کیا ” فیض عام ” کام آئے گا؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

طاقتور ادارے کے عملیت پسند اور وزیر اعظم کے “خیر خواہ ” سربراہ نے چینی اسکینڈل کی
انکوائری سے اٹھنے والا ممکنہ سیاسی بھونچال روکنے کے لئے جو کوشش کی تھی اسے
نیب کے ایک اقدام نے اتھل پتھل کے رکھ دیا ہے۔

اوپر سے جہانگیر ترین کے بدترین مخالف وفاقی وزیر اسد عمر نے ذرائع کے مطابق انکوائری
کمیشن میں ٹھوک کے جہانگیر ترین کے خلاف بیان دے دیا۔
جس کے نتیجے میں کمیشن کی متوقع سخت رپورٹ سے صرف نظر کرنا یا اسے سرد خانے میں ڈالنا آسان نہیں ہوگا۔
رپورٹ میں ترین اور مونس الٰہی کی شوگر ملوں کے خلاف سفارشات آجانے کی صورت میں
” ترین چوہدری نیٹ ورک ” کی طرف سے پوری شدت کے ساتھ سخت ” سیاسی جواب ” کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم سے ملاقات سے قبل ایک اہم شخصیت نے چوہدری شجاعت حسین
اور جہانگیر ترین سے بھی ملاقات کی تھی۔

چوہدری شجاعت حسین سے وہ خود جا کر ملے اور جہانگیر ترین کو طاقتور غیر سیاسی
شخصیت نے گھر بلا کر ملاقات سے ” فیض یاب ” کیا۔
پھر وزیراعظم کو سمجھانے کے لئے ان سے ملاقات کی۔
اسی لئے جب نیب نے ” چوہدریوں ” کو حالیہ نوٹس بھیجے تو چوہدری برادران سکتے میں رہ گئے۔
نیب کا یہ اقدام چوہدریوں کے لیے اس قدر شاکنگ تھا کہ وہ سٹپٹا کہ رہ گئے اور یہ باور کر لینے پر
مجبور ہو گئے کہ ان کے ساتھ چھیڑ خانی چیئرمین نیب کے تعاون سے بنی گالہ کی طرف سے کی گئی ہے۔
یوں نیب نوٹسز کے محض ایک اقدام نے ” بیک فائر ” کا کام کیا اور جو ” حرکت ” پرائم منسٹر ہاؤس
مخالف سیاسی قوتوں کے ساتھ رابطوں اور مبینہ جوڑ توڑ کی کوششوں کی بنیاد پر
” چوہدریوں ” کو ڈرانے کے لئے کی گئی تھی اس نے الٹ اثرات و نتائج مرتب کرتے ہوئے اختلافات کی
چنگاری کو شعلہ بنا دینے میں دیر نہ لگائی۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ خود حکمران پی ٹی آئی میں متحارب سیاسی دھڑوں اور متوازی لابیوں کی
” سیاسی اوقات ” اور آئندہ سیاست کا دارومدار اب چینی اسکینڈل انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر ہے۔
برسر اقتدار جماعت میں اسد عمر کی سربراہی میں اس وقت غلبہ رکھنے والے ” کراچی گروپ ” کی
بالادستی کی بقا کا انحصار بھی کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر لائے جانے، تحقیقاتی کمیشن کی متوقع
دھانسو سفارشات اور ان پر فوری عملدرآمد پر ہی ہے۔

بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ہو سکتا ہے ملک میں حکمران جماعت میں بڑھتے ہوئے ٹوٹ پھوٹ کےعمل
اور برسر اقتدار اتحاد میں دراڑیں بھرنے کی اسٹیبلشمنٹ کی کوشش کو خود بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ
اور ضدی کپتان نے اپنی چال چل کے ناکام بنایا ہو۔
یوں اپنا ” فیض ” عام کرنے کے لئے ممکنہ متاثرین یا “مخالف فریق” سے ملاقاتوں میں اہم شخصیت نے
جو یقین دہانیاں کروائی تھیں ان کا اب یک طرفہ پاس کئے جانے کا کوئی زیادہ امکان نہیں۔


شیئر کریں: