کوڈ19نیو نارمل اور اعلیٰ تعلیم

شیئر کریں:

قسط نمبر 1
تحریر:پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ شیخ الجامعہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی

کوڈ – 19 کے مختلف شعبہ ہائے زندگی پر اثرات کے تناظر میں ایک نئی اصلاح نیونارمل سامنے آچکی ہے۔ جو دراصل کوڈ- 19 کے خاتمے اور اُس کے اثرات کو کم کرانے کے لئے ایک نئی سوچ اور نئے طرز زندگی، سوچ کے زاویوں اور فکر کے نئی جہتوں کا نام ہے۔ آج کے مضمون میں اس نیو نارمل کی چیدہ چیدہ خاصیتوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم اور دیگر تعلیم پر اس کے اثرات اور اُن کے لئے درکار حکمت عملی کی ضرورت پر تفصیل سے بات ہو گی۔
1۔نیونارمل اور پوسٹ کوِڈ – 19 کی دنیا کی چیدہ چیدہ باتیں
نیونارمل کا تجزیہ کرنے سے قبل اگر ہم دُنیا میں اس قسم کی وبائی تباہی کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمیں دو بڑے واقعات سامنے آتے ہیں۔ ایک واقعہ چودھویں صدی کے وسط میں کالی موت کے صورت میں یورپ میں رونُما واقع ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کالے طاعون کی یہ بیماری وسطی ایشیا ء میں رونُما ہوئے اور شاہراہ ریشم کے ذریعے یورپ تک پہنچ گئی اوروبائی صورت اختیار کرگئی۔ اس بیماری کی وجہ سے یورپ کی 30 فی صد سے 60 فی صد آبادی اس مہلک بیماری کی شکار ہو گئی تھی دوسری بڑی وباء 1920 ء میں یورپ میں سپن فلو کے نام سے پھیل گئی تا ہم تھوڑے عرصے میں اس نے پورے یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا اور تقریباً یورپ کی ایک چوتھائی آبادی اس کی نذر ہو گئی۔ اس وبا ء نے یورپ میں بڑے بڑے بادشاہوں کے سلطنت اُلٹ دیئے اور آج بھی یورپ میں اس کی تباہی کے اثرات نظر آتے ہیں۔ موجودہ عالمی وباء جو ناول کروناوائرس کے نتیجے میں برپا ہونے والی بیماری کوِڈ – 19 کی صورت چین سے شروع ہوئی اور آج پوری دنیا تک پھیل چکی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس وبائی مرض کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں اور تقریباً اس وقت اموات کی تعداد 544,739بتائی جاتی ہے جبکہ اس مرض میں مبتلاافراد کی تعداد بھی 11,841,326تجاوزکر چکی ہے۔ اس تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اور ماہرین کے مطابق اگر اس بیماری اور وباء کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات نہیں لئے گئے تو اندیشہ ہے کہ کم از کم دو سے ڈھائی کروڑ افراد اس کی وجہ موت کے گھاٹ اُتر سکتے ہیں۔ اس وقت جو کوِڈ- 19 اور اس کے بات کی دنیا کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں ان کو نیونارمل یا نئی معمول کہا جاتا ہے۔ اس کے کچھ اہم نکات درج ذیل ہیں۔
۱۔ د’نیا میں تمام معمولات اور خصوصاُ معیشت جسمانی رابطے کیبجائے ڈیجیٹل رابطے پر منتقل ہوگئی ہے۔ اس کے لئے کمپنیوں کا بڑا انحصار ڈیٹا کی مؤثر استعمال، صارفین کے ساتھ مربُوط تعلقات اور جدید ٹیکنالوجی پر منحصر ایک قابل اعتماد نظام پر مبنی ہے۔اس وقت جو بزنس ایگزیکٹوزاور لیڈر اس سمت میں زیادہ مؤثر اور فعال طریقے سے اپنی کمپنیوں کو آگے لے جا رہے ہیں توقع ہے کہ وہی کمپنیاں اس نیو نارمل کے دوران اور بعد میں کامیابی کے ساتھ آگے جا سکے گی۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ تمام کاروبار ایک ہنگامی بنیاد پر ایک ڈیجیٹل کمرہ جنگ بنایئے جس کے ذریعے وہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ذریعے کو استعمال کرتے ہوئے صارفین کے توقعات اور رویوں کے بارے میں بروقت معلومات حاصل کرتے ہوئے اُن کو اپنی طرف راغب کرے۔ اس کے لئے اشیاء کی ترسیل اور ہم رسائی کے ذرائع یعنی سپلائی چین کے نظام کُر شفاف اور زیادہ تیزبنایئے۔
2۔روایتی طرز فکر کو تبدیل کرتے ہوئے منصوبہ بندی اور پلاننگ کے لئے جدیداور حالات کے تناظر میں بہتریں حکمت عملی تیار کرے۔ جو مختلف صورت حال کے اندر بر وقت اور صحیح فیصلہ کرنے کو ممکن بنایئے۔ اس ضمن صارفین اور کمٹمرز کے ساتھ ڈیجیٹل پلٹ فارمز اور رابطوں کے ذریعے ایک نئی کاروباری دنیا معرض وجود میں آیئے گی۔ جسمیں آن لائن مارکیٹنگ، خرید فروخت، رابطہ کاری، ادائیگیاں م آن لائن سٹورز وغیرہ شامل ہوں گے۔ دنیاکی آدھی سے زیادہ آبادی اپنی روزمرہ کی اشیاء اور خدمات کے حصول کے لئے ان ڈیجیٹل پلٹ فارمز کا انتخاب کرے گی۔
3۔ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی اس ڈیجیٹل کاروباری دنیا سے استفادہ کرانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ٹیکنالوجی کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اس میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کریں تاکہ اس وباء سے نجات کے فوراً بعد اس نئی دنیا میں بہترین طریقے سے اپنے کاروبار کو آگے بڑھا سکے۔ اس ضمن میں ایموزون جو دنیا میں اس وقت سب سے ڈیجیٹل ذریعے بزنس قائم کیا۔اسی طرح بہت ساری مالیاتی اداروں اور بینکوں نے بھی ڈیجیٹل ذرایعے پر مبنی ایک جدید بنکاری نظام پہلے سے متعارف کروایا ہے۔ نیو نارمل کی اس دنیا سے استعفادہ حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے کاروباری نظام کو زیادہ سے زیادہ خودکار بنائیں جس میں لوگوں کے اندر جسمانی رابطے کم سے کم ہوں اس نظام کو لانے کے لئے ہمارے پاس شاید وقت بھی بہت زیادہ نہیں۔
4 ۔اس نیونارمل پر مبنی نئی دنیا جس کا زیادہ تر انحصار ڈیجیٹل مارکیٹ فارمز اور خود کاریت پر ہو گا، کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس اُس معیار کا افرادی قوت بھی موجود ہوں جو اس وقت زیادہ تر روایتی سوچ کے حامل ہیں۔چنانچہ اس نئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آھنگ ہونے کی راہ میں یہ سوچ اور ڈیجیٹل ذرائع کے استعمال کے حوالے سے موجودہ افرادی قوت کی انتہائی کم استعداد ہی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ چنانچہ ہمیں بہت تیزی کے ساتھ ایک ٹیکنالوجی سمارٹ اور فعال افرادی قوت بنانے اور اُن کی استعداد میں اضافہ کرانے کی ضرورت ہے۔
اس نیو نارمل اور کوِڈ – 19 سے معرض وجود میں آنے والی دنیا کے تین اہم پہلو ہیں۔ 1۔ فوری طور پر نافذ العمل حکمت عملی جو اس وباء کو ختم کرانے اور لاک ڈاؤن کی صورت حال میں درکاراحتیاطی تدابیر کو یقینی بنانے کے ساتھ معمولات زندگی کو ضروری حد تک برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے سٹیک ہولڈر ز، صارفین اور کسٹمر ز کے ساتھ ایک قابل اعتماد تعاون کے ساتھ منسلک ہوں تاکہ اُن کے اعتماد کو ٹھیس نہ پہنچے اور دوسری طرف اپنے کاروبار کو بچانے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔
2۔ دوسرا مرحلہ اس وباء کے خاتمے کے فوراً بعدکا ہو گا۔ جب ہم ایک نئی طرز زندگی میں وارد ہوں گے، جسمیں لوگوں کے مشاہدات، تجربات اور توقعات پر مبنی ایک نئی سوچ اور طرز عمل سامنے آئے گا۔ جس کا اثر ہماری معیشت اور معاشرت دونوں پر ہوگا اور دنیا کے بڑے بڑے سیکٹرز جن میں ہوابازی، جہازرانی،سیروسیاحت،مہمانداری تعلیم وتعلم، اور دیگر سیکٹرز شامل ہیں۔
3۔طویل المدتی چیلنجز میں ایک نئی طرز زندگی کے اثرات اور توقعات پر مبنی معاشرہ اور کاروباری زندگی اور اس کے لئے درکار حکمت عملی شامل ہو گی۔ یقینا اس عالمی وباء کی طویل المدتی مضمرات انتہائی گہرے ہوں گے اور اس سے ایک نیا نظام حیات اور عالمی ترجیحات سامنے آئیں گی۔کاروباری دنیا کے ساتھ سماجی طرز سوچ میں بھی بڑی تبدیلی رونُما ہو گی۔ اس عالمی وباء سے صحت عامہ اور تحفظ کے حوالے سے ایک حقیقت کھُل کر سامنے آئی ہے کہ مجموعی طورپر عالمی سطح پر موجود صحت و علاج کی سہولتیں اس وباء سے نبرد آزماہو نے کے لئے ناکافی ہیں سرکاری ہسپتالوں میں اتنی بڑی وباء سے نمٹنے کے لئے موجود سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔دوسری طرف پرائیویٹ صحت کے اداروں میں علاج کرانا ایک عام انسان کے بس کی بات نہیں۔ چنانچہ ٹسٹنگ کی سہولیات کے فقدان اور علاج و معالجے کے لئے درکار ضروری دیگر سہولیات کی اشد کمی کی وجہ سے دنیا کی ایک کثیر تعداد کا اس بیماری میں ہلاک ہونے کا اندیشہ بڑھ رہا ہے۔
سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنے اور اس وباء کو کنٹرول کرنے کے لئے لی گئی دوسری احتیاطی تدابیر کی وجہ سے معاشرے کے نچلے طبقے خصوصاً روزانہ اُجرات پر کام کرنے والے مزدور چھوٹے کاروبار کرنے والے طبقہ بُری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ جن کے لئے نہ تو کوئی متبادل کاروبار ہے اور نہ ہی کوئی انشورنس کی پالیسی۔کاروبار برقرار رکھنے کے لئے صارفین اور کسٹمرز کی طرف سے سیفٹی اور احتیاطی تدابیر کے لئے مطالبہ بھی بڑھ رہا ہے۔ چنانچہ زیادہ تر کسٹمرز اُن دو کانوں اور علاقوں میں جانے کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں جہاں خفظان صحت کے بنیادی اُصولوں کے مطابق سماجی فاصلوں، ماسک کے استعمال سنیٹائزر وغیرہ کے استعمال کو یقینی بنایاجا رہا ہے چنانچہ اداروں کی سماجی ذمہ داریوں میں صارفین کا تحفظ اور حفظان صحت کے لئے درکار سہولتوں کو اولین اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس نئی سوچ اور معاشرتی طرز فکر سے انسانوں کے اندر نئے رویے جنم لے رہیں ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد معاشی ترقی نے ایک نسل کی پرداخت کی جس کو بے بی بومرزکہتے ہیں جو 1946 ء اور 1964 ء کے درمیان پیدا ہوئے تھے۔ یہ وہ عرصے ہے جس کے دوران دنیا کی آبادی میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا اُنہوں نے دنیا میں انتہائی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ معاشی بدحالی اور کساد بازاری بھی دیکھی۔
اکیسویں صدی کے آغاز میں آب وہوا اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا پر ان کے انتہائی موثر اثرات کو روکنے کے لئے ایک جنریشن زیرو معرض موجود میں آئی جن کا مقصد دنیا میں 2050 تک کاربن کی پیداوار کو زیروکی سطح پر لانا ہے۔ اس میں نئی نسل کا بنیادی اقدار دوسری نسلوں کا تحفظ اور ان کے ساتھ انصاف پر مبنی ہیں۔ درحقیقت پائیدار ترقی کے بنیادی اصول انہیاقدار پر مبنی ہیں۔ کہ موجودہ نسلوں کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلوں کا تحفظ اور خوشحالی بھی شامل ہیں۔ اس نسل نے قانون سازی، لوگوں کے روئیوں میں تبدیلیوں اور جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کے ذریعے موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لئے ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرنا ہے۔کوڈ19 کے اختتام پر ایک نئی زندگی اور نئی دنیا پر مبنی نیونارمل سے ایک نئی نسل معرض وجود میں آئیگی 2030 تک تقریباً پونے تین ارب نوجوان 19 سال یا اس سے کم عمرکے ہوں گے جن کے لئے یعنی زندگی ایک معمول کی زندگی ہو گی کیونکہ اُنہوں نے زیادہ تر رویے اور اقدار کوڈ19 کی دنیا سے اخذ کئے ہوں گے۔ اسلئے اُن کے لئے نیونارمل اے نارمل اور مضمون ہو گا۔یہ نارمل نئی اقدار، طرززندگی، ٹیکنالوجیز، اخلاقیات طرز عمل اور نجی اداروں کے کردارپر مبنی ایک نیا معاشرہ ہوگا۔
لوگوں کے رویوں میں عالمی وباء اور اُس کے اثرات کی وجہ سے ایک نمایاں تبدیلی رُونما ہو گی۔ جونکہ دنیا کے طول وعرض میں اس وبائی مرض سے لاکھوں افراد لقمۂ اجل بن چُکے ہیں اس لئے لوگوں کے اندر خوف اور محرومی کے احساسات بڑھ جائیں گی۔ چونکہ اس بیماری کی وجہ سے لوگ، عزیز واقارب اور افراد خانہ بھی متاثر ہو گئے ہیں اسلئے اُن کے اندر دکھ،جدائی اور درد کے احساسات شدت اختیار کر جائیں گے اور طویل عرصے تک اُن کے رویوں میں یہ شدت محسوس کی جا سکے گی۔ لوگوں کے اندر ایک طرف صحت اور انسانی زندگی کی قیمت کا احساس بڑھ جائے گا اور دوسری طرف وہ اپنی روحانی پرداختکے لئے زیادہ تنہائی اور سکون کی تلاش کیلئے بے تاب ہو گا۔ دراصل پچھلی آدھی صدی میں انسان کی مادہ پرستی کے رویوں میں بے حد اضافے کی وجہ سے اُس کا جسمانی سکون اور روحانی آسودگی کافی حد تک متاثر ہو چُکی ہے۔ چنانچہ اس کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی سکون کے لئے درکار خدمات اور اشیاء کے طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ اداروں کے اندرنفسیاتی اور رویوں کے تجزیے کے لئے ماہرین کی بھی ضرورت ہو گی۔ اس کے علاوہ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس طرح کی وبائی امراض کے بعد معاشروں کے اندر اعتماد کی کمی واقع ہوتی ہے اور خصوصاً حکومتوں اور اداروں کے خلاف ایک بے اعتمادی اور عوام کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرانے پر ممبنی ہوتا ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اقوام کے درمیان الزام تراشی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جو وباء کے پھیلاؤ میں ایک دوسرے پر غفلت برتنے کا الزام لگاتے ہیں۔ اس ضمن میں چین اور امریکہ کے مابین ایک سرد جنگ کا آغاز ہو چکا ہے کیونکہ امریکہ مسلسل چین پر وباء کے پھیلاؤ کی مدد  میں دنیا کو بروقت مطلع نہ کرنے اور بین الاقوامی سفر میں چین کی جانب سے مناسب حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔ چین مسلسل ان الزامات کی تردید بھی کر رہا ہے۔


شیئر کریں: