کیا سندھ کے جنگلات بچ پائیں گے؟

شیئر کریں:

تحریر:عامر حسینی

سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک بنچ چیف جسٹس آف پاکستان چسٹس گلزار احمد کی
سربراہی میں صوبہ سندھ میں جنگلات کی کٹائی کے خلاف ایک کیس کی سماعت کررہا ہے-
اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں محکمہ جنگلات کی جانب سے جو دستاويزات
جمع کرائی جارہی ہیں ان سے کئی ایسے حقائق عیاں ہوکر سامنے آرہے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے
کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت سندھ کے جنگلات کی زمین کا تحفظ کرنے میں ناکام
رہی ہے-
میں اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو پیش کی جانے والی کچھ رپورٹس میں کئے گئے
انکشافات پڑھ کر ششدر رہ گیا-
اور میرے ذہن میں یہ سوال بھی کھڑا ہوا کہ کیا پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کی جو تنظیم ہے اور
اس کے جو عہدے دار ہیں انہوں نے یہ رپورٹس ملاحظہ نہیں کیں؟ کیا انہوں نے چئیرمین بلاول
بھٹو زرداری سے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ وہ محکمہ جنگلات اور محکمہ ریونیو کی طرف سے سندھ
کی زمینوں اور جنگلات کے ساتھ کھیلواڑ پر اعلی سطحی انکوائری کمیٹی بٹھائیں؟

سترہ نومبر 2017ء دی نیوز انٹرنیشنل سمیت کئی اخبارات میں خبر شایع ہوئی کہ سندھ کے
محکمہ جنگلات کے سیکرٹری سید آصف علی شاہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو محکمہ جنگلات
کے بارے میں ایک مفصل رپورٹ جمع کروائی ہے جس کے اہم نکات یہ ہیں:

سندھ جنگلات کی ایک لاکھ پنتالیس ہزار چار سو پچیس ایکڑ زمین پر قبضہ ہے-

جبکہ چونسٹھ ہزار چار سو ستانوے ایکٹر زمین محکمہ جنگلات سندھ کی منظوری
کے بغیر دوسرے محکموں کو الاٹ کردی گئی ہے-

سن 1971ء میں سندھ میں جنگلات کا رقبہ پانچ لاکھ ایکڑ تھا جو اب کم ہوکر صرف
ایک لاکھ ایکڑ رہ گیا ہے- اور یہ کل رقبے کا صرف اعشاریہ تین فیصد ہے جو بین الاقوامی
معیار 4 فیصد سے انتہائی کم ہے-

محکمہ ریونیو جنگلات کا رقبہ غیر قانونی طور پر دوسرے محکموں اور پرائیویٹ لوگوں
کو الاٹ کرنے میں مصروف ہے جس کے لیے کبھی محکمہ جنگلات سندھ سے اجازت نہیں لی
جاتی- اس طریقے سے 64000 ایکڑ زمین دوسرے محکموں اور پرائیویٹ پارٹیوں کو دے دی گئی ہے-

ستر ہزار ایکٹر زمین فاسٹرو-ایگری کلچر اسکیم کے تحت 35 ہزار افراد کو الاٹ کی گئی ہے
جنھوں نے لیز شدہ زمین کے پچاس فیصد حصّے پر جنگلات اگانے کی لازمی شرط کو پورا نہیں کیا-

اس سے پہلے 8 اپریل 2017ء کو روزنامہ ڈان میں شایع ہونے والی خبر میں بتایا گیا تھا
کہ محکمہ جنگلات سندھ کے حکام نے بتایا ہے کہ

کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے کو موٹر وے میں بدلنے کے لیے جاری کام کے ٹھیکے داروں نے
بنا اجازت کے نیم کے 2580 تناور درختوں کو کاٹ ڈالا ہے- اور غیر قانونی طور پر فروخت بھی کردیا ہے-

اپریل 2019ء میں بزنس ریکاڑر میں شایع خبر میں کیس کی سماعت کے حوالے سے بتایا گیا
کہ سیکرٹری سندھ جنگلات سید آصف علی شاہ نے عدالت کو بتایا کہ

کل 52 ہزار ایکٹر رقبے کی لیز منسوخ کردی گئی ہے اور خالی زمین پر محکمہ جنگلات شجر کاری
کررہا ہے-

جبکہ اٹارنی جنرل سندھ نے بتایا کہ دو لاکھ 42 ہزار ایکڑ زمین ناجائز قابضین کے قبضے سے چھڑائی
گئی ہے-

سندھ جنگلات کٹائی کیس کی تازہ ترین سماعت کے دوران محکمہ جنگلات سندھ کے وکیل نے
انکشاف کیا کہ کراچی بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین میں 3000 ایکڑ رقبہ محکمہ جنگلات کا ہے
جو غیر قانونی طور پر بحریہ ٹاؤن کراچی کو الاٹ کیا گیا ہے-
جبکہ نواب شاہ میں بھی بحریہ ٹاؤن کے نام جنگلات کا رقبہ الاٹ ہوا ہے-

سکھر سمیت سندھ کے کئی شہروں میں سرکاری زمینوں پر ممبران اسمبلی بھی قابض ہیں-

اگلی سماعت پر چیف جسٹس گلزار احمد نے محکمہ جنگلات سندھ کو سندھ کے جنگلات کی
زمین کی سٹیٹلائٹ رپورٹ پیش کرنے اور تاحکم ثانی جنگلات کی غیر قانونی الاٹمنٹ کو ختم
کرنے کا حکم جاری کردیا-

سندھ میں کراچی بحریہ ٹاؤن غیر قانونی طور پر الاٹ کردہ زمین پر تعمیر ہورہا ہے-
18 ہزار ایکٹر زمین ملک ریاض کے حوالے کردی گئی ہے- جس میں سندھی ، بلوچ
اقوام کے صدیوں پرانے گوٹھ، زرعی زمینیں شامل ہیں جن کو ملک ریاض گرائے جارہا ہے-

اس قدر متنازعہ اسکینڈلس اسکیم کے اندر بڑے رقبے پر پھیلا ہوا بلاول ہاؤس ، ایسے ہی
لاہور میں بحریہ ٹاؤن کے اندر موجود بلاول ہاؤس پاکستان پیپلزپارٹی کی سیاست پر بدنما
داغ کی طرح موجود ہے- یہ خود بلاول بھٹو زرداری کی اپنی سیاست اور اظہار کردہ سیاسی
آدرشوں اور نصب العین کے بھی خلاف ہے-

پاکستان پیپلزپارٹی اور اس کی پارلیمانی پارٹی کے درمیان واضح فرق کو مٹایا جاچکا ہے-
کیونکہ اس وقت پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی اور پاکستان پیپلزپارٹی سندھ کی تنظیموں
کے عہدے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے پاس ہیں جس کی وجہ سے پی پی پی بطور
نگران پارٹی کے پارلیمانی پارٹی اور سندھ حکومت کا احتساب کرنے اور اس کی کارکردگی
کو جانچنے سے قاصر ہے-

اگرچہ پاکستان کے مین سٹریم میڈیا، عدالتوں کا دوسرے صوبوں میں جنگلات کی تباہی،
سرکاری زمینوں پر قبضوں کے حوالے سے رپورٹنگ اور دائر مقدمات کے ساتھ سلوک پر کافی
بڑے سوالیہ نشان ہیں- اور میں نے خود ایسے سوالات قائم کیے بلکہ انتہائی تحقیق سے میڈیا
اور عدالتی ڈسکورس کو ایک جیسے ایشو پر پنجاب کے لیے اور سندھ کے ليے بنائے گئے الگ
الگ پیمانوں کے ساتھ سامنے لانے کا کام کیا ہے لیکن کیا اس سے سندھ میں جنگلات اور دیگر
سرکاری زمینوں پر غیرقانونی قبضوں کا جواز فراہم نہیں ہوسکتا-

اگرچہ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ محکمہ جنگلات نے نومبر 2017ء میں
جو رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی اس میں یہ نہیں بتایا کہ ریونیو ڈیپارٹمنٹ
نے اس کی کتنے ایکٹر زمین پاکستان آرمی، پاک فضائیہ، پاکستان نیوی کو منتقل کی اور نہ
ہی آج تک یہ پتا چل سکا کہ کراچی ڈی ایچ اے سٹی ، ایف ڈبلیو، پاک فضائیہ،
پاکستان نیوی کو کتنی زمین الاٹ کی گئی اور کتنی سرکاری زمینوں پر مہنگی رہائشی
اسکیمیں مسلح افواج کے اداروں نے تعمیر کی ہیں؟ اور ان اسکیموں میں اتنے شہداء خاندانوں
کو پلاٹ دیے گئے ہیں؟

پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے آج تک مسلح افواج کے اداروں کو کمرشل مقاصد
کے لیے زمینوں کی الاٹمنٹ بارے اپنا موقف کبھی بھی سرکاری طور پر بیان نہیں کیا-
نہ ہی حکومت سندھ آج تک کوئی کیس عدالت میں لیکر آئی جس میں مسلح افواج کے
مبینہ کمرشل کاروبار کے لیے سرکاری زمینوں پر قبضے کو چھڑوانے کی استدعا کی گئی ہو-

پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکن اور اس کے سوشل میڈیا پر دفاع میں مستعد جمہوریت پسندوں
کو خود اپنے ڈسکورس پر بھی تنقیدی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ان کو پی پی پی کے میڈیا ٹرائل، عدالتوں میں ناجائز مقدمات کے قیام اور پی پی پی کی ناکردہ
گناہوں پر کردار کشی کے خلاف سرگرم ہونے کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر خود احتسابی کے
عمل پر بھی غور و ‌فکر کرنے کی ضرورت ہے۔


شیئر کریں: