کورونا کی حقیقت

شیئر کریں:

تحریر امین وارثی
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دو سو سے زائد وائرس ہیں جو ہماری زندگی کا پارٹ اینڈ پارسل ہیں۔
کورونا بھی زندگی کا حصہ ہے موسم بدلنے کے ساتھ ہی فلو کا سیزن شروع ہوتا ہے۔
امریکی اعدادو شمار کے مطابق ہر سال 15 فیصد لوگ فلو سے مرتے ہیں یہ کوئی عجوبہ نہیں۔.
ایک منصوبہ بندی کے تحت فارماسیوٹیکل کارپوریٹ انڈسٹری کے بڑوں نے کورونا وائرس کا خوف پھیلا کر عالمگیر لاک ڈاؤن کروایا ہے۔
ہو سکتا ہے اس کی سیاسی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں کیونکہ اس وقت پوری دنیا کے ایشو پس منظر میں چلے گئے ہیں اور صرف کورونا کا رونا رویا جا رہا ہے۔.
حقیقت میں ہمارا دشمن کورونا نہیں کورونا کا ہوا کھڑا کرنے والی وہ فارماسیوٹیکل کارپوریٹ کمپنیاں ہیں جن کا کوئی دیش ہے اور نہ ہی دھرم۔
یہ اینٹی بائیوٹک، اینٹی وائرل دوائیاں اور ویکسین کی خرید وفروخت کا دھندہ کرتی ہیں۔
یاد رہے دوائیوں کا کاروبار ہی دنیا کا نمبر ون کاروبار بن چکا ہے۔
بھارتی پنجاب کے سائنسدان ڈاکٹر امر سنگھ آزاد کا کہنا ہے کہ کورونا کو بنیاد بنا کر عالمی ادارہ صحت کی مدد سے پوری دنیا کو لاک ڈاؤن کے ذریعے مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس کی کوئی منطق نہیں یہ جرم ہے لوگوں کی پیشانی پر ہیٹ سینسر لگا کر انہیں آئسولیٹ کیا جا رہا ہے۔
انہیں ڈرا کر ان کی قوت مدافعت کو کم کیا جا رہا ہے وائرل اٹیک سے بچ نکلنے کا واحد طریقہ قوت مدافعت کو بڑھانا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ان آبادیوں کو لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے جہاں پہلے ہی غربت ہے غریبوں کو اچھی خوراک دے کر ان میں قوت مدافعت بڑھانے کی بجائے انہیں موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔
اشیائے خورونوش کی قلت ہے اور ان کے حصول کو مشکل کیا جا رہا ہے۔
حتیٰ کہ غریب مزدوروں کو دو وقت کی روٹی کیلئے آٹا نہیں مل رہا یا بلیک میں بیچا رہا ہے۔
دیہاڑی دار مزدوروں کو ماہانہ تین ہزار روپے دینے کا جو وزیر اعظم کی طرف سے امدادی پیکج اعلان کیا گیا ہے وہ دیگر سبسڈیز کے مقابلے میں اونٹ کے منہ میں زیرہ دینے کے مترادف ہ۔
۔
حکومت غربت ختم کرکے لوگوں میں برابر وسائل تقسیم کرے تاکہ خوراک کا معیار بہتر ہو سکے ہر شخص کو جب معیاری خوراک ملے گی تو اس کا قوت مدافعت کا لیول بڑھ جائے گا۔
پھر اس پر کورونا وائرس سمیت چھوت کی کوئی بیماری جان لیوا اٹیک نہیں کر پائے گی۔


شیئر کریں: