ہاں میں بلیک میلر ہوں

شیئر کریں:

تحریر نوید احمد
اپنے حق کے لئے آواز اٹھانا بلیک میلنگ ہے تو میں بلیک میلر ہوں۔ ایک مظلوم کی آہ بلیک میلنگ ہے
تو میں بلیک میلر ہوں، ریاست سے اپنی جان کا تحفظ مانگنا بلیک میلنگ ہے تو ہاں میں بلیک میلر ہوں۔

وزیراعظم صاحب 6 دن سے لہو جما دینے والی سردی میں سڑک پر بیٹھے انصاف کے متلاشی مظلوموں کا
صرف اتنا سا ہی تو مطالبہ ہے کہ آپ ان سے آکر ملیں ان کی گزارشات سنیں 2013 سے آج تک جس طرح
ان کی نسل کشی کی جارہی ہے وہ صرف اس پر آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں وہ اپنے پیاروں کی لاشیں لئے
انصاف کے منتظر ہیں وہ آپ کے منتظر ہیں انہیں آپ کی بھیجی گئی رقوم کی کوئی ضرورت نہیں وہ صرف
اپنے خون کا حساب مانگ رہے ہیں۔

پاکستان میں ہزارہ برادری کہاں‌ سے آئے؟

سانحہ کچ میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کے لئے مسلمان ہونا ضروری نہیں اس
ظلم کیخلاف آواز اٹھانے کے لئے صرف انسان ہونا ہی کافی ہے یہ تو پھر ہمارے مسلمان بھائی جنہیں
ظالم و سفاک دہشت گردوں نے بے رحمی سے ذبح کرڈالا۔

آپ کے معاون خصوصی ذلفی بخاری اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال صاحب فرماتے ہیں کہ وزیراعظم
کے آنے سے کیا ہوگا وہ کیا کریں گے کیا ریاست کے سربراہ کی حیثیت سے آپ کا یہ فرض نہیں کہ مظلوموں

کے سر پر ہاتھ رکھیں انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ ریاست پاکستان دکھ کی اس گھڑی میں ان کے ساتھ ہے۔
ان مظلوموں کا صرف اتنا ہی قصور ہے کہ ان کا تعلق اس ملک کی اس برادری سے ہے جس کو ایک تسلسل کے ساتھ سفاکیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے مظلوم چاہے جو بھی ہو اس کی آواز عرش ہلا دیتی ہے۔

ڈریں اس دن سے جب ان مظلوموں کی آہیں قہر بن کر آپ پر ٹوٹیں گی ریاست کے والی کی حیثیت سے بیشک آپ ان کی آہ و بکا کو بلیک میلنگ سے تعبیر کریں لیکن اس کائنات کا والی ضرور ان کی آہ وبکا سنے گا وہ ضرور ان کو انصاف دے گا روز قیامت تو ان دہشت گردوں کا جو حساب ہوگا وہ ہوگا لیکن اس دنیا میں آپ بھی اس کا حساب دیں گے حکومت وقت میں شامل ہر اس طاقتور انسان کو جواب دینا ہوگا جو آج اس ظلم پر خاموش بیٹھا ہے۔


یہ کون سی روحانیت ہے جو مظلوموں کا دکھ درد باںٹنے سے روکتی ہے یہ کون ساعمل ہے جس نے آپ کو ان مظلوموں کے جنازوں کی موجودگی میں جانے سے روکا اپنی گھریلو روحانیت کو اگر گھر تک محدود رکھیں تو اچھا ہے

کوئٹہ میں ہزارہ برادری کا 5 دن سے لاشوں کے ساتھ احتجاج جاری، سانحہ مچھ کے خلاف ملک بھر میں دھرنے

آپ بنی گالہ یا پی ٹی آئی کے نہیں مملکت خداداد پاکستان کے وزیراعظم ہیں اور مظلوموں کے دکھ درد بانٹنے ان کے سر پر ہاتھ رکھنے ، ظالم کیخلاف آواز اٹھانے اس کے ہاتھ کاٹنے سے بڑی کوئی روحانیت نہیں ہے اسی گھریلو روحانیت نے آپ کو آپ کے عزیز ترین دوست نعیم الحق کے جنازے میں جانے سے روکا اسی گھریلو روحانیت کی وجہ سے آپ اپنے کزن کے جنازے میں شریک نہ ہوئے اور اب یہ مظلوم بھی آپ کی راہ تک رہے ہیں اللہ پر یقین رکھیں جس نے آپ کو اس مںصب پر فائز کیا ہے جب تک وہ چاہے گا آپ اس پر براجمان رہیں گے اور جب اس نے رسی کھینچی تو آپ کی داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں
آپ کے آج کے بیان نے ان مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے نمک پاشی کی ہے اگر انصاف مانگنا بلیک میلنگ ہے اپنا حق مانگنا بلیک میلنگ ہے تو اس ملک کے 22 کروڑ عوام بلیک میلر ہیں آپ کو ووٹ دینے والا ایک ایک ووٹر بلیک میلر ہے اس ملک کا ہر مظلوم بلیک میلر ہے۔


شیئر کریں: