ہم نفسیاتی ہیں

شیئر کریں:

تحریر : محمد امنان

بھئی ایسا کیا ہو گیا ہے کہ ملک عزیز میں موجود ہر دوسرا شخص خود کو طاقتور دکھانے کے جتن کر رہا ہے۔ ایک دوسرے کو فرضی شریک یا دشمن گردان کر اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کی جا چکی ہیں۔ اور اس ان دیکھی دشمنی کا اندازہ شاید کسی کو نہیں ہے کہ اس سے شروع ہونے والی آگ کہاں تک جلا سکتی ہے اور آئندہ آنے والے وقتوں میں کیا ہونے جا رہا ہے۔

مقبول ٹک ٹاک ایپ اور ملکی سیاست اور حالات کچھ زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ ہماری قوم ہمیشہ سے انٹرٹینمنٹ کو ترستی رہی ہے۔بھئی بیروزگاری اور مہنگائی کی عفریت چار سو پھیلی ہو گی تو کوئی کیسے تفریح حاصل کر سکے گا۔ لیکن ہماری قوم کے سیانے اور نیانے سب ہی افلاطون اور اپنی ذات میں دانشور ہیں تو اسکا طریقہ بھی ہم نے ڈھونڈ نکالا ہے۔

آپ ٹک ٹاک ایپ کو دیکھنا شروع کر دیں۔ٹک ٹاک پہ موجود نام نہاد ستارے اور خود کو فیشن کا کرتا دھرتا ماننے والوں کی بھیڑ لگ رکھی ہے۔ سستے ترین سٹنٹس اور سستی باتوں کا ایک بازار لگ رکھا ہے۔

ناکام جلسے اور ریاست

ہر شہر کا فرد جو ٹک ٹاک پہ موجود ہے اپنے شہر کو سب شہروں سے بہتر ثابت کرنے کے لیے دوسرے شہروں کے باسیوں کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دے رہے ہیں۔ اور یہ مقابلے چل سو چل شروع ہیں۔ ان ویڈیوز کے کمنٹس میں جائیں تو وہاں بھی غلاظت اور ننگ دھڑنگ لفظوں کے انبار آپکو مل جائیں گے۔ سیاست کی بات کروں تو سیاست میں آجکل ہمارے نئے اور پرانے سب صحافی مختلف سیاسی جماعتوں اور حکومت کے ترجمانوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

یوٹیوبرز سے عمران خان کی ملاقات اس سے پہلے بھی ہوتی رہی ہے عمران خان کو مین اسٹریم میڈیا حکومت میں آنے کے فوری بعد زہر لگنا شروع ہو گیا تھا۔ کسی حد تک عمران خان کا گلہ میڈیا سے جائز بھی تھا کیونکہ مالکان اپنے مفادات کی خاطر اینکرز اور رپورٹرز کو مجبور کر کے حکومت کی منجی ٹھوکنے میں مصروف تھے میڈیا مالکان کا حقہ پانی بند ہوا تو اینکرز جو کبھی غیر جانبدار تھے انہوں نے بھی جانبداری کا علم اٹھا لیا اور ٹک ٹاک کی طرح یہاں بھی اخلاقی گراوٹ کا بازار گرم ہو گیا۔

عوام پریشانی سے بدحال اور وزیر اعظم سے وزرا تک نیٹ فلیکس پر مصروف

یوٹیوبرز کی تنقید مین اسٹریم میڈیا اینکرز کو ہضم نہیں ہو رہی کیونکہ یہ وہی بڑے اور امیر اینکرز ہیں جو آج تک اپنے ساتھی ورکرز کے لیے آواز نہیں اٹھا پائے اور ہمیشہ سے آج تک اپنے مفادات پر کام کرتے رہے۔

لیکن یوٹیوبرز کی طبعیت کچھ ایسے خراب ہوئی کہ عمران خان کی مدح سرائی میں وزیر اعظم ہاوس تک رسائی اور پروٹوکول ملنا شروع ہوا تو یہ احباب بھی سنئیرز کے احترام اور اخلاقی حدوں کو بھول گئے اور دونوں جانب سے لفظی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔

ملکی سیاست میں آجکل براڈشیٹ کے چرچے ہیں حکومتی مشیران و ترجمان دن رات براڈشیٹ کے سربراہ کے بیان کو نواز شریف کے خاندان کی شکست کے طور پہ ثابت کرنے کو دن رات ایک کئے ہوئے ہیں تو اپوزیشن بھی عمران خان سمیت شہزاد اکبر کو براڈشیٹ کی جانب سے رگڑا دئیے جانے کی گردان کر رہے ہیں کیسی کسمپرسی اور مجبوری ہے حکومت اور اپوزیشن کی کہ تیسرے شخص کی روز کی نئی باتوں پہ ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنے کو آ رہے ہیں
براڈ شیٹ کے مالک نے طاقتوروں کی جانب بھی ‘کٹ’ مانگے جانے کا الزام اچھالا ہے ، خیر

کشمور واقعہ پر صحافیوں‌ اور سوشل میڈیا کا غیر سنجیدہ رویہ

آپ کسی بھی شعبہ میں نظر دوڑا لیں۔ حکومت ، اپوزیشن ، میڈیا ، سوشل میڈیا، عوام، خواص، موجود ، فوت شدگان یا کسی بھی شعبے میں نظر دوڑا کے دیکھیں تو آپ کو ہر جگہ پہ دو گروپ مل جائیں گے جن کی آپس میں کسی نہ کسی بات پہ دشمنی ہے اور روزانہ ایک دوسرے کو نیچا دکھا کر سونے کے بعد یاجوج ماجوج کی طرح اخلاقی امن و سلامتی کی دیوار چاٹ کر گرا کر سوتے ہیں اور اگلے دن پھر سے وہی ڈرامہ چالو ہو جاتا ہے

حکومت عوام کو بھولی بیٹھی ہے، اپوزیشن ملکی مسائل کی نشاندہی کرنا بھول گئی اور صحافی صحافت کا مقصد بالائے طاق رکھ کر ترجمان بن گئے ، عوام اخلاقیات سے عاری ہو چلی اور ہمیں خدشہ ہے کہ واٹس ایپ ہماری پرائیویسی لیک کر دے گا

یہ سب تو ہم نے خود اپنے ہاتھوں اور اعمال سے کر دیا ہے اسکے لیے تھرڈ پارٹی کی کیا ضرورت ہے
سوچئیے اور وجہ تلاش کیجئے۔


شیئر کریں: