گوجرانوالہ ریلی کے دوران تصادم کا خدشہ

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

ملک میں سیاسی پارہ عروج پہ پہنچ گیا اور پی ڈی ایم کی قیادت نے گوجرانوالہ جلسہ روکنے
کے تمام انتظامی ہتھکنڈے ناکام بنانے کا اعلان کردیا۔

مریم نواز جاتی عمرہ سے نامعلوم قیام گاہ پر منتقل ہو چکی ہیں۔
لاہور سے گوجرانوالہ کے لئے مریم نواز کی مجوزہ ریلی کے دوران مریدکے میں لیگی کارکنوں اور
پولیس میں تصادم ہوجانے کی اطلاعات ہیں۔

“نون لیگ” پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ کی درخواست ضمانت پر آج عدالت کے فیصلے کی روشنی
میں اپوزیشن رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن بارے فیصلے کا امکان ہے۔

گوجرانوالہ جلسہ کی “دلہن”

ذرائع کے مطابق 16 اکتُوبر کے جلسے کی “دُلہن” مریم نواز جلسہ سے قبل ممکنہ گرفتاری سے بچنے کی
غرض سے لاہور کے رائے ونڈ روڈ پر اپنی رہائش گاہ ‘جاتی عمرہ’ سے کسی نامعلوم مقام پر شفٹ ہو
چکی ہیں جو امکان ہے کہ جمعہ 16 اکتُوبر کو بعد دوپہر جاتی عمرہ کے باہر قابل زکر تعداد میں
پارٹی کارکنوں کے جمع ہوجانے کے بعد اچانک جاتی عمرہ پہنچ جائیں گی۔

شہباز شریف کے باتھ روم میں کیمرے لگا دیے گئے

دوسری طرف خفیہ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مریم نواز کی زیر قیادت لیگی کارکنوں لاہور سے
گوجرانوالہ کے لئے ریلی جب مریدکے پہنچے گی تو اچانک کارکنوں اور پولیس کے مابین پرتشدد
جھڑپ پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لیگی قیادت نے ایک اسپیشل ٹیم بنائی ہے جو مریم نواز کی ریلی کے
راستے میں کسی بھی وقت پولیس پر پتھراؤ سے نیب آفس لاہور کا واقعہ دہرا سکتی ہے۔

مشتعل پولیس کے جوابی پتھراؤ سمیت بپھری پنجاب پولیس کے ممکنہ مسلح جوابی اقدام کے نتیجے
میں کسی بھی طرف سے ہلاکت عمل میں آنے کی اطلاع سے جلسہ گاہ میں اشتعال پھیل سکتا ہے۔

رانا ثنااللہ گرفتار کر لیے جائیں گے؟

دریں اثناء آج مسلم لیگ (ن) پنجاب کے “کمانڈر” رانا ثناء اللہ کی ضمانت میں اگر مزید توسیع نہ
ہوئی تو ان سمیت متعدد اہم اور مرکزی لیگی لیڈروں کو 2 روز کے لئے تحویل میں لے لیا جانا
بھی خارج از امکان نہیں۔

دوسری طرف جہاں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2 روز قبل کاکول اکیڈمی میں اپنے خطاب
میں حکومت کی حمائت جاری رکھنے کا تفصیلی بیان دے کر مولانا فضل الرحمن اور کیپٹن (ر) صفدر
کی ان دھمکیوں کو رد کیا تھا کہ فوج نے عمران خان حکومت کی پشت پناہی نہ چھوڑی تو کور کمانڈروں
کے گھروں کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔

وہیں مولانا فضل الرحمن نے بدھ کے روز چارسدہ میں ایک اجتماع سے خطاب میں مقتدر قوتوں کو
مزید سخت دھمکی “لگا” دی ہے جس سے مقتدرہ اور اپوزیشن قوتوں کے مابین ماحول میں کشیدگی
بڑھ گئی ہے۔

منحرک لیگی ایم پی اے کہاں غائب ہو گیا؟

ذرائع کے مطابق چونکہ ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز
کا جمعہ 16 اکتُوبر کو گوجرانوالہ میں پاور شو مقتدرہ یعنی موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ ساتھ اپوزیشن
کے لئے بھی اعصابی جنگ بن چکا ہے۔

اس لئے طرفین اسے ناکام اور کامیاب بنانے کے لئے اپنی اپنی پوری توانائیاں صرف کئے ہوئے ہیں جبکہ جلسے
کے حق میں روز بروز بڑھتی ہوئی دباؤ کی فضا میں اسی روز گوجرانوالہ میں مخالفانہ ریلی کا اعلان کرنے
والے “نون لیگ” سے نکالے گئے سابق ایم پی اے اشرف انصاری ایک بڑھک مارنے کے بعد سے منظر
سے غائب ہیں۔

گوجرانوالہ جلسہ میں‌ مریم نواز کی تقریر زہریلی نہیں‌ ہو گی


شیئر کریں: