کورونا کا خوف اسکولوں پر تالے، مساجد اور شادی ہال کھلے رہیں گے؟

شیئر کریں:

تحریر شہلا رضا

کورونا وائرس کی دہشت گردی نے سندھ حکومت کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
کراچی سمیت سندھ بھر میں امن و امان کی صورت حال تو بہتر بنادی گئی لیکن اب حکونت کا مقابلہ ان دیکھے دشمن سے ہے۔
دشمن بھی وہ جو دیکھائی نہ دے، اچانک حملہ کرتا ہے اور تیمار داری کے لیے آنے والوں کو بھی ڈھیر کردیتا ہے۔
امیر ہو یا غریب سب ہی اس ان دیکھے دشمن کے سامنے بے نس اور لاغر ہوتے ہیں۔
اسی خطرہ کو بھانپتے ہوئے سندھ حکومت نے انتہائی قدم اٹھا لیا ہے۔
نئی نسل کو اس بے رحم وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے تعلیمی اداروں کی چھٹیاں مزید بڑھا دی ہیں۔
اب سولہ مارچ کو کھلنے والے تعلیمی ادارے 30 مئی تک بند رہیں گے۔
صورت حال بہتر ہوئی تو تعلیمی ادارے یکم جون کو کھولے جا سکتے ہیں۔
اللہ تعالی رحم فرمائے سب پر اخر حالات اتنے ہی خراب ہیں تو کیا پھر مساجد میں جمعہ کے اجتماعات ہوں گے؟
کیا شادی پالوں میں اسی طرح سے شادیاں ہوتی رہیں گی؟
اس جانب بھی حکومت کو توجہ دینی ہوگی اور مارکیٹس کی طرف بھی نگاہ ڈالنی ہوگی۔
بچوں کے والدین کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسکولوں کو فیسیں کیا اسی طرح دی جاتی رہیں گی؟
والدین نے حکومت اور عدلیہ سے اپیل کی ہے کہ اسکولوں کو فیسوں کی وصولی سے روکا جائے۔
کیا اسکولوں کی جانب سے چھٹی کے باوجود فیس چالان گھروں پر بھیجے جائیں گے؟
حکومت اور عدالتیں والدین کو اس اضافی اور غیر ضروری بوجھ سے بچائیں۔


شیئر کریں: