گوبر اور پیشاب کے بعد گنگا سے کورونا کا علاج

شیئر کریں:

بھارت میں گائے کے گوبر اور پیشاب کے بعد اب گنگا سے کورونا کا علاج کرنے کا دعوی کر دیا گیا۔
بھارتی پروفیسر نے گنگا دریا کے پانی سے کورونا وائرس کے علاج کی انوکھی منتقل پیش کردی۔

مذہب، سائنس اور کرونا

بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق سول انجینئرنگ کے پروفیسر یو کے چودھری کا کہنا ہے کہ
دریاؤں کا پانی کورونا وائرس کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

دریائے گنگا کا پانی کورونا وائرس کو ختم کر سکتا ہے پروفیسر یوکے چودھری گنگا ریسرچ کے سینٹر کے بانی بھی ہیں۔

پروفیسر کا کہنا ہے گنگا کے پانی خاص اجزا پائے جاتے ہیں جو کورونا وائرس کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں۔
پروفیسر کے مطابق ہندوں کی مقدس کتابوں میں کہا گیا ہے کہ گنگا کا پانی بیماریوں کا خاتمہ کر سکتا ہے۔

بعد میں بھارتی سائنس دانوں نے بھی یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ گنگا کے پانی میں ایسے اجزا ہیں جو بیکٹریا
اور وائرس کو ختم کرنے میں اہم ہیں۔

دریائے گنگا کو ہندو مذہب میں پاک ندی کے طور پر جانا جاتا ہے۔
ہندوں کا ماننا ہے کہ گنگا کے پانی میں نہا کر وہ گناہوں سے پاک ہو جاتے ہیں۔

بھارت میں کورونا وائرس کا علاج دریافت

بھارت میں ہر سال لاکھوں لوگ دریائے گنگا کے پانی میں نہاتے ہیں۔

ہندو مذہب کے لوگ مرنے کے بعد اپنے پیاروں کی استیاں (باقیات) بھی اسی دریا میں بہا دیتے ہیں
تاکہ ان کے گناہ بخشے جائیں۔

اتنی بڑی تعداد میں ہندوں کے نہانے اور جلائی گئی لاشوں کی باقیات دریا میں بہانے کی وجہ سے
دریائے گنگا کا شمار دنیا کے آلودہ ترین دریاؤں میں ہوتا ہے۔

بھارتی پروفیسر کا دعوی دنیا میں ہندو مذہب کی جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔

کبھی بھارت میں گائے کے گوبر اور پیشاب کو کورونا کا علاج قرار دیا جاتا ہے
تو کبھی دریائے گنگا کے پانی کو کورونا کا علاج بتایا جاتا ہے۔


شیئر کریں: