گجرات میں “لوجہاد” کے نام پر انتہاپسندوں‌ کی مسلمانوں پر مزید سختیاں

شیئر کریں:

بھاررت کی ریاست گجزات میں گئے ذبح کرنے اور ہندو لڑکیوں سے شادی (لوجہاد) سے شادی کرنے
والوں کے خلاف مزید سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلی وجے روپانی نے مویشیوں کے کاروبار سے وابستہ مل دھاری برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہا
کہ بھارتیہ جنتہ پارٹی کی حکومت گائے ذبحہ کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گجرات کی حکومت کی ہندو لڑکیوں کو محبت میں پھنسا کے شادی رچانے اور پھر
انہیں مسلمان کرنے والوں کو بھی نہیں چھوڑ رہی ہے۔ ایسے افراد کو نئے قانون کے تحت سخت
سزائیں دی جارہی ہیں۔

متنازع لو جہاد قانون کے خلاف بھارت میں آوازیں اٹھنے لگی

گجرات فریڈم آف ریلیجن اضافی ایکٹ 2021 اپریل میں پاس کیا گیا اور جون میں اسے نافذ کیا اس
قانون نے حکومت کو شادی کے ذریعے ہندوؤں لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرانے والوں کے خلاف حکومت
کو سخت سزاؤں کی اجازت دی ہوئی ہے۔

خیال رہے اس سے پہلے اتر پردیش کی حکومت نے بھی مسلمانوں خلاف کئی امتیازی قوانین ناٖفذ کر کے
انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ بھارت میں مسلسل مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی
سازشیں کی جارہی ہیں۔ نام نہاد سیکولر معاشرہ کو ہندتوا ریاست میں تبدیل کیا جارہا ہے جس
معاشرہ میں ہندوؤں کے سوا کسی اور کو جینے کا حق نہ ہوا۔

یہی وجہ ہے کہ تمام اقلیتیں اپنے حقوق کے لیے آوازیں اٹھا رہی ہیں۔ سکھوں کے بعد اب مسیح برادری
نے بھی آزاد ریاست کا مطالبہ کر دیا ہے۔


شیئر کریں: