کیا ذوالفقار علی بھٹو آپریشن جبرآلٹر اور 65ء جنگ کی ناکامی کے ذمہ دار تھے؟

شیئر کریں:

عامر حسینی کی تحقیقاتی رپورٹ

کیا آپریشن جبرآلٹر بھٹو صاحب نے ایوب خان کو ٹریپ کرنے کے لیے تجویز کیا تھا؟

ذوالفقار علی بھٹو کی کردار کشی کرنے والے جتنے بھی گروہ ہیں(ان میں لبرل ، لیفٹ، سوشلسٹ، کمیونسٹ
ملا ہر طرح کا لیبل لگانے والے شامل ہیں) وہ ذوالفقار علی بھٹو کو “گھٹیا، موقع پرست اور محسن کش قرار دیتے ہیں۔
اس کی سب سے بڑی دلیل اور ثبوت ان کے ںزدیک آپریشن جبرآلٹراور سن 65ء کی جنگ ہے۔
کہا جاتا ہے ” یہ ذوالفقار علی بھٹو تھے جنھوں نے آپریشن جبرآلٹر کا پلان ایوب خان کو پیش کیا اور جس کے
نتیجے میں 65ء کی جنگ چھڑ گئی اور ایوب خان کو بھارت کو جنگ بند کرنے کے لیے روس کی منت کرنا پڑی
اور اس کے نتیجے میں معاہدہ تاشقند ہوا۔
بھٹو نے ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے ناکامی اور شکست کا سارا ملبہ ایوب خان پر گرادیا۔”

کیا ذوالفقار علی بھٹو کا بھارت کے خلاف جارحانہ موقف خفیہ تھا؟

بھٹو صاحب کی کردار کشی کرنے والے ایسے ظاہر کرتے ہیں جیسے بھٹو صاحب نے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے جارحانہ موقف اپنانے کا ایوب حکومت کو مشورہ خفیہ طور پر دیا تھا۔ کوئی سازش کی تھی ایسا نہیں تھا۔ فلپ ای جونز کی کتاب ہے:

The Pakistan People’s Party: Rise to Power

یہ کتاب آکسفورڈ پریس کراچی سے شایع ہوئی تھی۔ اس کتاب کا پہلا باب ہے جس میں ایک ذیلی عنوان ہے :

The September War and the Tashkent Declaration

فلپ ای جونز لکھتا ہے:
پاکستان نے ماضی میں سفارتی طریقوں سے ہٹ کردوسرے زرایع بھی تنازعہ کشمیر میں استعمال کیے تھے۔ لیکن ایسی کوششیں یا تو ہندوستان کے کشمیر میں موثر انٹیلی جنس نیٹ ورک کے سبب ناکام ہوئیں یا صوبے کی اندرونی سیاسی صورت حال میں فاؤل کھیلنے سے ناکام ہوئيں۔
وادی میں باغیانہ شورش کی حمایت کرنے کا خیال 1949ء میں میجر جنرل اکبر خان نے پیش کیا جو1948ء میں کشمیر میں جارحیت کرنے والی پاکستانی افواج کے کمانڈر رہے تھے۔

فلپ ای جونز نے اسی جگہ دوسرے پیراگراف میں بتایا ہے کہ 1960ء کے اندر بہت سارے عوامل ایسے تھے جنھوں نے کشمیر میں مسلح بغاوت کو فروغ دینے کے تصور میں کشش دوبارہ سے زندہ کردی تھی۔
ان عوامل میں سول ان ریسٹ تھی جو 1963ء میں اکتوبر کے مہینے میں کشمیر کو مزید ہندوستان یونین کے اندر ضم کرنے کے اقدامات اٹھانے سے فسادات کی شکل اختیار کرگئی تھی۔
اس دوران موئے مبارک کے گم ہونے کا واقعہ ہوا اور اس سے بھی بھارتی کنٹرول کشمیر میں حق خودارادیت اور پاکستان سے الحاق کے مطالبات واضح طور پر اور بڑے پیمانے پہ سنائی دیے۔
قریب تھا کہ ایوب خان مداخلت کرتے لیکن نہرو حکومت نے شیخ عبداللہ کو رہا کردیا اور ان سے معاملات طے کرنے کے لیے مذاکرات شروع ہوگئے۔
اس نے ایوب خان کو مداخلت کرنے سے روک دیا لیکن مئی 1964ء میں نہرو- عبداللہ مذاکرات کا مستقبل تاریک ہوگیا جب نہرو اچانک فوت ہوگئے۔
بھارتی کنٹرول کشمیر میں ایک بار پھر حالات انتہائی خراب ہوگئے اور سری نگر سمیت کشمیر کے متعدد علاقوں میں حق خودارادیت کی تحریک پھر زور پکڑ گئی۔

فلپ ای جونز لکھتا ہے کہ

ایک طرف تو مقبوضہ کشمیر کے اندر کی صورت حال تھی جس نے سفارتی طریقوں سے ہٹ کر دوبارہ گوریلا وار اور سیاسی مزاحمتی تحریک کے زریعے سے کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی کشش کو بڑھایا تھا۔

تو دوسری طرف اس حل کی طرف بڑھنے کا سبب چین پاکستان تعلقات تھے۔ 1964ء میں چو این لائی نے پاکستان کا دورہ کیا اور کشمیر کے ایشو پر واضح طور پر پاکستان کے ساتھ ہونے کا اعلان کردیا۔
چین مقبوضہ جموں و کشمیر کے پاکستان کے کنٹرول کا حامی تھا اور اس بات کا عندیہ ایوب خان کو واضح طور پر مئی 1965ء میں ایوب خان کے دورہ چین کے موقع پر کیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے باون سال

تیسرا عامل فلپ کے نزدیک پاکستانی حکومتی اور فوجی حلقوں میں یہ عام خیال تھا کہ ہندوستان میں حکمران طبقے کی صورت حال تھی جو آپس میں بہ دست و گریبان تھا اور شاستری انتہائی کمزور تھا۔
اس کمزوری کے سبب بھارت کشمیر میں اٹھنے والی شورش پر قابو نہیں پاسکے گا اور پاکستان کشمیر کے اندر جاری بغاوت اور کسی نہ کسی شکل کے فوجی ایکشن کے زریعے بھارتی کنٹرول والے کشمیر کو پاکستان اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے اور یہ کنٹرول چین کی پاکستان کے لیے حمایت کے سبب بھارت واپس نہیں لے سکے گا۔

چوتھا فیکٹر عامل فلپ کے نزدیک اس سوچ کے ابھرنے کا 1965ء کے صدارتی الیکشن کے بعد ایوب خان کی حکومت بڑی حد تک نہ صرف عوام کی اکثریت کی نظروں میں گرچکی تھی بلکہ اس کی ساکھ بری طرح سے متاثر ہوچکی تھی۔
ایوب کی جن حلقوں میں مقبولیت تھی وہ بہت تیزی سے ختم ہوئی تھی۔ ایسے میں ایوب انتظامیہ سمجھتی تھی کہ کوئی ایسا کارنامہ دکھایا جائے جس سے ایوب کی ساکھ عوام میں پھر سے مقبول ہو اور وہ ان حالات میں کشمیر کو گوریلا پلس ملٹری ایکشن کی مدد سے آزاد کرانے کے علاوہ کیا ہوسکتا تھا۔

ان چار عوامل نے ایوب انتظامیہ کا ذہن بنادیا تھا کہ پاکستان بھارتی کنٹرول والے کشمیر میں جاری باغیانہ شورش کو مدد فراہم کرے اور پاکستان سے الحاق کی حامی قوتوں کو جملہ وسائل اور مدد بہم پہنچائی جائے جبکہ باہر سے تیز اور سوئفٹ گوریلا ملٹری ایکشن ہو اور ہندوستانی کنٹرول کشمیر کو پاکستان کے زیرانتظام لےلایا جائے۔

اب یہاں پر سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ کیا پاکستان کی مسلح افواج بھارتی فوج کے برابرکی مقابلے کی صلاحیت رکھتی ہے؟
فلپ ای جونز، فیلڈمین اور دیگر کئی مورخین اس معاملے پر بتاتے ہیں کہ پاکستان کی فوج کے سربراہان کا خیال یہ تھا کہ پاکستانی فوج کی تنظیم نو ، اس کو مسلح کیے جانے اور ازسرنو تربیت کوریائی افواج کے ماڈل پر ہوچکی تھی۔ جبکہ ہندوستانی فوج جوہری اعتبار سے جنگ عظیم دوم کی پوزیشن والی فوج تھی۔
1962ء میں بھارتی فوج کو چین سے جو شکست ہوئی تھی اس وجہ سے اس کی تعمیر نو اور تنظیم نو ابھی ہونی تھی۔
پاکستانی فوج کے اندر یہ سوچ موجود تھی کہ وہ بھارتی فوج سے نہ صرف مقداری طور پر بہتر پوزیشن میں ہیں بلکہ معیاری و کیفیتی اعتبار سے بھی وہ بھارتی افواج سے کہیں زیادہ بہتر ہیں۔ اس لیے ان کے نزدیک یہ بہت اچھا موقع تھا کہ بھارت کو مزا چکھایا جائے۔

پاکستانی فوج نے 1965ء میں موسم بہار میں رن آف کچھ ملٹری باڈر پولیس کی ہندوستانیوں فوج سے متنازعہ علاقوں پر جھگڑا شروع ہو جو باقاعدہ فوجی تضادم میں بدل گیا۔

اپریل 1965ء میں جنرل ٹکا خان کی قیادت میں رن آف کچھ میں پاکستانی بریگیڈ نے ہندوستانی فوج کو بدترین شکست سے دوچار کیا اور ہزاروں میل رقبہ کنٹرول میں کرلیا۔ اس شکست کے بعد بھارتی وزیراعظم بہادر لال شاستری نے لوک سبھا میں بیان دیا کہ بھارت پاکستان کو اپنے پسند کے میدان میں جواب دے گا۔
اس کے بعد صدر ایوب خان نے ذوالفقار علی بھٹو کی مخالفت کے باوجود جنرل ٹکا خان کو مزید پیش قدمی کرنے سے روک دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی کابینہ میں وہ آواز تھے جن کے خیال میں ایوب خان اور ان کے کمانڈر انچیف جنرل موسی خان کا بھارت کے خلاف ملٹری ایکشن کا آغاز اور کشمیر میں آپریشن جبرآلٹر کے شروع کرنے کے بعد رن آف کچھ میں پاکستانی فوج کی پیش قدمی روکنا سنگین غلطی تھی۔

ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی کتاب متھ آف انڈی پینڈنس / آزادی موہوم کے ص 75 پر لکھا ہے

…. The restraint exercised in not pressing these military advantages encouraged the Indians to believe that Pakistan would refrain from Military action in retaliation to India’s plans to annex Jammu And Kashmir. At the same time, realizing that there would come and end to Pakistan restraint …. India took the precaution of simultaneously attacking Lahore to foreclose the Kashmir Issue by use of force… If Pakistan would have regained her senses and not precipitated another conflict only five month later۔

گویا ذوالفقار علی بھٹو کا خیال تھا کہ رن آف کچھ میں اپنی پیش قدمی روکنے اور فوجی فوائد کو آگے نہ بڑھانے کی وجہ سے بھارت نے یہ سمجھا کہ ہندوستان بھارت کو اپنے اندر ضم کرنے کا جو منصوبہ بنارہا ہے، اس پہ پاکستان بدلے میں فوجی ایکشن سے رکا رہے گا ۔
ساتھ ہی اس نے کشمیر کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے احتیاطا لاہور پر حملہ کردیا۔
پاکستان نے اگر اپنے حواس برقرار رکھے ہوتے تو پانچ مہینوں بعد ہی اسے ایک دوسرے تصادم کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔

اس تفصیل سے ہمارے سامنے یہ بات کھلتی ہے کہ “کشمیر” اور “بھارت” کی اندرونی صورت حال کے بارے میں جو تجزیہ تھا وہ صرف ذوالفقار علی بھٹو کا ہی نہیں بلکہ اس وقت کی حکومتی ذمہ دار اور فوجی قیادت بشمول جنرل موسی خان سب اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پاکستان کے پاس کشمیر کے ایشو ڈپلومیٹک طریقوں سے ہٹ کر پراکسی وار اور ملٹری ایکشن کرکے حل کرنے کا راستا موجود ہے۔

کشمیر ایشو کا فوجی حل کس نے پیش کیا؟

اب ہمارے سامنے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کشمیر ایشو کا فوجی اور گوریلا حل پر اتفاق کے بعد ملٹری ایکشن اور گوریلا جنگ کی اسٹرٹیجی کس نے بنائی۔
ظاہر ہے یہ فوج کے مجاذ ذمہ دار افسران نے ڈیزائن کی تھی اور رن آف کچھ میں اس نے نتآئج بھی دیے۔
اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے کشمیر ایشو کے مستقل حل کے لیے جس راستے کی تجویز دی وہ ایک کھلی اور آن پبلک تجویز تھی۔
دوسرا بھٹو صاحب مکمل جارحانہ جنگ کے حامی تھے ناکہ ریسٹرینٹ / روکے رکھے جانے والی فوجی حکمت عملی اور ان کی تجویز کو ایوب خان نے نہیں مانا تھا۔
اور وہ 65ء کی جنگ اور پھر معاہدہ تاشقند کو ایوب خان اور ان کے ساتھیوں کی محدود جارحانہ فوجی حکمت عملی کو اپنانا تھا۔
یہی وہ سب سے بڑا اختلاف تھا جس کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کا ایوب خان اور ان کے حواریوں سے اختلاف شروع ہوا اور اسی وجہ سے بھٹو نے ایوب خان کی کابینہ سے استعفا دیا۔

کشمیر اور ہندوستان کے بارے میں فارورڈ پالیسی کے شدید ترین حامیوں میں سے ایک الطاف گوھر بھی تھا وہ چین ، انڈ و چانئا ، بھارت وغیرہ کے بارے میں بھٹو سے کہیں آگے کی فارورڈ پالیسی کا حامی تھا۔
اس کے بارے میں ہربرٹ فیلڈمین کی کتاب “دا اومنی بس ” کے دوسرے حصّے کے آخر میں ” پروفائل آف الطاف گوہر” کے نام سے ایک ضمیمہ دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ کس قدر طاقتور ترین بیوروکریٹ تھا۔ بھٹو کے ساتھ الطاف گوہر کے تعلقات کیسے تھے، فیلڈمین لکھتا ہے:

“Altaf Gohar had established a close rapport with Zulfiqar Ali Bhutto and that both these men had similar ideas about Chins, India and Kashmir……… He became almost a member of the small top –level group which advocated a “Forward” Policy with respect to Kashmir…

اس پیرا گراف سے بھی صاف پتا چلتا ہے کہ ایوب خان کی کابینہ اور قریبی حلقے میں ایک ٹاپ لیول کا گروپ تھا جو کشمیر پر فارورڈ پالیسی کا حامی تھا۔
فیلڈمین نے یہ بھی لکھا کہ بھٹو اور اختر ملک چونکہ سول سرونٹ نہیں تھے تو الطاف گوھر نے سول سرونٹ ہونے کی وجہ سے سول سیکریٹریٹ میں غیر معمولی ،استثنائی طاقت اور غلبہ حاصل کرنا شروع کردیا تھا۔
جب 1965ء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جارحیت کا ظہور ہوا تو یہ الطاف گوھر تھا جس نے وار ٹائم پروپیگنڈا پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔
فیلڈ مین نے اس کتاب میں انڈو- پاک ریلشن کے عنوان سے دو ابواب اس سوال کا جائزہ لیا ہے کہ کیا کشمیر پر فارورڈ پالیسی اپنانے کی ساری ذمہ داری ایوب کے مشیروں پر ڈالی جاسکتی ہے اور ایوب خان کو اس سے بری الذمہ قرار دیا جائے گا؟ تو فیلڈمین اس کا جواب بھی نفی میں دیتا ہے۔

اپنی کتاب کے دوسرے حصّے میں بطور ضمیمہ فیلڈمین نے ذوالفقار علی بھٹو کی پروفائل بھی دی ہے۔
اس پروفائل میں وہ لکھتا ہے کہ ایوب خان نے اپنی کابینہ میں ہمیشہ میڈیاکر لوگ ہی بھرتی کیے۔
فنانس منسٹری میں وہ فنانس پر عبور رکھنے والے قابل لوگ بھرتی کرتا تھا لیکن وہ سیاسی اعتبار سے بلند کاٹھ کے لوگ نہیں ہوتے تھے لیکن اس کی کابینہ میں دو افراد ایسے تھے جن کو اسٹیٹسمین کہا جاسکتا ہے اور وہ تھے ذوالفقار علی بھٹو اور غلام فاروق۔

فیلڈ مین لکھتا ہے کہ یہ دو سیاست دان اس کی کابینہ میں ایسے تھے جو ایوب خان کی غلط پالیسیوں اور اقدام پر کھل کر تنقید کرنے کی جرآت بھی رکھتے تھے اور کھل کر اپنا موقف پیش کرتے تھے۔

فیلڈمین کے مطابق ایوب خان اور بھٹو کی ہندوستان کے بارے میں پالیسی کا بنیادی فرق یہ تھا کہ بھٹو چاہتا تھا کہ پاکستان آرمی مکمل ملٹری ایکشن کرتی اور رن آف کچھ میں ریسٹرنٹ نہ کرتی۔
کشمیر میں گوریلا جنگ کو پیچھے سے فوجی ایکشن کے ساتھ مدد دی جاتی لیکن ایوب خان نے ایسا نہ کیا اور کشمیر کا مسئلہ بزور شمشیر حل کرنے کی بجائے ریسٹرنٹ حکمت عملی اپنائی جس نے بھارت کو جارحانہ حملے کی ترغیب دی۔
اس تفصیل سے ہمیں یہ اشارے مل جاتے ہیں کہ ایوب خان نے بھٹو کے کشمیر وژن پر عمل نہیں کیا تھا۔ تو یہ کہنا کہ بھٹو نے ایوب خان کو پھنسایا اور اس کی بتائی ہوئی پالیسی کے تباہ کن نتائج نکلے حقائق سے منافی بات ہے۔

بھٹو کو قبر میں اتارنے کی دھمکی کس نے دی؟

نومبر 1969ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو ڈیفینس آف پاکستان رولز کے تحت گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا تو وہاں بھٹو کے ساتھ انتہائی سخت برتاؤ کیا گیا۔
بھٹو کو مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوا تو بیگم نصرت بھٹو نے اس موقع پر ایک حلفیہ دستاویز عدالت میں جمع کرائی جن میں ایوب اور بھٹو کے تعلقات کے بارے روشنی ڈالی تھی۔
اس دستاویز میں بيگم نصرت بھٹو نے بتایا کہ ان کے شوہر نے جب معاہدہ تاشقند پر ایوب خان سے اختلاف پر علیحدگی اختیار کی تو ایوب خان نے ان کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ ایوب خان کے خلاف سیاست میں آئے تو ایوب خان اسے قبر میں اتار دے گا۔
ایوب خان کی طرف سے عدالت میں جواب جمع کرایا گیا جس میں اس الزام کی تردید کی گئی لیکن فیلڈمین کے مطابق ایوب خان نے بھٹو کے خلاف کردار کشی کی جو مہم شروع کی تھی، اس میں بھٹو کو انڈین ایجنٹ، بھارتی پاسپورٹ رکھنے جیسے الزام بھی لگآئے تھے اور بھٹو سے جیل میں جو سلوک ہوا تھا اس سے بھی بيگم بھٹو کے خدشات کی تصدیق ہوتی تھی۔

آپریشن جبرالٹر کا خالق بھٹو کو کس نے قرار دیا؟

میں نے جب یہ سراغ لگانے کی کوشش کی بھٹو صاحب کو سب سے پہلے کس نے آپریشن جبرآلٹر کا خالق قرار دیا اور پینسٹھ کی جنگ کی ناکامی کا ملبہ ذوالفقار علی بھٹو پر گرایا تو میں اپنی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ سب سے پہلے پریس میں یہ الزام غلام واحد چودھری/ جی ڈبلیو چودھری نے لگایا۔
جوکہ ایوب خان کے دور حکومت میں وزرات خارجہ کے ریسرچ ونگ کا ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوا تھا (سال 1967ء تھا یعنی بھٹو صاحب اس وقت استعفی دے چکے تھے) اور اس سے پہلے یہ تاشقند جانے والے سرکاری وفد میں بھی شامل تھا اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے تاشقند معاہدے کے ڈرافٹ کی تیاری میں مدد کی تھی۔
جی ڈبلیو چودھری نے بھٹو صاحب پر یہ الزام اپنے ایک مضمون میں لگایا تھا جو انٹرنیشنل افئیر لندن میں جولائی 1973ء میں شایع ہوا اور اسے 7 جولائی 1973ء کو کراچی سے شایع ہونے والے انگریزی ہفت روزہ “آؤٹ لک” نے شایع کیا۔
ایسا لگتا ہے کہ اس الزام کو بھی سب سے پہلے جنرل موسی خان نے اپنے لوگوں میں پھیلایا اور جی ڈبلیو چودھری نے اسے آگے بڑھایا تھا۔
جنرل موسی خان نے اپنی کتاب ميں بھٹو کو آپریشن جبرآلٹر منصوبے کا خالق قرار دیا ہے۔

خادم رضوی کا انتقال اور ہمارے دوہرے معیار

لیکن یہی موسی خان تھے جنھوں نے 5 اکتوبر 1968ء کو ایک پبلک جلسے میں الزام لگایا تھا کہ بھٹو خود معاہدہ تاشقند کے ڈرافٹ کو بنانے والے تھے اور اس کا کریڈٹ لیتے رہے۔
اب اس سے انکاری ہیں لیکن جنرل موسی خان نے اس وقت تقریر وہ بات نہ کی تھی جو انہوں نے پھر اپنی کتاب میں تحریر کیا کہ بھٹو آپریشن جبرآلٹر کے خالق تھے۔

تاشقند جو حکومتی وفد صدر ایوب خان کی قیادت میں سوویت ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند پہنچا تھا اس میں ذوالفقار علی بھٹو اور غلام فاروق منسٹر کامرس بھی شامل تھے۔ غلام فاروق نے تاشقند میں جو ہوا اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ذوالفقار علی بھٹو تاشقند معاہدے کے لیے زیر غور نکات پر قطعی رضامند نہ تھے۔
وہ ہندوستانی وزیراعظم شاستری سے بھی سرد مہری دکھارہے تھے یہ ایوب خان تھے جنھوں نے بھٹو کو شاستری کی تقریر پر تالیاں بجانے پر مجبور کیا تھا۔ اور یہ معاہدہ جب سائن ہورہا ہے، اس وقت کی ایک تصویر بھٹو صاحب کے چہرے پر پھیلی مایوسی اور ناخوشی صاف محسوس کی جاسکتی تھی۔
ایوب کے معتمد وزیر غلام فاروق نے بتایا کہ بھٹو نے ان کو بتادیا تھا کہ وہ ایوب خان سے الگ ہو جائیں گے اور استعفا دے دیں گے۔
غلام فاروق کی گفتگو سے کہیں یہ اشارہ نہیں ملتا کہ پاکستان کی فوجی قیادت کے آپریشن جبرآلٹر اور 65ء کی جنگ میں ناکامی کا ذمہ دار وہ بھٹو کو سمجھتے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو وزیر خارجہ تھے۔
یہ درست بات ہے کہ ہندوستان کی طرف ان کا رویہ بہت سخت تھا اور ہندوستانی زیرانتظام کشمیر کو آزاد کرانے میں خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور چین سے بھارت کی لڑائی سے انہوں نے فائدہ اٹھانے کو سود مند سمجھا ہوگا۔
ہم اگر یہ مان لیں کہ بھٹو صاحب نے ایوب خان کو یہ مشورہ دیا ہوگا کہ یہ بہترین موقع ہے مقبوضہ کشمیر آزاد کروانے کا۔ تو کیا ہندوستانی کنٹرول کشمیر کو آزاد کرانے کا فوجی منصوبہ اور اس پر عمل درآمد کیسے ہوگا اس جیسی تکنیکی معاونت بھی بھٹو صاحب نے فراہم کی تھی؟
کیا بھٹو صاحب گوریلا وار فئیر یا ملٹری آپریشنز کے ماہر تھے؟
کیا ڈی جی ملٹری آپریشنز کا کام بھی بھٹو صاحب نے سرانجام دیا تھا؟
اگر ہم بھٹو صاحب کا کوئی حصّہ فرض کرلیں تو وہ یہی ہوسکتا تھا کہ انہوں نے چین اور بھارت کی باہمی لڑائی دوران پیدا امکانات سے فائدہ اٹھا کر جموں و کشمیر کو آزاد کرانے کی پیدا بین الاقوامی سازگار فضا کا ذکر کیا ہوگا۔ ایسی صورت میں آپریشن جبرآلٹر اگر ناکام ہوا تو ایک فوجی منصوبے کی ناکامی کا ملبہ بھٹو پر کیسے گرایا جاسکتا ہے؟ اور اسے ایوب خان سے دھوکہ کرنے سے کیسے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
میں نے سجاگ ویب سائٹ کے لیے ایک مضمون لکھا تھا:
سن 65ء کی جنگ کی حقیقت کیا ہے؟

اس کے اہم ترین نکات تھے:

پانچ جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پہ قبضہ کیا اور اس وقت انھوں نے اپنی جو عبوری کابینہ بنائی اس میں میاں ارشد حسین کو وزیر خارجہ مقرر کیا۔

اکتوبر 1977ء کو میاں ارشد حسین کے نام سے وزرات خارجہ نے ایک پریس ریلیز پاکستان کے تمام اخبارات کو اس پریس ایڈوائس کے ساتھ بھیجی کہ اس بیان کو صفحہ اول پہ شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا جائے۔

یہ بیان تئیس اکتوبر 1977ء کو اس وقت کے تمام اخبارات میں شائع ہوا۔اس بیان میں وزیر خارجہ میاں ارشد حسین نے 65ء کی جنگ کی طرف لے جانے والے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری بٹھانے کا مطالبہ کیا۔

میاں ارشد حسین جو ستمبر 1965ء میں دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن میں تعینات تھے کا کہنا تھا کہ ان کو چار ستمبر 1965ء کو ترک سفارت خانے نے ایک پیغام میں مطلع کیا تھا کہ بھارت چھ ستمبر 1965ء کو پاکستان پہ حملہ کرسکتا ہے۔
پاکستانی حکومت کا موقف یہ تھا کہ ان کو یہ پیغام آٹھ ستمبر کو ملا تھا جب جنگ شروع ہوئے دو روز گزر گئے تھے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بھٹو کے مخالفین جن میں پی این اے کی تمام قیادت شامل تھی اور اینٹی بھٹو سمجھے جانے والے صحافتی تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں نے اگلے روز وزیر خارجہ میاں ارشد حسین کے اس مطالبے کی حمایت کی اور انکوائری کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔
اس بارے میں کوئی انکوائری تو نہ ہوئی تاہم اگلے 11 سالوں میں جنرل ضیاء الحق کے زیر اثر 65ء کی جنگ کا سارا ملبہ ذوالفقار علی بھٹو پہ گرایا جاتا رہا۔

پاکستان آرمی کے اسپیشل سروسز گروپ کے 1965ء تک سربراہ رہنے والے کرنل(ر) سید غفار مہدی نے پاکستان آرمی کے ہی جریدے دی ڈیفینس جرنل میں ایک مضمون ’1965ء کی جنگ میں ایس ایس جی کمانڈوز کا کردار‘ لکھا۔

یہ مضمون بھی اصل میں تو سارا ملبہ بھٹو پہ گرائے جانے کی نیت سے لکھا گیا تھا لیکن اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ جنرل موسیٰ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ جس اجلاس میں آپریشن جبرالٹر کی منظوری ہوئی اس میں کوئی سول آفیشل شریک نہیں تھا۔

وہ لکھتے ہیں:

’ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں درانداز بھیجنے کی تجویز جس کا کوڈ نام ’جبرالٹر‘ تھا، وہ وزرات خارجہ امور کی تھی۔‘

لیکن دوسری جانب جنرل موسیٰ سی این سی نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے، اس کی پلاننگ اور کوآرڈینشن کی مکمل ذمہ داری خود لی اور اپنی کتاب کے 35 صفحات میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے:

’جب حکومت نے آخر کار حتمی فیصلہ کر لیا کہ کشمیر میں اندر جا کر در اندازی کی جائے تو میں نے کمانڈر 12 ڈویژن میجر جنرل اختر ملک کو اس آپریشن کا ڈرافٹ پلان تیار کرنے کا حکم دیا۔

آپریشن جبرآلٹر نام جی ایچ کیو سے مشاورت کے بعد دیا گیا۔جی ایچ کیو نے اسے منظور کیا جبکہ اس میں کچھ تبدیلیاں بھی کی گئیں۔

میجر جنرل اختر ملک سینڈ ماڈل کے ساتھ پلان کو لے کر مری گئے جہاں اجلاس میں سپریم کمانڈر ایوب خان اور ان کے ملٹری سیکریٹری بھی موجود تھے۔
سی جی ایس میجر جنرل شیر بہاد، ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز بریگیڈیر گل حسن اور ڈی جی ایم آئی ارشد احمد خان بھی اس اجلاس میں موجود تھے۔اس میٹنگ میں کوئی سول کارندہ موجود نہ تھا۔‘

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فوجی جرنیلوں اور آمروں کی ڈکٹیشن سے مرتب ہوئی سرکاری نصابی تاریخ میں تو ستمبر جنگ کا بیانیہ سچائی سے دور رکھا گیا جبکہ خود پاکستانی افواج کے لیے سٹرٹیجک وار اسٹڈیز کے لیے مرتب کی جانے والی تاریخی کتابوں میں تھوڑے سے پروپیگنڈے کے ساتھ حقائق بیان کیے گئے ہیں۔

اگر حالات و واقعات کا جائزہ لیا جائے تو فروری 1965ء میں ایوب خان کے سامنے جن فوجی حکام نے کشمیر میں گوریلے بھیج کر انسرجنسی پیدا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا یہ اصل میں 1848ء کے منصوبے کی موڈیفائی نقل تھا۔

جنرل ایوب خان کے صاحبزادے گوہر ایوب نے اپنی سرگزشت میں اپنے والد کی ڈائریوں سے یہ بات نقل کی ہے کہ جنگِ ستمبر، آپریشن جبرآلٹر اور آپریشن گرینڈ سلام کا تسلسل تھی اور یہ ایک ایڈونچر تھا جس کے خالق ذوالفقار علی بھٹو اور کچھ جرنیل تھے۔ان جرنیلوں میں جنرل موسیٰ خان، یحییٰ خان، گل حسن اور دیگر کے نام آتے ہیں۔

جنرل شجاع نواز نے اپنی کتاب ’دو دھاری تلوار‘ میں پاکستان کی افواج کے خارجی جنگوں کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے جنگ ستمبر کو پاکستان کی فوجی قیادت کی مہم جوئی قرار دیا۔انہوں نے تو یہاں تک لکھا کہ 48ء سے لے کر 1971ء تک جتنے فوجی آپریشن ہوئے ان میں فوجی لیڈر شپ کی بے بصیرتی کا خمیازہ فیلڈ میں موجود افسروں اور عام سپاہیوں کو بھگتنا پڑا۔

ستمبر 1965ء کی جنگ آپریشن جبرآلٹر اور آپریشن گرینڈ سلام کا نتیجہ تھی۔

فروری 1965ء میں جنرل ایوب کے سامنے کشمیر کو گوریلا جنگ کے زریعے آزاد کرانے کا منصوبہ بنایا گیا۔مئی 1965ء میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی اور اگست 1965ء میں آپریشن جبرآلٹر کا آغاز ہوا۔
پاکستانی فوج کے اسپیشل سروسز گروپ سے تعلق رکھنے والے 400 فوجی کمانڈوز اور آزاد کشمیر و قبائلی علاقوں سے بھرتی کیے گئے لشکروں کو بھارتی کنٹرول میں موجود کشمیر میں داخل کیا گیا۔

میجر جنرل(ر) آغا امین ہمایوں نے آپریشن جبرآلٹر اور آپریشن گرینڈ سلام کی ناکامی پہ ایک مفصل تجزیہ پاکستان ڈیفینس کالج میں آنے والے افسروں کے لیے تحریر کیا ہے۔ان کی کتاب ’پاک-بھارت جنگ 1965ء‘ اس کا خلاصہ بھی پاکستان ڈیفینس جرنل میں شایع ہوچکا ہے۔

اس کتاب میں انہوں نے ستمبر 65ء کی جنگ کو پاکستانی فوج کی قیادت کا ناکام ایڈونچر قرار دیا ہے۔اس میں انہوں نے صاف صاف لکھا کہ جب آپریشن جبرالٹر ناکام ہوا اور بھارتی افواج نے اس کا جواب دیتے ہوئے کشمیر میں حاجی پیر پاس پہ قبضہ کرلیا تو خطرہ پیدا ہوگیا کہ بھارتی افواج مظفرآباد پہ قبضہ کرسکتی ہیں۔

اس خطرے کو ٹالنے کے لیے آپریشن گرینڈ سلام کیا گیا جس کے بعد چھ ستمبر کو بھارتی فوج نے بیک وقت سیالکوٹ اور لاہوربارڈر پہ حملہ کردیا۔

ستمبر کی جنگ پاکستان کے سات اگست 1965ء کو آپریشن جبرآلٹر کا براہ راست نتیجہ تھی جس نے اس خطے میں امن کے امکانات کو بہت حد تک ختم کردیا۔

http://sujag.org/nuktanazar/65-war-pakistan-facts-india-ayub-bhutto

#ّپی_پی_پی_کا_53واں_یوم_تاسیس


شیئر کریں: