گھوگھے ڈولے کی قدیمی نیاز

شیئر کریں:

ڈیرہ اسماعیل خان سے توقیر زیدی

ماہ محرم الحرام جہاں اور بہت ساری روایات کا امین ہے وہیں اس مہینے میں لنگر اور نذر و نیاز
کا بھی خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔ ملک بھر میں بھی محرم الحرام بطور نذر و نیاز اور لنگر
حسینی میں بہت ساری چیزیں بانٹنے کا رواج عام ہے۔
مگر ان نیازوں میں ایک قدیمی نیاز گھوگھے ڈولے یا گھو گے پھیلیاں کی نیاز کو خاص اہمیت حاصل
ہے۔ گھوگھے ڈولے کی قدیمی نیاز کیا ہے اور اس نیاز کی روایت پاکستان کے کن شہروں میں
برقرار ہے۔

دنیا بھر میں نواسہ رسول اور شہدائے کربلا کی یاد میں محرم الحرام میں مجالس، جلوسوں کے ساتھ جگہ جگہ لنگر اور نیاز کی تقسیم کا سلسلہ بھی شروع رہتا ہے یہ سلسلہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا قدیم مجالس اور جلوس کا اہتمام ہے۔ سیدالشہدا کربلا کی یاد میں کئی سو سال سے جاری لنگر، نذر و نیاز کے اس سلسلے میں نہ صرف اہل تشیع بلکہ ہر مکتب فکر کے لوگ بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں۔ یوں تو محرم الحرام میں بطور لنگر، نذر و نیاز میں بہت ساری چیزیں بانٹنے کا رواج عام ہے۔ جن میں بریانی، نان حلیم، چکن قورمہ، مٹن، دال روٹی۔ چائے اور حلوے کی دیگیں، کھیرمکس، پھل فورٹ سمیت جا بجا پانی، مشروبات اور دودھ کی سبیلیں لگانا عام ہے۔ مگر ان نیازوں میں ایکانتہائی قدیمی نیاز گھوگھے ڈولے کی نیاز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ گھوگھے ڈولے نیاز کربلا کے سب سے چھوٹے شہید امام حسین علیہ السلام کے شہزادہ علی اصغر سے منسوب ہے۔

گھوگھے ڈولے یا گھو گے پھیلیاں بنیادی طور پر سرائیکی زبان کا لفظ ہے۔ گھوگھے ڈولے مٹی کے بنے ہوتے ہیں جن میں ایک گھڑے کی شکل نما برتن جس کو گھوگا اور ایک مٹی کی چھوٹی سی پلٹ ہوتی ہے جس کو پھیلی کہا جاتا ہے۔ ان گھوگے پھیلیاں کو نیاز سے ایک روز قبل صاف ٹھنڈے پانی میں رکھا جاتا ہے تاکہ مٹی کے یہ چھوٹے برتن مضبوط ہو جائے بعد میں گھڑے نما گھوگھے میں ٹھنڈا شربت ملا دودھ ڈالا جاتا ہے جبکہ چھوٹی پلٹ جس کو پھیلی کہا جاتا ہے اس میں خشک میوہ جیسے بادام، چھوہارے اور رنگ برنگے میٹھے چاول، کھیر، کسٹرڈ ڈال کر معصوم بچوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

کربلا کے ننھے شہید علی اصغرؑ کا یوم

گھوگھے ڈولے کی یہ قدیمی نیاز صرف پاکستان کے سرائیکی علاقوں میں کی جاتی ہے جن میں ملتان، بھکر، دریاخان اور بالخصوص ڈیرہ اسماعیل خان شامل ہے۔ چونکہ یہ نیاز کربلا کے سب سے چھوٹے شہید ننھے علی اصغر سے منسوب ہے اس لئے اس نیاز کا اہتمام صرف خواتین اپنے گھروں میں کرتی ہیں اور معصوم بچوں میں یہ نیاز تقسیم کی جاتی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں گھوگھے ڈولے کی قدیمی نیاز 8 یا 9 محرم کوبچوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔ معصوم بچے اس نیاز کی تقسم پر فخر محسوس کرتے ہیں کہ وہ کربلا کے کمسن شہید سے منسوب کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ بچے خود گھگے بھر بھر کے پیتے اور پیلاتے بھی ہیں۔ چھوٹے چھوٹے برتنوں کو ہاتھ میں لیے بچے اپنی اس دلی خواہش کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ کاش وہ بھی کربلا میں ہوتے تو ان برتنوں میں شہزادہ کے لیے پانی کا بندوبست کرتے۔


شیئر کریں: