گوجرانوالہ جلسہ میں‌ مریم نواز کی تقریر زہریلی نہیں‌ ہو گی

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عثمان

“نون لیگ” نے اسٹیبلشمنٹ کو یقین دلایا ہے کہ 16 اکتُوبر کو گوجرانوالہ میں مریم نواز کے
جلسے میں حساس اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کی جائے گی۔
سیاسی ٹمپریچر میں تیزی سے اضافے اور ماحول میں روز بروز بڑھتی کشیدگی کے باعث
گوجرانوالہ جلسے کا انعقاد غیر یقینی صورت حال کا شکار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

اداروں کو یقین دہانی کرادی گئی ہے

ذرائع کے مطابق 2 روز قبل ایک اہم سرکاری شخصیت جب ملک کی دوسری طاقتور ترین
شخصیت ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید سے ملاقات کے بعد رخصت ہونے
لگی تو میزبان جرنیل نے جب اس سے کہا “باہر نکل کر ذرا دیکھتے جانا مجھ سے ملاقات کے
انتظار میں کون بیٹھا ہے” تو مہمان اہم شخصیت یہ دیکھ کر ششدر رہ گئی کہ جنرل صاحب
سے ملاقات کے منتظرین میں نواز شریف کے 2 کمانڈر مسلم لیگ کے مرکزی رہنما خواجہ آصف
اور سیکریٹری جنرل احسن اقبال شامل تھے۔

یوں ملک کی سب سے بڑی اور مقبُول اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) کے” جلاوطن ”
قائد نواز شریف کی ان ہدایات کی پہلی خلاف ورزی عمل میں آگئی۔

جس کی رو سے سابق وزیراعظم نے ایک ہفتہ قبل ہی پارٹی رہنماؤں پر اپنی پیشگی اجازت
کے بغیر اور خفیہ ملاقاتوں پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔
مبصرین کے سنجیدہ حلقوں میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا یہ اعلان محض ایک ڈھکوسلہ
تھا یا یہ خفیہ ملاقات پارٹی قائد کی پیشگی اجازت سے عمل میں آئی۔

ذرائع کا خیال ہے کہ “نون لیگ” کی پاکستان میں موجود قیادت پارٹی قائد نواز شریف کی علانیہ ہدایات کی پروا نہ کرتے ہوئے ملکی صورت حال کے زمینی حقائق کی روشنی میں فیصلے اور اقدام لے رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے دونوں مرکزی رہنماؤں نے حساس ایجنسی کے سربراہ سے ملاقات کرکے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ 16 اکتُوبر کو گوجرانوالہ کے جلسہ عام سے پارٹی رہنماؤں کی تقاریر میں قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کے خلاف کسی قسم کی اشتعال انگیز زبان استعمال نہیں کی جائے گی۔

کیا گوجرانوالہ جلسہ ملتوی کر دیا جائے گا؟

جوں جوں 16 اکتُوبر قریب آرہی ہے اس جلسے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کی فضا کے تناظر میں یہ بات بھی خارج از امکان نہیں کہ خود مسلم لیگ (ن) اسے ملتوی کرنے کا اعلان کر دے۔
کیونکہ “نون لیگ” کے پارٹی سے نکالے گئے سابق ایم پی اے اشرف انصاری کی طرف سے
16 اکتُوبر ہی کو گوجرانوالہ میں مخالفانہ ریلی نکالنے کے اعلان سے شہر میں تصادم کا
ماحول اور امن و امان کی صورت حال پیدا ہوجانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں اشرف انصاری قابل ذکر تعداد
میں آباد اپنی انصاری اور گوجر برادری کے ساتھ تصادم کی فضا اور لاء اینڈ آرڈر کا
مسئلہ پیدا کرسکتا ہے۔

اسد عمر کا بھائی محمد زبیر کس کا بندہ ہے؟

ادھر بتایا جاتا ہے کہ “نون لیگ” کے قائد نواز شریف نے اس وقت اپنا سر پکڑ لیا جب گزشتہ ہفتے
ایون فیلڈ لندن میں ان کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے دوران پارٹی رہنما پرویز ملک نے پارٹی
رہنما سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے حوالے سے ان سے کہا “میاں صاحب ! یہ آپ نے کس کو
اپنا ترجمان اپائنٹ کردیا ہے”۔

نوازشریف نے کہا “مجھے تو مریم نے کہا تھا یہ ہمارا اعتماد کا آدمی ہے”۔
پرویز ملک نے کہا “جناب ! یہ تو” ان” کا آدمی ہے” اس پر نوازشریف سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔
ذرائع کے مطابق پرویز ملک نے پارٹی قائد سے کہا آج کی صورت حال میں تو اس ذمہ داری کے لئے
انتہائی بھروسے کا بندہ چاہیئے جس سے نوازشریف نے مکمل اتفاق کا اظہار کیا۔

لندن کے دورے پر گئے ہوئے مسلم لیگ (ن) لاہور کے صدر ایم این اے پرویز ملک اور ان کی اہلیہ
شائستہ پرویز ملک ایم این اے نے چند روز قبل پارٹی قائد نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔


شیئر کریں: