ہندؤں کے علاقے میں بریانی کا ہوٹل کس سے پوچھ کے کھولا؟

شیئر کریں:

بھارت میں‌ مسلمانوں‌ کے خلاف انتہا پسند ہندو جماعت کے کارندوں کی جانب سے حملے بڑھتے ہی جارہے ہیں.
مسلمانوں‌ کا سماجی، سیاسی اور معاشی بائی کاٹ‌ کیا جارہا ہے.
دارالحکومت نئی دہلی میں ایک اور مسلمان ہوٹل والے پر حملہ کیا گیا. ہندوتوا نظریہ کو مسلمانوں پر مسلط
کرنے کی کوشش کرنے والے گروپ کی جانب ہوٹل بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا.

دیوالی کے موقع پر انتہا پسند ہندوؤں‌ کا رہنما اپنے حواریوں کے ساتھ بریانی کے ہوٹر پر پہنچا اور کہا
آج دیوالی ہے اپنا ہوٹل بند کرو، اور یہ ہندؤں کے علاقے میں‌ کس سے پوچھ کے کھولا ہے؟
یہ مسلمانوں کی جامع مسجد یا ان کا علاقہ نہیں، یہ ہندو دھرم کے ماننے والوں کا علاقہ ہے.
اسی دوران کرسیاں‌ اور ٹیبل پھیکنے شروع کردیں.

بھارت میں پھر مساجد کی بے حرمتی، مسلمانوں کے گھروں دکانوں پر حملے

انتہا پسند نے شور کر کے مزید لوگوں‌ کو بھی جمع کرلیا اور مسلمانوں‌ کے خلاف تقریر شروع کر دی کہ
یہ مسلمان “لوجہاد” کے نام پر ہماری بہنوں‌ کو پھنسا رہے ہیں ان کا بائی کاٹ‌ کیا جائے.
انتہا پسندوں نے ویڈیو بنا سوشل میڈیا پر پھیلادی. ویڈیو میں‌ ملزمان کی تصاویر واضح‌ہونے کے باوجود
پولیس نے کسی کے خلاف کارروائی نہیں کی.

مذہبی آزادی کے امریکی کمیشن کی بھارتی مسلمانوں کے حالات پر تشویش

خیال رہے امریکا کے ادارے نے حال میں ایک رپورٹ‌ جاری کی ہے جس میں‌ بھارت کو مذہبی آزادی
سلب کرنے والے ممالک کی فہرست میں اوپر رکھا ہے.


شیئر کریں: