گلگت بلتستان میں حکومت تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی بنائے گی؟

شیئر کریں:

رپورٹ نجم الحسن

گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کے لیے پولنگ جاری ہے عوام اپنے بہتر مستقبل کا
خواب لیے حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔

تحریک انصاف، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور مقامی جماعتوں نے ووٹوں کے حصول کے لیے
بھرپور مہم چلائیں۔
تمام ہی جماعتوں نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ کچھ زیادہ ہی عوام کو سبز باغ دیکھائے ہیں۔

مجلس وحدت المسلمین اور تحریک انصاف کے امیدوار اسکردو میں لڑ پڑے، پی ٹی آئی پر پیسے تقسیم کرنے کا الزام

سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ بھی رہا لیکن اب امتحان کے نتیجہ پر سب کی نگاہیں مرکوز ہیں۔
سب سے زیادہ انتخابی مہم پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے چلائی ہے۔
بلاول بھٹو 21 اکتوبر سے گلگت بلتستان میں پھرتے رہے اور لوگوں کو باہر نکالا۔

تحریک انصاف نے بھی اپنے وزیر علی امین گنڈا پور کو بھیجا جن کی تقریروں سے معاملہ بہتر
کے بجائے خراب ہوا۔

گنڈا پور کو واپس بلا کے وزیر اعظم نے زلفی بخاری اور مراد سعید کو میدان میں اتارا۔
اسی طرح مریم نواز بھی گلگت بلتستان بعد میں پہنچیں لیکن ان کے سخت گیر بیانے نے مسائل کھڑے کیے۔


مریم نواز بھی گلگت بلتستان میں‌ متحرک ہوئیں

مریم نواز نے کالعدم جماعتوں کے نمائندوں کو بھی گلگت بلتستان بلایا اور مزہب کا کارڈ استعمال کرنے
کی کوشش لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔


اسی لیے انہوں نے بلاول بھٹو سے سرینا ہوٹل میں انتخابی اتحاد کے لیے ملاقات کی۔
تحریک انصاف کو بھی موجودہ حالات میں مسائل کا سامنا ہے کیونکہ عوام ان کے دور حکمرانی
میں مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے عوام بلاول سمیت تمام بہروپیوں کو پہچانتے ہیں، راجہ ناصر

ساری صورت حال میں میدان پیپلز پارٹی کے پاس لیکن بدقسمتی سے کہتے ہیں وزیر اعلی مہدی شاہ
نے بھی اپنے دور میں عوام کے لیے کچھ نہیں۔

اس مرتبہ گلگت بلتستان کے عوام بھی سیانے ہو چکے ہیں وہ سب ہی کو آزما چکے ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ اس بار وہ اپنے سروں پر بلاول بھٹو کو دوبارہ بٹھاتے ہیں یا پھر مرکز میں جس کی حکومت
ہو اسی کو آزمائیں گے۔


شیئر کریں: