کورونا وائرس بھی نسل پرست نکلا، سیاہ فاموں کو نشانے پر رکھ لیا

شیئر کریں:

امریکی پولیس کے بعد کورونا وائرس بھی نسل پرست نکلا۔
امریکا میں کورونا وائرس نے سب سے زیادہ سیاہ فام اور لاطینی امریکیوں کو نشانے پر رکھ لیا۔
امریکی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس نے سب سے زیادہ لاطینی امریکی اور پھر سیاہ فام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ مہلک وائرس نے سب سے کم سفید فام شہریوں کو نشانہ بنایا۔

اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس نے 10ہزار میں سے 73 لاطینی امریکی شہریوں کو نشانہ بنایا۔
متاترہ سیاہ فام شہریوں کی تعداد 62 ہے۔ اسی طرح کورونا سے متاثر ہونے والے امریکی شہریوں کی شرح38 ہے۔
دوسری طرف کورونا وائرس نے حیران کن طور پر سفید فام شہریوں کو نسبتا کم متاثر کیا۔
10ہزار شہریوں میں سے صرف 23 سفید فام شہری کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔

ٹرمپ کی نسل پرستی سب سے بڑا وائرس قرار

امریکا میں پولیس کے تعصبانہ رویے کے خلاف تو سیاہ فام شہری احتجاج کررہے ہیں
اور امریکی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں لیکن قدرت کی طاقت کے سامنے سب بے بس ہیں۔
اس بات کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جاسکا کہ کورونا وائرس سیاہ فام اور لاطینی شہریوں کو زیادہ نشانہ بنا رہا ہے؟


شیئر کریں: