کورونا کے نام پراسپتالوں میں لوٹ مار

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

” کورونا وائرس ” کی آڑ میں شہریوں کے قتل اور لُوٹ مار کی شکایات اب عام ہونے لگی ہیں
قرنطینہ سنٹرز میں بند شہریوں اور سرکاری و نجی اسپتالوں میں مریضوں کی حالت زار سے خوفزدہ
شہریوں نے ” کورونا” کے تشخیصی ٹیسٹ ہی سے بچنا شروع کر دیا۔
شہریوں کو اسپتال میں زبردستی” کورونا ” کا مریض قرار دینے کے بارے میں ایک اور وڈیو سامنے آگئی
جس میں ” مریضہ ” کا شوہر چیخ چیخ کر اپنی مدد کے لئے دہانی دے رہا ہے۔

ڈیفنس لاہور کے نیشنل اسپتال میں بنائی گئی اس وڈیو میں شہری نے دھمکی دی ے کہ اگر اس کی بیوی کی
جان چلی گئی تو وہ اپنے تینوں معصوم بچوں کو لاکر اسپتال کے باہر بچوں سمیت خود کو آگ لگا لے گا۔

اس نے وزیراعظم، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس، لاہور ہائی کورٹ اور محکمہ صحت کے حکام
سے مدد اور داد رسی کی اپیل کی ہے۔

https://www.facebook.com/1722081668022867/posts/2686530281577996/?vh=e&d=n
لاہور کے اس شہری کا کہنا ہے کہ وہ 10 روز قبل کسی معمولی شکائت پر علاج کے لئے اپنی بیوی کو
ڈیفنس لاہور کے ایک پرائیوٹ اسپتال ” نیشنل اسپتال ” لایا تھا جسے اسپتال انتظامیہ نے بلاوجہ کورونا
کی مریضہ ڈیکلیئر کر کے “کورونا وارڈ ” میں منتقل کردیا۔

اب ایک دن کی 90 / 90 ہزار روپے کی ادویات کا بل تھمایا جا رہا ہے۔
” مریضہ ” کی حالت پوچھنے پر کہا جا رہا ہے کہ “بس دعا کریں”۔
اس کاکہنا ہے “میں دس دن پہلے اچھی بھلی بیوی کو گاڑی میں یہاں دکھانے لایا تھا۔

اس وقت تک اسے نہ تو کوئی گردوں کا مسئلہ تھا نہ جگر کا عارضہ ، لیکن اسے زبردستی آئی سی یو میں داخل کر لیا گیا۔

شہری کا کہنا ہے یہاں سینئر ڈاکٹرز چیک کرنے آتے ہیں نہ ہی کوئی مناسب دیکھ بھال کی جارہی ہے۔
صرف ایک سینئر ڈاکٹر دیکھ جاتے ہیں لیکن بھاری بل ہر روز تھما دیا جاتا ہے۔
اس نے اسپتال کا بل دکھاتے اور روتے ہوئے کہا ” یہ دیکھیں ایک دن کا نوے ہزار کی دوائیوں کا بل مجھے پکڑا دیا ہے”۔

ہفتہ بھر قبل کراچی سے بھی ایک سرکاری آڈیو کال کی ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ
کے اسٹاف کی ایک رکن کشمالہ قادر نے ” کورونا ” کی مبینہ مریضہ کے قرنطینہ سے متعلق اپ ڈیٹ کے لیے
جب اس کے نمبر پر کال کی تو پتہ چلا مریضہ کو اس مہلک وائرس سے متاثرہ قرار دے کر زبردستی
انڈس اسپتال میں داخل کیا گیا پھر پتہ نہیں دوا کی آڑ میں اسے کیا دیا گیا کہ دیکھتے ہی دیکھتے
اس کی حالت بگڑ گئی اور اسے وینٹی لیٹر لگا دیا گیا۔

اہل خانہ سے دو دن تک صرف وڈیو کال کے ذریعے رابطہ کروایا جاتا رہا جس کے دوران محض اشاروں
میں مریضہ سے بات کروائی جاتی اور پھر 2 روز بعد مریضہ چل بسی۔

شوہر نے اس کی موت کو حکومت کی طرف سے قتل قرار دیا تھا۔
اس کا کہنا تھا کہ ضیاء الدین اسپتال سے دو بار ٹیسٹ کروانے پر اس کی بیوی کی رپورٹ نیگیٹو آئی تھی
لیکن اس کے باوجود ڈاکٹروں نے پر اسرار انداز میں آپسی ” مشاورت” کر کے زبردستی اسے کورونا
کی متاثرہ ڈیکلیئر کر دیا تھا۔

اسی دوران کراچی سے ایک ایسی وڈیو بھی سامنے اچکی ہے جس میں ایک شہری بتا رہا ہے کہ اسپتال
میں کسی دوسری بیماری سے دم توڑ جانے والی اس کی والدہ کو “کورونا پیشنٹ” ڈیکلیئر کرنے پر
رضا مند ہوجانے کی صورت اسپتال انتظامیہ نے 40 ہزار روپے کی پیشکش کی تھی۔

اس سلسلے میں سب سے پہلے ڈیڑھ ماہ قبل پنجاب کے شہر خوشاب کے سرکاری اسپتال کی وڈیو
منظر عام پر آئی تھی جس میں اسپتال کا پورا وارڈ ” کورونا ” کے فرضی مریضوں سے بھرا دکھایا گیا
تھا جو بتارہے تھے کہ ان کا ٹیسٹ اگرچہ منفی آیا ہے مگر اس کے باوجود ان صحت مند شہریوں
کو خواہ مخواہ کورونا وائرس کے مریض کے طور پر داخل کیا ہوا ہے۔

اور وہ مزے سے تین وقت مفت میں سرکاری کھانا ” اڑا ” رہے ہیں۔
بعد میں جب پنجاب میں کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ سامنے آیا تو سرکاری قرنطینہ سنٹرز
میں ” قید ” شہریوں کے تکلیف دہ حالات کے قصے اس قدر عام ہوئے کہ بہت سے دفاتر میں کارکن
ادارے کے خرچ پر بھی کورونا ٹیسٹ سے بچنے کے لئے دفتر سے فرار یا غیر حاضر ہونا شروع ہوگئے۔

اس سلسلے کا تازہ ترین واقعہ روزنامہ جنگ لاہور کے دفتر میں پیش آیا جہاں روزنامہ ‘ آواز ‘ کے
ورکرز سمیت ” جنگ گروپ ” کے بہت سے کارکنوں نے ٹیسٹ کروانے سے انکار کر دیا۔


شیئر کریں: