گلگت میں الیکشن کے بعد حالات کشیدہ فوج سے مدد مانگ لی گئی

شیئر کریں:

گلگت بلتستان میں 15 نومبر کے انتخابات کے بعد صورت حال کشیدہ چلی آرہی ہے۔
محکمہ داخلہ نے وفاقی حکومت سے مزید نیم فوجی دستوں کی مدد طلب کر لی ہے۔

نیم فوجی دستوں کی مدد جی بی اے 3 اور جی بی اے 17 میں 22 نومبر کو ہونے والے
انتخابات کو پر امن بنانے کے لئے طلب کی گئی ہے۔

گلگت بلتستان انتخابات کے غیرسرکاری مکمل نتائج کی تفصیلات جانیے

22 نومبر کو جی بی 3 گلگت اور جی بی اے 17 دیامر کے تین پولنگ اسٹیشنز میں پولنگ ہو گی۔

دیامر میں بھی دھاندلی کا الزام، آزاد اور پی ٹی آئی امیدواروں میں تصادم کا خدشہ

خیال رہے گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے تیسرے انتخابات کے موقع پر پہلے ہی ملک بھر
سے پولیس کو طلب کیا گیا تھا۔
انتخابی نتائج اپوزیشن جماعتیں مسترد کر چکی ہیں اور مسلسل مظاہرے ہو رہے ہیں۔

یاد رہے گلگت بلتستان کے انتخابی حلقے جی بی ایل اے 21 میں یاسین پولیس کو گنڈائی
پولنگ اسٹیشن کا بیلٹ باکس ٹوٹی ہوئی حالت میں ملا تھا۔

جی بی ایل اے 21 کے گنڈائی پولنگ اسٹیشن میں 22 نومبر کو پولنگ ہو گی۔

جی بی ایل اے 21 میں مسلم لیگ ن کے غلام محمد کو چار ہزار 609 ووٹوں کے ساتھ کامیاب
قرار دیا گیا تھا۔

جی بی ایل اے 21 میں تین ہزار 686 ووٹوں کے ساتھ پی پی پی دوسری پوزیشن پر اور تین ہزار
181 ووٹوں کے ساتھ آزاد امیدوار تیسری پوزیشن پر رہی تھی۔

جی بی ایل اے 21 میں پی ٹی آئی ایک ہزار 761 ووٹوں کے ساتھ چوتھی پوزیشن پر رہی تھی۔
گلگت بلتستان کے چیف الیکشن کمشنر نے غذر تھری کے گنڈائی پولنگ اسٹیشن میں دوبارہ
پولنگ کا حکم دیا ہے۔

ایسے موقع پر بائیس نومبر کو بڑے پیمانے پر تصادم کا خدشہ ہے اسی لیے پیشی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
اب تک کے نتائج کے مطابق تحریک انصاف 9 سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر اور آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر ہیں۔


شیئر کریں: