کیا اینٹی کرپشن محکمہ تنہا کرپشن کا خاتمہ کرسکتا ہے؟

شیئر کریں:

لیل و نہار /عامر حسینی

ڈی جی اینٹی کرپشن اسٹبلشمنٹ پنجاب گوہر نفیس بھٹہ نے حال ہی میں جنوبی پنجاب میں ملتان ، ڈیرہ غازی خان اور بہاول پور ریجنز کا دورہ کیا- اس موقعہ پہ انھوں نے کھلی کہچریوں کا انعقاد بھی کیا- کھلی کہچریوں میں ان کے سامنے بیوہ، یتیم، بزرگ عورتیں اور مردوں کی ایک ایسی بڑی تعداد پیش ہوئی جنھوں نے بتایا کہ اینٹی کرپشن محکمے کے سرکل دفاتر میں بیٹھنے والے اکثر افسران اور اہلکار بدعنوانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اپنے اختیارات کا استعمال بدعنوان اور ظالم سرکاری افسران اور اہلکاروں کو بچانے کے لیے کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ سوائے ملتان کے ڈائریکٹر اینٹی کرپشن حیدرعباس وٹو کے کسی اور ریجن کے ڈائریکٹر کے سلوک اور کام سے متاثرہ عوام مطمئن نظر نہیں آئے۔ خانیوال سے تعلق رکھنے والی ایک بیوہ خاتون نے ڈی جی کو بتایا کہ سرکل افسر خانیوال اس کے رقبے پہ ناجائز قابض ہونے والے پانچ ملزمان کو تاحال گرفتار نہیں کررہا کیونکہ وہ ان سے ساز باز ہے۔ خانیوال میں تعینات سرکل افسر پنجاب پولیس سے آکر سرکل اینٹی کرپشن خانیوال میں تعینات ہوا ہے اور مجھے اپنی صحافتی سرگرمیوں کے دوران گزشتہ دو سال میں یہ تجربہ ہوا کہ سرکل خانیوال آفس میں اکثر و بیشتر درخواستیں دبا دی جاتی ہیں اور کئی کئی مہینے متاثرین خوار ہوتے ہیں۔ ایک سائل مدثر عباس نے مجھے بتایا کہ حال ہی میں اس نے بلدیہ خانیوال کے اہلکاروں کی طرف سے ڈسپوزل کا گندہ پانی بغیر ٹھیکے کے فروخت کرکے لاکھوں روپے کرپشن کی درخواست دی تو سرکل افسر کے دفتر میں وہ درخواست بلدیہ اہلکاروں سے مبینہ رشوت لیکر ڈراپ کردی گئی۔ سرکل افسر خانیوال نے سول لائن میں غیر قانونی شادی ہالز اور رہائشی علاقوں میں قائم پلازوں کو لگائی گئی سیل کھولنے والے بدلیہ اہلکاروں کے خلاف درخواست کو ایک سال لٹکائے رکھا اور بعد ازاں ڈی ڈی آئی آفس سے ملکر ان اہلکاروں سے مبینہ رشوت لیکر ان کو مقدمے سے باہر ہی رکھنے کا انتظام کرلیا۔ ملتان ریجن میں ڈپٹی ڈائریکٹر ٹیکنکل ابراہیم نے اکسیئن ہائی وے خانیوال کامران کے کلاس فیلو ہونے کے سبب حق دوستی اپنایا اور چار ارب روپے کے ٹھیکوں میں پرچی پول کی درخواست کو مبینہ نذرانہ لے کر ڈراپ کردیا اور یہی کام میٹروکارپوریشن ملتان، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ملتان، واسا کے معاملات میں کیا گیا۔ ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس بھٹہ اور ڈائریکٹر ملتان ریجن حیدر عباس وٹو جیسے فرض شناس افسران کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ان کے اپنے محکمے کے اندر بیٹھی کالی بھیڑیں ہیں جو انسداد رشوت ستانی کرنے کی بجائے بدعنوانی کے فروغ میں ملوث ہیں۔ اینٹی کرپشن محکمے پہ درخواستوں اور انکوائریوں کا بڑھتا ہوا بوجھ بھی ایک بہت بڑا ایشو ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ تو سالانہ آڈٹ رپورٹوں سے سامنے آتی ہے اور وہ صوبائی اور بلدیاتی محکموں کے انٹرنل کنٹرول ، انٹرنل احتساب کے نظام کی شکستگی ہے۔ دوسری وجہ افسران کی کمی ہے۔ حکومت کو تمام سرکل دفاتر میں کم از کم دو ڈپٹی ڈائریکٹر انوسٹی گیشن، ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اور اسٹنٹ ڈائریکٹر ٹیکنکل اور ایک ڈپٹی ڈائریکٹر ليگل تعینات کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے خود انٹی کرپشن میں نئی بھرتیوں کی اشد ضرورت ہے۔ محکمل اینٹی کرپشن میں مظفر علی رانجھا کے بعد گوہر نفیس بھٹہ کے دور میں کرپشن اور اختیارات سے تجاوز کے بڑے بڑے مقدمات اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ اینٹی کرپشن محکمے کی کارکردگی میں زیادہ بہتری اس وقت آئے گی جب ہائیکورٹ میں اینٹی کرپشن مقدمات پہ طویل عرصے تک اسٹے باقی رہنے کا کلچر ختم ہوجائے گا –


شیئر کریں: