی صرف یادیں رہ جاتی ہیں جو بہت تکلیف دہ ہوتی ہیں . DAWN ٹی وی کے انتہائی زندہ دل کورٹ رپورٹر توقیر گھُمن بارے ایسی ہی خبر میں آج تک قبول نہیں کر پایا۔
ایسا ہی ظلم میرے ساتھ انتہائی شاندار انسان اور دوست صحافی طارق خورشید نے اچانک ھم سب کو چھوڑ کر کیا ، یہ دونوں ان دنوں مجھے ملے بغیر چلے گئے جب میں کراچی میں ہارٹ failure کے تکلیف دہ مرحلے سے پنجاب واپسی کے بعد ابھی لاہور نہیں پہنچا تھا بلکہ اپنے ھوم ٹاؤن میں بیڈ ریسٹ پر تھا۔


شیئر کریں: