March 22, 2020 at 12:18 am

تحریر ڈاکٹر نذیر احمد

دنیا میں وبائی امراض کے پھیلنے کی صدیوں پرانی تاریخ موجود ہے ہر سال پوری دنیا میں350سے 500 ملین افراد ملیریا کا شکار ہوتے ہیں۔
ایک سے تین ملین افراد ملیریا کے مرض میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں.
ٹی بی بھی وبائی بیماری ہے جو ایک جراثیم کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس سے ہر سال 17سے 20لاکھ افراد کی ہلاکت ریکارڈ کی گئی ہے۔
سن 1345میں طاعون کی وبا نے تقریباً پانچ کروڑ افراد کو نگل لیا تھا۔
1896میں انڈیا میں طاعون کی وبا ء سے 15لاکھ لوگ مر گئے تھے۔
1918سے 1920کے دوران سپینش فلو نے لگ بھگ 50لاکھ افراد افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا تھا۔
یہ وبا امریکہ یورپ ایشیاء اور افریقہ تک پھیل گئی تھی چیچک کا مرض اٹھاروی صدی میں نمودار ہوا 1950میں یہ وباء کی صورت پھیل گیا۔
دو دہائیوں میں تین کروڑ سے زائد انسان اس سے متاثر ہوئے 1970تک سالانہ 50لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے۔
پولیو سے لاکھوں افراد معذور ہوئے ہیں. ایچ آئی وی ایڈز مہلک ترین وائرس ہیں. ڈبلییو ایچ او کے مطابق دنیا میں اموات کی دوسری بڑی وجہ کینسر ہے۔
2018میں 96لاکھ لوگ کینسر سے مرے ہیں ایک سروے کے مطابق دنیا میں چالیس فیصد اموات امراض قلب کی وجہ سے ہوتی ہیں۔
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا اس وقت جس صورتحال سے دوچار ہے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا پہلی دفعہ عالمی سطح پر سماجی اور مذہبی سرگرمیوں کا لاک ڈاؤن دیکھنے میں آرہا ہے۔
بڑی بڑی مضبوط معاشی طاقتیں پریشان ہیں عالمی سطح پر سٹاک مارکیٹ انڈیکس گر چکے ہیں۔
کورونا وائرس کو بنیاد بنا کر ایسا خوف پھیلایا گیا ہے جس نے تقریباً ہر ملک کی معیشت کو شکنجے میں لے لیا ہے اس معاشرتی خوف اور اس کے مسلسل پھیلاؤ کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں ؟

کیا یہ سب نیو ورلڈ آرڈر کا تسلسل ہے ؟

ایک ایسا نیو ورلڈ آرڈر ایک ایسا سرمایہ درانہ نظام جس کی بنیاد “خواہشات “پر قائم ہے اور اس کے تحت عالمی سطح پر آداب ِمعاشرت, امورِتجارت اور مذاہب سے بے زاری پیدا کر کے کسی نئے مذہب کو رائج کرنے کی سازش ہے ؟ اور اسے عالمی تناظر میں یہودی کی عالم گیر سازش و منصوبہ قرار دیا جا سکتا ہے ؟
کورونا بیماری جس طرح عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز ہے اس میں بیماری کی شدت میں تباہی سے زیادہ خوف پیدا کرنے کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے اس وقت دنیا کی آبادی سات ارب چالیس کروڑ سے زائد ہے۔
آج تک تین لاکھ تین ہزار 55 لوگوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس وائرس سے 12 ہزار 955 لوگ ہلاک اور 94 ہزار 625 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
کورونا بیماری قابل علاج ہونے کے باوجود دنیا بھر میں خوف کی علامت بنا کر پیش کی جا رہی ہے۔
دنیا بھر میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں پرستش خانوں کی بندش, نیو ورلڈ آرڈر کی جانب کہیں کوئی سوچا سمجھا منصوبہ تو نہیں ہے؟
اہل علم, سیاستدانوں, سائنسدانوں کو کورونا وائرس کے پس منظر میں حقیقت اور فریب کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments