ہم کون ہیں؟

شیئر کریں:

تحریر اجمل شبیر
دانائی کے گھر سے آج ہم deapth سے خود کو جاننے کے سفر پر نکل رہے ہیں ،اس سفر میں مکمل طور پر ہم خود کو جانیں گے کہ ہم ہیں کون؟ بہت ہی ڈیپ سیلف انکوائری کا آج سے آغاز ہورہا ہے ،اس لئے مکمل توجہ ضروری ہے ۔
آج تک آپ جو کچھ سنتے آئے ہیں ،وہ baggage نہیں اٹھانا ،آپ کے جتنے بھی beliefs ہیں ،جو بھی preconceived notions ہیں ،یہ ویڈیوز ان سے ہٹ کر ہوں گی اس لئے خود کو جاننے کے لئے آپ کو نئی باتیں سننی ہوگی ،امید ہے آپ نئی باتوں کو سنیں گے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے ۔
جب انسان اپنے مائینڈ کو مکمل خالی کرکے کچھ نیا سنتا ہے تو اسے خود کی سمجھ آنی شروع ہوتی ہے کہ وہ کون ہے؟

ہم سب انسانوں کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے کہ ہم جانتے نہیں کہ ہم کون ہیں ،آج سے ہم اس مسئلے کو سجھنے کے سچ کی طرف بڑھ رہے کہ ہم کون ہیں ؟

ہم سب انسان دو طرح کے مسائل میں پھنسے پڑے ہیں ،ایک مسئلے کو سبجیکٹ پرابلم کہتے ہیں ،سبجیکٹ پرابلم کیا ہے کہ مجھے جو مسئلہ درپیش ہے ،وہ پرابلم آپ کو نہیں ہے ،آپ کو کوئی اور پرابلم کا سامنا ہے ،اسے کہتے ہیں سبجیکٹو پرابلم ۔
کچھ پرابلمز ایسے ہیں جنہیں fundamental problems کہا جاتا ہے ۔فنڈامنٹل پرابلمز وہ ہیں جو سب انسانوں کو درپیش ہیں ۔اس دنیا میں کوئی امیر ہے ،کوئی غریب ہے ،سب فنڈامنٹل پرابلمز سے گزر رہے ہیں ۔سیلف انکوائری کے اس سفر میں ہم فنڈامنٹل پرابلمز کی جڑ تک پہنچیں گے اور دیکھیں کہ یہ مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے؟

جس دن ہمیں یہ سمجھ آگئی کہ میں ہوں کون ،تو زندگی میں مکمل پیس آف مائینڈ آجائے گا اور تمام قسم کی ٹینشن ختم ہوجائے گی ۔
اس وقت ہم یہ جانتے ہی نہیں کہ ہم کون ہیں ،اس لئے مسائل ہیں ،مسائل کب ختم ہوں گے جب ہم یہ سمجھ جائیں گے کہ ہم ہیں کون ؟

فنڈا منٹل پرابلم جس سے ہر انسان گزر رہا ہے وہ پرابلمز کیا ہیں ؟
There is sense of lack which is there in all of us,There is sense of loneliness,There is sense of incompleteness,
There is a sense of limitation and fear.
What is the biggest fear ,fear of death is the biggest fear .

ان تمام فنڈامنٹل پرابلمز کا سالوشن صرف اور صرف ہمیں سیلف انکوائری سے مل سکتا ہے ۔

بے سکونی صرف غریب کا مسئلہ نہیں ہے یا صرف امیر کا مسئلہ نہیں ،ساری انسانیت کا مسئلہ ہے اس لئے اسے فنڈا منٹل پرابلم کہا جاتا ہے ،سیلف انکوائری کے سفر میں ہم یہ جانیں گے کہ کیوں ہم بے سکون ہیں ؟

دنیا میں بہت سارے نظریات ہیں ،سب انسانوں کے اپنے اپنے بیلیف ہیں ،کیا ہم اپنے نظریات پر عمل کرکے بے سکونی کو ختم کر پائے ہیں ؟ کیوں نہیں کر پائے ؟
سب نظریات کیا کہہ رہے ہیں کہ یہ کر لو تو کچھ دیر کے لئے پیس آف مائینڈ مل جائے گا ،اپنے غصے کو کنٹرول کرو ،اپنی خواہشات کو کنٹرول کرو ،کسی سے نفرت نہ کرو ،سب سے محبت کرو ،کیا ہمیں اپنے نظریات پر عمل کرنے سے پیس آف مائینڈ ملا؟ کیا نے سکونی ختم ہوئی ؟
اپنے اپنے بیلیف کے ساتھ ہم چل رہے ہیں ،لیکن بے سکونی ختم نہیں ہوئی ،ہم enlightened نہیں ہو پائے ؟ کبھی خود سے سوال کیا ایسا کیوں ہے کہ ہم سب کچھ کرتے ہیں ،اپنے اپنے نظریات پر چلتے ہیں پھر بھی پریشان ہیں ؟ پریشانی اور بے سکونی سے نجات کا صرف ایک ہی طریقہ ہے سیلف ڈسکوری

سچ کہاں ہے؟ سچ آپ کے اندر ہے ؟ اس سچ کو ہم کب دیکھ سکتے ہیں جب خود کے اندر ہم گہرائی سے اتریں گے ،خود کو دیکھیں گے کہ ہم کون ہیں؟

سب کیا کررہے ہیں خوشی کو تلاش کررہے ہیں ،خوشی کو کیوں تلاش کررہے ہو ،کیونکہ تم جانتے ہی نہیں ہو کہ تم کون ہو؟ جب خود کو جان گئے کہ میں ہی happiness ہوں تو مسئلہ کہاں ہے ؟ کہیں بھی نہیں؟
We are seeking happiness but the reality is we are happiness

ہم سچ کے پیچھے دوڑ رہے ہیں ،سچ کو تلاش کررہے ہیں کیوں ؟ کیونکہ ہم خود کو جانتے نہیں ،جب خود کو جان جائیں گے تو پھر معلوم پڑتا ہے
We are truth
Now we are seeking truth
بے سکونی کیا ہے ؟ بے سکونی یہ ہے کہ ہم ہر وقت بھاگ رہے ہیں ،ایک سیکنڈ کے لئے بھی ہمیں سکون نصیب نہیں ،ہمارا مائینڈ ہمیں سکون سے بیٹھنے ہی نہیں دے رہا،ہر وقت ہمیں بھاگاتا رہتا ہے ،کبھی ادھر تو کبھی ادھر ،اسی بھاگنے کا نام ہی بے سکونی ہے
ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں کچھ پانا ہے ،ہمیں کچھ کرنا ہے ،ہمیں کہیں جانا ہے ،ہمیں کچھ بننا ہے ۔ہم سب دوڑ رہے ،ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی ،وہ کچھ بن گیا ہے ،مجھے بھی اس جیسا بننا ہے ،اسی بننے کے چکر کی وجہ سے ہم بے سکون ہیں ۔
ہم سب انسان اپنی بے سکونی کو ختم کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کررہے ہیں ،کیا اس کرنے کی وجہ سے بے سکونی سے نجات ملی ہے؟ کبھی بھی اس طرح بے سکونی سے نجات نہیں ملے گی ،کچھ بننے اور کچھ کرنے کی وجہ سے ہی تو بے سکونی ہے

انسان جب خود کو گہرائی میں جاکر دیکھتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ وہ تو مکمل ہے ،جب اسے یہ معلوم ہوتا ہے کہ he is complete پھر بے سکونی خود بخود ختم ہوجاتی ہے

تمام مسائل کی جڑ کیا ہے ؟ جڑ یہ ہے کہ کبھی ہم نے خود سے سوال ہی نہیں کیا کہ ہم بھاگ کیوں رہے ہیں؟
کیونکہ سب بھاگ رہے ہیں ا سلئے میں بھی بھاگ رہاہوں ،اسی بھاگنے کا نام بے سکونی ہے ۔
کیا بھاگنے سے مسائل سے نجات ملی ،آپ نے دیکھا وہ وہاں تک پہنچا ،آپ کو بھی پہنچنا ہے ،آپ بھی وہاں پہنچے ،وہاں جاکر دیکھا کہ وہاں تو کچھ بھی نہیں ہے ،پھر وہاں سے کہیں اور دوڑ لگا دی ،وہاں پر پہنچے تو وہاں بھی سکون نہ ملا ،پھر کہیں اور ڈائرکشن میں چل پڑتے ہیں

ہم نے کہیں پہچنے کے لئے بہت سے لوگوں کو شکست دی ،بہت سے لوگوں کو ہرٹ کیا ،دھوکے کئے ،لیکن ملا کچھ نہیں

بھاگتے رہو گے تو سکون نہیں ملے گا ،کیونکہ بھاگنے سے سچ تک نہیں پہنچا جاسکتا
مسئلہ کیا ہے ؟ ہم سب سمجھتے ہیں کہ ہمیں کہیں پہنچنا ہے ،ہمیں enlightened ہونا ہے ،ہر کسی کے لئے انلائیٹمنٹ کی اپنی definition ہے ،کوئی کسی نظریئے سے انلائٹنڈ ہونا چاہتا ہے ،کوئی کسی اور نظریئے سے انلائٹنڈ ہونا چاہتا ہے ۔
کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ،کسی انلائٹمنٹ کی ضرورت نہیں ہے ،آرام سے سکون کے ساتھ خود کو دیکھیں ،خود کو سمجھیں ،سب کچھ کلئیر ہوجائے گا کہ آپ کون ہو ؟

جب انسان جان جاتا ہے کہ اسے کہیں پہنچنا ہی نہیں ہے ،جہاں پر وہ ہے ،وہی پر سچ ہے ،تو سارے مسائل حل ہوجاتے ہیں ،جہاں پر آپ ہو ،وہی پر خدا ہے ،جہان پر آپ ہو وہی پر سچ ہے ،یہ کب معلوم ہوگا جب ہم سیلف ڈسکوری کریں گے
ہمیں سچ تک پہنچنے کے لئے کسی تھاٹ کی ضرورت نہیں ،جب خود کو جان جاو گے تو خود بخود ہی جان جاو گے کہ تم کیا ہو ۔تھاٹس کی بنیاد پر ہی تو ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جاتے ہیں ،ایک نظریہ کو چھوڑ کر دوسرے نظریئے میں گھستے ہیں ،کیا strugglle ختم ہوئی ؟
Thoughts are the never ending process,its a cycle
یہ تھاٹس انسان کو گھماتے ہی رہتے ہیں ۔
ہم تھک چکے ہیں ،فریسٹریٹ ہوچکے ہیں ،نظریات اور تھاٹس نے ہمیں تھکا دیا ہے ،بے سکونی ،بے چینی ختم ہی نہیں ہورہی ،سمجھ ہی نہیں آرہی کیسے بے سکونی کا خاتمہ ہوگا ،خود کو جانیں گے تب ہی restlessness سے نجات ملے گی
Self discovery is the end of the spirituality
ہمیں لگتا ہے کہ ہم قید میں ہے ،اس قید سے ہمیں آزادی چاہیئے ،سچ کیا ہے کہ میں قید میں ہوں ہی نہیں ،میں مکمل آزاد ہوں ،یہ کب سمجھ آئے گی جب ہم خود کو سمجیں گے ،ہمارے اندر ہی سب کچھ ہے ،لیکن ہم سب کچھ تلاش باہر کررہے ہیں ،سارے خزانے ہمارے اندر ہی ہیں ،لیکن ہم خزانے باہر تلاش کررہے ہیں

آج تک آپ نے جو بھی سنا ہے ،جو کچھ پڑھا ہے ،جس بھی بیلیف کو مانتے ہیں ،جس بھی نظریئے کے پیروکار ہیں ،ان سب پر کوئیشن مارک لگا دو ،نہ یہ کہو کہ یہ غلط ہے اور نہ کہو کہ یہ سچ ہے ،بس نیوٹرل ہوجاو ،خود کو دیکھو ،نیوٹرل ہو کر ،پھر آہستہ آہستہ اپنے اندر گہرائی میں اترتے جاو ،سچ سامنے ہوگا
ہم کیوں غلام ہیں ،کیوں قید میں ہے ،کیوں بے سکون ہیں ،کبھی سوچا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سب نے کچھ نہ کچھ پکڑ رکھا ،کسی کا کچھ بیلیف ہے تو کسی کا کچھ ،کسی کا ایک نظریہ ہے تو کسی کا دوسرا ،سب نے کچھ نہ کچھ پکڑ رکھا ہے ،اسی پکڑنے کی وجہ ہی سے تو مسائل ہیں ،جو کچھ بھی پکڑ رکھا ہے ،سب چھوڑ دو ،خود کو دیکھو ،deapth مین جاو ،دیکھو وہ ہے سچ جو آپ کے دل کا بھی دل ہے ،جسے کوئی خدا کہہ رہا ہے تو کوئی بھگوان کہہ رہا ہے
ہم سچ کہاں تلاش کررہے ہیں کہانیوں میں ،سچ کہانیوں میں نہیں ہے ،سچ ہمارے اندر ہی ہے ،لیکن ہماری عادت کہانیاں سننے کی ہے ،
یہ ساری دنیا means میں اور اینڈ میں کنفیوز ہے ۔means کو اینڈ بنالیا ہے،روپیہ پیسہ زریعہ ہے ،پیسہ کمانا ایشو نہیں ہے ،پیسہ کو اینڈ گول سمجھ لینا مسئلہ ہے
پیسہ آپ کو چاہیئے کس لئے کے آپ پیفل طریقے سے کمفارٹ لائف جیو ،کمفارٹ لائف کا مقصد کیا ہے کہ میں خود کو جان سکوں ،خود کی انکوائری کر سکوں کہ میں کون ہون؟

ہم سب کی زندگی کا ultimte گول کیا ہے ،خود کو سمجھنا
Understanding the self


شیئر کریں: