کیا یوم آزادی پر صرف جشن، شور شرابا اور روائیتی پروگرام کافی ہیں؟

شیئر کریں:

یوم آزادی کی تقریبات ملک بھر میں صبح سویرے سے شروع ہو جاتی ہیں۔ 13 اگست اور 14 اگست کی
درمیانی شب کو چاند رات کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں نوجوان ٹولیوں کی
صورت سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

باالخصوص بڑے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں کی اہم شاہراہیں موٹرسائیکل اور
گاڑیوں سے بھری رات گئے تک بھری رہتی ہیں۔

یہ سب کچھ لوگ ملک سے محبت میں کرتے ہیں اس موقع پر شیعہ سنی، مہاجر پٹھان یا پنجابی سندھی
سب کچھ بھلا دیا جاتا ہے۔ حتی کہ امیر غریب کا فرق بھی مٹ جاتا ہے سب ہی مل جل کر آزادی
کا جشن مناتے ہیں۔

یہی وطن کی مٹی سے محبت کا تقاضا بھی ہے۔ یہ دن 14 اگست 1947 کو برطانیہ سے آزادی کی یاد دلاتا ہے۔ اس آزادی کی جدوجہد میں ہمارے آباؤ اجداد نے اپنی جانوں اور عزت و ناموس کی انگنت قربانیاں دی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا جوش و خروش اور ہماری حب الوطنی صرف سڑکوں پر ریلیاں نکالنے کا نام ہے؟
کیا ہم صرف شور شرابا اور گاڑیوں پر قومی پرچم لہرا کے اپنے پاکستان سے محبت کا ثبوت فراہم کرتے ہیں؟
کیا ہم نے کبھی سوچا پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھا؟
اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں ہم کیا گل کھلا رہے ہیں؟
قائد اعظم کی بڑی بڑی تصاویر مین شاہراہوں، گاڑیوں اور دفاتر میں لگا کے کیا ہم نے اپنی زمہ داری پوری کر لی؟
سرکاری دفاتر ہوں یا نجی سب ہی میں افسران کی بڑی بڑی کرسیوں کے پیچھے بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر آویزاں کی ہوتی ہیں۔ انہیں کی تصویر کے نیچے غیرقانونی کام کیے جارہے ہوتے ہیں۔

ہمیں اس دن اپنے قائد سے عہد کرنا ہو گا کہ ہم اس ملک کی ترقی اور بقا و سلامتی کے لیے پیش پیش ہوں گے۔ اپنے معمولی معمولی سے مفادات پر وطن عزیز سے عہد شکنی نہیں کریں گے۔
ہم محض کھوکھلے نعروں، سیمنار اور ویڈیو پیغاموں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عملی طور پر اپنے کردار اور روئیے سے ثابت کرنا ہوا کہ ہم سچے پاکستانی اور اپنے قائد اعظؐم کے فرمودات پرعمل کرتے ہیں۔


شیئر کریں: