کیا مائنس ون فارمولہ لاگو ہونے جارہا ہے؟

شیئر کریں:

تحریر:عامر حسینی

سپریم کورٹ کے حکم پر قائم سیپشل ٹربیونل کورٹ نے
سابق جنرل پرویز مشرف کو آئین معطل کرنے کا جرم ثابت
ہونے پر سزائے موت سنا دی ہے۔ سابق جنرل پرویز مشرف
کے خلاف تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد سپریم کورٹ میں نظر
ثانی کرنے کی اپیل دائر کرنے کے لیے تیس دن ہوں گے۔

سیپش ٹربیونل کورٹ نے چھے سال جاری رہنے والی سماعت
کے بعد جب فیصلہ محفوظ کیا اور اسے نومبر کے آخری ہفتے
میں سنانے کا فیصلہ کیا تو پی ٹی آئی کی حکومت نے اسلام آباد
ہائی کورٹ میں اس فیصلے کو رکوانے کی اپیل دائر کی جس کا
فیصلہ حکومت کے حق میں آیا- ٹربیونل نے فیصلہ تو نہ سنایا
لیکن وکیل صفائی اور اٹارنی جنرل پاکستان کو دلائل دینے کی
اجازت دی مگر جنرل مشرف کو بیان ریکارڈ کروانے کی اجازت
نہ دیتے ہوئے کیس کا مختصر فیصلہ سنادیا۔

جنرل مشرف کے خلاف آئین کی شق نمبر چھے کی خلاف ورزی
کے ارتکاب میں عدالت نے جنرل مشرف کو آئین شکن قرار دیتے
ہوئے، غدار قرار دیا اور سزائے موت سنائی تو اس فیصلے کے فوری
بعد جی ایچ کیو میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باوجوہ کی
صدارت میں کورکمانڈرز کا ایک خصوصی اجلاس اس معاملے پر
غور و فکر کے لیے طلب کرلیا گیا- ایک ایسے سابق جنرل کے لیے
جی ایچ کیو میں کورکمانڈرز کا اجلاس طلب کیا جانا جس نے پاکستان
کے آئین کو توڑ کر 12 اکتوبر 1999ء کو مارشل لاء لگایا ہو، اس
وقت کے چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی کو ان کے گھر سے عدالت
نہ جانے دیکر ان کو زبردستی معزول کیا ہو اور آمریت کو نہ مانننے والے
ججز کو جبری برخواست کیا ہو اور پھر دوسری بار آئین کو معطل کرکے
بطور چیف آف آرمی اسٹاف ایمرجنسی لگائی ہو اور انسانی حقوق غصب
کیے ہوں۔

جس پر سابق وزیر اعلا نواب اکبر خان بگٹی کے قتل کا مقدمہ چل
رہا ہو ایک غیر معمولی واقعہ تھا۔ اس اجلاس کے بعد مسلح افواج
کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے چیف آف آرمی اسٹاف
جنرل قمر باوجوہ کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کی گئی جس
میں اس فیصلے پر مسلح افواج میں سخت غم و غصّے اور بے چینی پائی
جانے کا دعوی کیا گیا- اسے بنیادی انسانی حقوق کا انکار اور انصاف کے
تقاضے پورے نہ کیے جانے سے تعبیر کیا گیا-

مسلح افواج کے کور کمانڈرز کی کانفرنس اور ان کے جاری کردہ
اعلامیے کو ملک بھر کے جمہوری،سیاسی،سماجی اور قانونی
حلقوں میں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا- اور جمہوریت
پسند سیاسی جماعتوں اور پاکستان بار کونسل سمیت ترقی پسند
وکلاء نے اسے فرد واحد کے لیے اداروں میں مبینہ محاذ آرائی کو
بڑھانے والا اقدام بھی قرار دیا گیا۔

آئی ایس پی آر کی متنازعہ پریس ریلیز سے یہ تاثر پختہ ہوا کہ
پاکستان میں اس وقت جو فوجی قیادت ہے وہ آئین میں موجود
اپنے کردار اور اپنے حلف میں موجود حدود سے تجاوز کرکے ایک
سیاسی پارٹی کی طرح کا کردار ادا کررہی ہے۔ اس پریس ریلیز
سے فوجی قیادت پر سیاسی عمل اور ریاست کے دیگر اداروں پر
اثر انداز ہونے کا جو الزام اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے لگایا
جاتا رہا ہے اس کی تصدیق ہونے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

غیر سرکاری تنظیم سجاگ کے سی ای او اور روزنامہ ڈان سے
وابستہ صحافی اور تجزیہ نگار طاہر مہدی نے سماجی رابطے کی
ویب سائٹ فیس بک پر آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ
پریس ریلیز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا،’ جنرل باوجوہ، جنرل فیض
اور میجر جنرل آصف غفور کو اپنے عہدوں سے مستعفی ہونا چاہئیے
تاکہ جس جمہوری نظام کے غالب آنے میں وہ روکاوٹ بنے ہوئے ہیں
وہ غالب آسکے۔’

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سابق صدر اور معروف
تجزیہ نگار مظہر عباس نے آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کو
افسوس ناک قرار دیا اور ان کا کہنا تھا کہ اگر سیپشل ٹربیونل
کورٹ کے فیصلے میں سقم ہے تو مشرف کے وکیل کو سپریم
کورٹ جاکر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرکے اس سقم کو
بیان کرنے کی ضرورت ہے ناکہ مسلح افواج کی قیادت اس معاملے
میں فریق بن جائے اور اپنے تئیں عدالت پر تنقید کرے جو اس کا
قطعی اختیار نہیں بنتا۔

سوشل میڈیا پر بھی پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان ادارے
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کے متن پر کافی شدید تنقید ہوئی
ہے اور کئی نامور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح
افواج کے ترجمان ادارے کی یہ پریس ریلیز ایک اور متنازع پریس
ریلیز ہے جس نے فوجی قیادت کے دوسرے اداروں میں مبینہ مداخلت
اور ایک سیاسی طاقت کے طور پر کام کرنے کے تاثر کو پختہ کیا ہے۔
ماضی میں ڈان لیکس،میمو گیٹ اسکینڈل،کیری لوگر بل، اسامہ بن
لادن آپریشن، ایرانی صدر کے دورہ پاکستان جیسے واقعات میں
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کو متنازع اور اختیارات سے تجاوز
قرار دیا گیا تھا۔

جنرل مشرف کیس میں پی ٹی آئی کی حکومت نے جس طرح سے
اسپیشل ٹربیونل کورٹ کے فیصلے کو رکوانے کی کوشش کی اور
پھر فیصلہ آنے کے بعد اٹارنی جنرل نے مشیر اطلاعات ڈاکٹر فردوس
عاشق اعوان کے ساتھ مل کر پی آئی ڈی میں پریس کانفرنس کے
دوران جو موقف اختیار کیا اس سے موجودہ حکومت کے جمہوریت
پسند ہونے، آئین کی بالادستی کے دعوؤں کو سخت دھچکا لگا ہے۔
اور یہ تاثر عام ہوا ہے کہ ملک میں جمہوریت کے نام پر مارشل لاء
ہے اور جمہوری منتخب عہدوں پر بیٹھے افراد کٹھ پتلی کے سوا کچھ
بھی نہیں ہیں۔

اسپیشل ٹربیونل کورٹ کے فیصلے کے آجانے کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی،
مسلم لیگ نواز، اے این پی، بلوچ اور پشتون قوم پرست پارلیمانی
جماعتوں، مذہبی جماعتوں میں جے یو آئی(ف)، جمعیت اہلحدیث پاکستان،
جماعت اسلامی پاکستان، تحریک اسلامی(تحریک جعفریہ پاکستان)،
حکومتی اتحادی جماعت بلوجستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے اس
فیصلے کو سراہا ہے اور اسے آئین اور جمہوریت کی بالادستی کے لیے
نیک شگون قرار دیا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سابق ائر مارشل شہزاد چودھری
جو اب پاکستان پیپلزپارٹی میں شامل ہیں انھوں نے ایک نجی
ٹی وی چینل کے ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے فیصلے پر
آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز کو جائز اور اس فیصلے پر
شدید تنقید کی ہے۔ سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی پی پی
کی مرکزی قیادت کے اس فیصلے پر تعریفی بیان کے بعد
شہزاد چوہدری کا ردعمل عجیب و غریب ہے۔

پاکستان کی فوجی قیادت چاہے وہ موجودہ ہو یا سابقہ
ہو وہ سابق جنرل پرویز مشرف کے ٹرائل کو لیکر پہلے
دن سے ‘حساسیت’ کا مظاہرہ کرتی آرہی ہے۔ جنرل مشرف
کے بقول ان کو نواز شریف دور میں علاج کے نام پر دبئی
بھجوانے میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا مرکزی
کردار تھا- اس زمانے میں آئی آیس پی آر کے ترجمان جنرل
عاصم باجوہ جو اب سی پیک کمیٹی کے چئیرمین ہیں نے
ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی
جوانوں میں مشرف کے ساتھ ہورہے سلوک کو لیکر بے
چینی پائی جاتی ہے۔

موجودہ حکومت کے وزرا میں سے فواد چوہدری تواتر سے
یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ جنرل مشرف کیس ہو یا جنرل قمر
باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ ہو اسے لیکر
عدالتوں اور اپوزیشن جماعتوں کا جو طرزعمل ہے اس سے
اداروں میں فاصلے اور تقسیم کا خدشہ ہے اور اب جنرل مشرف
کے خلاف خصوصی ٹربیونل کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے
ہوئے انہوں نے ٹوئٹ کیا ہے کہ ایسے فیصلے کا کیا فائدہ جس
سے اداروں میں تقسیم بڑھے۔

ادھر کئی ایک تجزیہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ 16 دسمبر کو
آرمی چیف کی تقرری کے معاملے پر عدالتی فیصلے اور 17 دسمبر
کو جنرل مشرف کے خلاف فیصلے نے موجودہ فوجی قیادت کے حوالے
سے خود فوج میں ایک مبینہ تقسیم کا اشارہ دیا ہے۔ ایسے تجزیہ
نگاروں کا کہنا ہے کہ عدالتیں فوج کے اندر سے حمایت کے بغیر
خود سے ایسے فیصلے صادر نہیں کرسکتیں۔ سوشل میڈیا پر
ایک حاضر سروس جنرل کا نام بھی گردش کررہا ہے جو جنرل
قمر باوجوہ کے بعد فوج میں سب سے سینئر جرنیل بتائے جاتے
ہیں۔ ان کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ جنرل قمر باوجوہ
کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں نہیں ہیں اور وہ
ڈی جی آئی ایس آئی کو بھی تبدیل کرنے کے حق میں ہیں-
اور ان کو کورکمانڈرز کے اندر بھی کئی ایک کی حمایت حاصل
ہے۔ ایسے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فوج میں جنرل قمر باوجوہ
سے اتفاق نہ کرنے والے افسران کے دباؤ کے تحت ہی میاں نواز شریف،
آصف علی زرداری سمیت اپوزیشن سیاست دانوں کی رہائی ممکن
ہوپائی ہے۔ اور اس فیصلے سے وزیراعظم عمران خان اور ان کے قریبی
لوگوں نے بادل نخواستہ اتفاق کیا اور ابتک عمران خان کے لہجے میں
جو تلخی اور سختی ہے وہ انہی فیصلوں کے سبب ہے۔

اٹارنی جنرل پاکستان کی پریس کانفرنس سے یہ بات تو سامنے
آگئی ہے کہ حکومت اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے
رجوع کرے گی اور جنرل مشرف کا دفاع بھی کیا جائے گا۔ خود
جنرل مشرف کے وکیل کی پریس کانفرنس سے بھی یہ اشارہ ملا ہے۔

آنے والے دنوں میں سپریم کورٹ کو چند اہم فیصلے کرنے
ہیں- ان میں سب سے اہم فیصلہ جنرل باجوہ کی تقرری کے
حوالے سے دیے گئے فیصلے کی تشریح کا ہے کیونکہ تفصیلی
فیصلے کے بعد اس معاملے کا پارلیمنٹ میں حل نظر نہیں آرہا۔
اسی طرح دوسرا اہم فیصلہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران
کے تعین کا ہے اور تیسرا اہم فیصلہ جنرل مشرف کی سزا پر
اپیل کا ہوگا۔

اس وقت اپوزیشن جماعتوں میں بالعموم اور پاکستان پیپلزپارٹی
و مسلم لیگ نواز میں بالخصوص یہ رائے پائی جاتی ہے کہ
پارلیمنٹ میں درکار قانون سازی میں اگر حکومت کو تعاون
درکار ہے تو اسے وزیراعظم تبدیل کرنا پڑے گا۔ جنرل باوجودہ
کی ایکسٹنشن کی راہ نکالنے کے لیے بھی اپوزیشن فوجی قیادت
کو بیک ڈور سے یہی پیغام پہنچا چکی ہے۔ بظاہر مائنس ون کی
طرف معاملہ جاتا ہوا لگ رہا ہے۔


شیئر کریں: