کورونا ہے بھی یا نہیں ؟

شیئر کریں:

تحریر نوید احمد
یہ ایک ایسا سوال ہے جو کورونا کے وجود کو ایک سال مکمل ہونے کے باوجود بھی اکثر و بیشتر
سننے میں آجاتا ہے اور یہ سوال کرنے والے کسی مخصوص طبقہ فکر کے لوگ نہیں بلکہ ایک ان پڑھ
سے لے کر پڑھے لکھے لوگ بھی اس سوال کو پوچھنے میں نہیں ہچکچا رہے۔

فروری میں پہلا کیس پاکستان آیا

فروری کے آخری ہفتے میں ایران سے واپس آنے والے کراچی کے نوجوان یحیٰی جعفری نے طبعیت کی
ناسازی کے بعد آغا خان اسپتال سے اپنا ٹیسٹ کرایا تو 26 فروری کو وہ پاکستان میں کووڈ 19 سے
متاثر ہونے والے پہلے مریض بن گئے۔

اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا اور آج پاکستان میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 3 لاکھ
89 ہزار 3 سو 11 ہوچکی ہے جن میں سے 3 لاکھ 35 ہزار 8 سو 81 افراد صحت یاب بھی ہوئے جب کہ
7 ہزار 8 سو 97 افراد موت کی نیند سوچکے ہیں۔

Corona Death, Khabarwalay.com

پاکستانی آخر سنجیدہ کیوں‌ نہیں؟

کورونا کے مرض کو پاکستان کے عوام سنجیدہ کیوں نہیں لے رہے آخر ہزاروں اموات اور لاکھوں مریضوں
کے باوجود یہ سوال کیوں گردش کررہا ہےکہ کورونا ہے بھی یا نہیں ؟

اس سوال کے مختلف پہلوئوں پر غور کریں تو اس کا سب سے پہلا جواب ہمارے رویئے ہیں ڈاکٹرز
کی چیخ و پکار، اپیلیں سب اس وقت بیکار چلی جاتی ہیں جب ایک لیڈر اپنے فالوورز کو جلسہ میں
شرکت کے لئے بلاتا ہے۔

لیڈر کا تعلق اپوزیشن سے ہو یا حکومت سے دونوں جانب اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا
گیا جس کو دیکھتے ہوئے عوام بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔

اسکولوں کو اس لئے بندکردیا گیا کہ بچوں کو کورونا سے بچانا ہے بہت اچھی بات ہے احتیاطی تدابیر
کو سراہا جانا چاہئے لیکن کیا ہم اسکولز بندہونے کے بعد اپنے بچوں کو گھروں تک محدود رکھ رہے
ہیں بالکل نہیں بازاروں ،پارکس ،تقریبات میں بچے شریک ہورہے ہیں سوائے اسکول کے ہر جگہ بچوں
کو لے جایا جارہا ہے کیا کورونا صرف اسکول سے ہی بچوں کو متاثر کرسکتا تھا۔

کورونا سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز تو بنائی جاتی ہیں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں روزانہ کی
بنیاد پر میٹنگز بھی ہوتی ہیں این سی سی کی بھی میٹنگز گاہے بگاہے ہوتی رہتی ہیں بہت سے اعلانات
بھی کئے جاتے ہیں کہیں پابندیاں لگائی جاتی ہیں کہیں جرمانے لگائے جاتے ہیں کہیں اسمارٹ لاک
ڈائون ہوتا ہے تو کسی جگہ کو سیل کردیا جاتا ہے لیکن سوال وہی ہے کہ یہ سب کچھ عوام کے لئے
ہی کیوں ہوتا ہے ہمارے لیڈران ان تمام پابندیوں پر خود عمل کیوں نہیں کرتے کیوں اتنا غیر سنجیدہ
رویہ اختیار کیا جاتا ہے

اپوزیشن اور حکومت دونوں جانب سے گلگت بلتستان کے الیکشن کے دوران بڑے بڑے جلسے منعقد
کئے گئے ، وزیراعظم نے پنجاب میں بھی تقاریب سے خطاب کیا اپوزیشن نے بھی اپنے جلسے جاری
رکھے ہوئے ہیں جب ان باتوں پر تنقید کی جائے تو جواب دیا جاتا ہے کہ اس وقت کورونا کا پھیلائو
اتنا نہیں تھا اب کیسز میں اضافہ ہورہا ہے تو جلسے جلوسوں پر پابندی لگادی گئی ہے لیکن یہ
پابندی بھی صرف نام کی حد تک ہی دیکھنے میں آرہی ہے بازار، مارکیٹیں ، شاپنگ سینٹرز، بس
اسٹاپس، پبلک ٹرانسپورٹ سمیت تقریبا تمام ہی ایسی جگہیں جہاں عام آدمی کی آمدورفت ہوتی
ہے وہاں کوئی ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جارہا خود حکومتی نمائندے ایس او پیز کی دھجیاں
اڑاتے نظر آرہے ہیں

اپوزیشن جماعتیں جن کے لیڈرز خود کورونا کا شکار ہوگئے ہیں کچھ آئسولیشن میں ہیں کچھ ریکور
ہو کر واپس آئے ہیں لیکن انہوں نے بھی نہ ریلیاں نکالنا چھوڑی اور نہ ہی جلسے کرنے سے رکے حکومت
کی جانب سے بار بار کہا جارہا ہے کہ کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 2 فیصد سے بڑھ کر 7 فیصد ہو
گئی ہے جبکہ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ شرح 12 فیصد سے زائد ہے

آج کے اعداد و شمار پر نظر دوڑائیں ملک میں کورونا مثبت آنےکی سب سےزیادہ شرح پشاور میں19.65 ریکارڈ
کی گئی جب کہ کورونا مثبت آنے میں کراچی کا دوسرا نمبر ہے جہاں شرح 17.73 فیصد ہے، تیسرے نمبر پر
حیدرآباد ہے جہاں شرح 16.32 فیصد ریکارڈ کی گئی۔آزاد کشمیر میں کورونا مثبت آنےکی شرح 10.79 فیصد
بلوچستان 6.41، گلگت بلتستان 4.81، اسلام آباد 5.84، کے پی 9.25، پنجاب 3.59، سندھ 13.25، لاہور
4.52، راول پنڈی 11.49، کوئٹہ 9.77 اور مظفرآباد میں 10.34 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

Corona Virus , Khabarwalay.com

وائرس پھیل رہا اور سوال ختم نہیں‌ ہو رہے

اس تیزی سے کورونا کا مرض بڑھ رہا ہے لیکن پھر بھی یہ سوال ختم نہیں ہورہا کہ کورونا ہے بھی یا
نہیں ؟ تو خدارا اپنے لئے اپنے گھر والوں کے لئے سنجیدہ ہوجائیں ایس او پیز پر عمل کریں کورونا
ایک حقیقت ہے جس سے انکارنہیں کیا جاسکتا یہ ایک بیماری ہے جس سے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ
لقمہ اجل بن چکے ہیں پاکستان میں ہزاروں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جولوگ اب بھی
اس وبا کو سنجیدہ نہیں لے رہے اور اس کو محض ایک دھوکا قرار دے رہیں وہ ہمارے آپ کے دشمن ہیں
ہم ذاتی طور پر درجنوں ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہوں نے اس بیماری کو شکست دی لیکن جن کیفیات
کا وہ تذکرہ کرتے ہیں اس کو سن کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں تو ایسی کسی بھی صورتحال سے بچنے
کے لئے احتیاط کیجئے کیونکہ اس بیماری کا واحد علاج احتیاط ہے اور اس کی اب تک واحد ویکسین
ماسک ہے ماسک کا استعمال لازمی کریں اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے –


شیئر کریں: