کورونا کی دوا پاکستان میں تیار کی جائے گی

شیئر کریں:

کورونا وائرس کے مریضوں کیلئے بڑی پیش رفت سامنے آگئی ہے۔
کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے موثر دواء دریافت کر لی گئی ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ امریکا کی کمپنی گلیڈ نے اینٹی وائرل
دوائی Remidisiver ریمیڈیزور پاکستان کو بنانے کی اجازت دے دی ہے۔
امریکن کمپنی کی پاکستانی کمپنی بی ایف باییو سائنسز کو کورونا وائرس کی دوائی بنانے کی
اجازت دینا ملک کے لیے بڑا اعزاز ہے۔

دنیا میں دو ممالک کو یہ دواء بنانے کی اجازت ہے اور پاکستان اس میں سرفہرست ہے۔
گلیڈ نے جنوبی ایشیاء کے پانچ مینو فیکچررز کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔

پاکستان کی مینوفیکچررز بی ایف بائیو سائنسز لمیٹیڈ نے گلیڈ کے ساتھ معاہدہ کر لیا ہے۔
یو ایس ایف ڈی اے کی جانب سے تجرباتی بنیاد پر دوائی کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی۔
آٹھ مئی کو جاپانی حکام نے بھی اس دوائی کی منظوری دی۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی منظوری کے بعد چند ہی ہفتوں میں کمپنی دوائی بنانا شروع کردے دی گی۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ترجیح بنیادوں پر قانونی کارروائی کے بعد کمپنی کو دوا بنانے کی اجازت دے گی۔
حکومت گلیئڈ سائنسز کے لائسنسنگ کے اہم اقدام کی تعریف کرتی ہے۔
یہ اقدام پاکستان کے شعبہ صحت، معاشی اور سفارت کاری کے میدان میں اہم پیش رفت ہے۔
اس اقدم سے پاکستان میں کورونا کے مریضوں اور ہیلتھ ورکرز کو وباء سے نمٹنے کیلئے جدید
بنیادوں پر سہولت میسر ہو جائے گی۔
پاکستانی ادارہ معاہدہ کے تحت 127 ممالک کو دواء فراہم کرے گا۔
موجودہ صورت حال میں پاکستان کی فارما انڈسٹری کیلئے برآمدات کے شعبے میں اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔

ترقی پذیر ممالک میں دوائی کی برآمد سے ہیلتھ کے شعبے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی
پوزیشن کو بہتر بنانے کا بھی موقع ملے گا۔


شیئر کریں: