کورونا نے پاکستان میں غیرملکی سرمایہ کاروں کا منافع بھی کم کردیا

شیئر کریں:

کورونا کے معاشی اثرات سے پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا منافع بھی کم ہو گیا۔
تاہم کمی کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران 220 ارب روپے سے زائد کا منافع ہوا۔
12 ماہ میں منافع کی مد میں غیر ملکیوں نے ایک ارب چونتیس کروڑ ڈالر پاکستان سے باہر بھجوائے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاروں
کی طرف سے منافع کی مد میں مجموعی طور پر ایک ارب 34 کروڑ 59 لاکھ ڈالر
بیرون ملک بھجوائے گئے جو پہلے سے 26 فیصد کم ہیں۔
جولائی سے جون کے اختتام تک ایک ارب 20 کروڑ 30 لاکھ ڈالر
صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والے منافح کی مد میں باہر بھجوائے گئے۔

ارب پتی سرمایہ دار دیوالیہ، ائیرلائنز تباہ ہوگئیں

14 کروڑ 29 لاکھ ڈالر غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ سے کما کر باہر بھجوائے۔
پاکستانی روپے میں تو غیر ملکیوں کا منافع پہلے سے تقریبا 15 فیصد کم ہوا لیکن
روپے کی بے قدری نے ڈالروں میں منافع مزید کم کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق صنعتی شعبے میں سب سے زیادہ 25 کروڑ 6 لاکھ ڈال
ر کا منافع پاکستان میں تیل اور گیس تلاش کرنے والوں کی طرف سے بھجوایا گیا۔

حکومت ترک سرمایہ کاروں کو ہرممکن سہولت فراہم کرے گی۔

غیر ملکی بینکوں اور مالیاتی اداروں نے 23 کروڑ 88 لاکھ ڈالر اور ٹرانسپورٹ سیکٹر
کے سرمایہ کاروں نے 17 کروڑ 61 لاکھ ڈالر باہر بھجوائے۔
رپورٹ کے مطابق برطانوی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر
28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر اور امریکیوں نے 19 کروڑ 27 لاکھ ڈالر باہر بھجوائے۔
ہانگ کانگ سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی طرف سے باہر بھجوائی جانے
والی رقم 14 کروڑ 71 لاکھ ڈالر اور چینی سرمایہ کاروں کی طرف سے 11 کروڑ 16 لاکھ ڈالر تھی۔


شیئر کریں: