ہم سیاسی وابستگیوں میں‌ کس قدر اندھے ہو گئے ہیں

شیئر کریں:

تحریر محمد امنان

ملکی سیاسی صورت حال کو سمجھنے والے اس وقت کافی محظوظ ہو رہے ہوں گے۔
گوجرانوالہ سے شروع ہونے والے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے جلسے نے روایت برقرار رکھی
اور کراچی میں بھی کچھ نیا دے دیا بحث کے لیے۔

کراچی کا جلسہ بقول حکمران جماعت فلاپ ترین تھا بندے کم تھے۔
بقول وزراء
مکمل فلاپ شو تھا،کراچی کا ۔ سینیٹر فیصل جاوید
سب نے تقریروں میں الگ الگ باتیں کیں۔ شبلی
یہ ابو بچاو جلسہ تھا ۔ حماد اطہر
یہ پھر پاوں پکڑ کر این آر او لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ شہباز گل
مریم کا سافٹ وئیر لگتا ہے اپ ڈیٹ ہوگیا۔ معاون خصوصی
کراچی والوں نے شعبدے بازوں کو پھر رد کردیا ۔ خرم شیر زمان۔ ایسا کچھ کہنا تھا سبھی وزراء کا۔

جب سے پی ڈی ایم نے جلسے شروع کئے ہیں روزانہ کی بنیاد پہ چار پانچ وزراء مختلف اوقات میں ایک ہی طرح کی تقریر کر کے میڈیا اسپیس گھیرتے ہیں۔ لیکن شاید ان کی تشفی نہیں ہو پاتی کیونکہ اپوزیشن کے پاس بھی ڈھیر سارے بولنے والے موجود ہیں جو حکومتی وزراء سے زائد سیاسی تجربہ رکھتے ہیں۔

مریم نواز کی گرفتاری کا خدشہ

کراچی جلسے سے قبل ن لیگ کی جانب سے مزار قائد پر جو حاضری دی گئی۔
اس میں مزار قائد کے تقدس کا خیال کئے بغیر ووٹ کو عزت دو وغیرہ وغیرہ کے نعرے مارے گئے۔
مزار قائد میں جنگلے پھلانگ کر داخل ہوا گیا جس کے بعد ایک نئی سیاسی بحث چھڑ گئی۔

سوشل میڈیا پہ میں نے بذات خود مریم نواز، کیپٹن(ر) صفدر، مریم اورنگزیب اور شاہد خاقان عباسی
کی موجودگی کی ویڈیو اپلوڈ کر کے باقاعدہ اس ہلڑ بازی کی مذمت کی تو میرے ہی کچھ صحافی
دوست تھے ان کے کمنٹس کچھ اس طرح تھے۔

کیا مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کے دوران بجائے جانے والے باجے سے تقدس پامال نہیں ہوتا؟؟

ماضی میں عمران خان کی مزار قائد پر حاضری کے دوران جو ہلڑ بازی ہوئی اسکو کیا کہیں گے آپ؟؟

14 اگست پہ جو عوام مزار قائد کی دیواروں پہ چڑھ جاتے ہیں اس سے بے حرمتی نہیں ہوتی؟؟؟ وغیرہ وغیرہ

تو میں خاموش سا ہو کر سوچنے لگا کہ ہماری سوچ کس قدر شدت پسند ہوتی جا رہی ہے کہ سیاسی
مخالفت میں ایک غلط اقدام کو بھی سپورٹ کرنے سے گریز نہیں کرتے ہم اب۔

کیپٹن(ر) صفدر ضمانت پہ رہا ہو گئے اس سارے معاملے میں سندھ حکومت اپنی پوزیشن ہی کلئیر نہ کر پائی ہے۔

وزیراعظم نے میرا ایکسیڈنٹ کروانے کی منصوبہ بندی کی ہے، خواجہ آصف

سندھ حکومت سے یاد آیا جلسے میں خواتین کو زبردستی روک رکھا تھا جیالوں نے کہ پنڈال خالی نہ ہونے پائے۔
اس خبر کو ہمارے ایک ساتھی صحافی سنجے سادھوانی نے ہائی لائٹ کیا تو میڈیا کی بے بسی پہ ٹسوے بہانے والی پیپلز پارٹی کے جیالوں نے سنجے کو دھو ڈالا نیل و نیل کر دیا جس کے بعد روایتی انداز میں سنجے سے رات گئے تک معافیاں مانگنے کا سلسلہ جاری رہا۔

اب یہ سچویشن عمران خان کے جلسوں میں بھی بنتی تھی جب جیو نیوز خان کے ٹائیگرز کی کرتوتیں بریک کر رہا ہوتا تھا جیو کو باقاعدہ غدار کہا جاتا رہا۔

خیر پی ڈی ایم کی دم توڑتی جسامت میں کھیلنے والوں نے اور خود موجودہ حکومت کے وزرا نے نئی روح پھونک دی ہے۔
عمران خان حسب سابق چھپانے والے ایشوز کو بیچ چوراہے چلا چلا کر خود ہی معاملات کو کسی اور جانب لے جا رہا ہے۔

تحریر لکھنے کا مقصد صرف یہ تھا کہ اپوزیشن جماعتوں اور عام پاکستانیوں سمیت سب کو بتانا تھا کہ
1۔بھائیو محسنین کی قبریں عزت و تکریم کے لئے ہوا کرتی ہیں نہ کہ قبریں چڑھ کر سیاسی نعرے بازی کرنے کے لئے
2۔ صحافی ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ وہ حقائق سے عام عوام کو آگاہ رکھے کسی بھی جلسے جلوس کی
میزبان سیاسی قیادت کا ترجمان نہیں ہوتا صحافی کہ وہاں ہونے والی صرف اچھی چیز کو دکھائے
جو غلط ہو رہا ہے وہ بھی دکھانا ضروری ہوتا ہے

ثابت یہ ہو رہا ہے کہ خواہ اپوزیشن ہو یا حکمران جماعتیں یا حکمران اس ملک لگ ایسا رہا ہے کہ
سب کا اصل مسئلہ میڈیا ہے۔

اور ہم سیاسی وابستگیوں میں اس قدر اندھے ہو چکے ہیں کہ مزار قائد پہ ہونے والی بد تمیزی
کو بھی مختلف حیلوں بہانوں اور توجیہات سے ڈیفینڈ کر رہے ہیں

ایسے نہیں چلتا


شیئر کریں: