کورونا وائرس نے فطرت کی طرف پلٹا کے جینا سیکھا دیا

شیئر کریں:

تحریر ایس کے زیدی

مجبور ہو کر ہی صحیح فطرت کی جانب لوٹ ہی آئے کورونا انسان کو قدیم رسم ورواج کی
طرف واپس لے جانے لگا ہے۔
کووڈ-19 نے ہماری زندگی کے رہن سہن میں کئی تبدیلیاں پیدا کر دی دی ہیں۔
جہاں دنیا بھر میں پھیلی کورونا وباء نے تباہی پھیری وہیں زندگی کے طور طریقوں کو بھی یکسر تبدیل کردیا۔
کورونا وائرس سے دنیا بھر کے بڑے بڑے شہروں کے روز مرہ کے امور بدلتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں۔
کورونا نے پورے کرہ عرض پر ہلچل مچائی اور پاکستان بھی اس متعدی بیماری کی لپٹ میں آیا۔
دیگر ملکوں کے مقابلے میں پاکستان میں خوش قسمتی سے کورونا سے اموات کی شرح نسبتا کم رہی۔
پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس 26 فروری کو کراچی شہر سے رپورٹ ہوا تھا۔

اس کے بعد پاکستان حکومت نے بروقت لاک ڈاوُن کے نفاذ سے وائرس کو کسی حد تک کنٹرول کیا۔
اسمارٹ لاک ڈاوُن کی طرز پر سرگرمیاں محدود ہوتی چلی گئی رات گئے تک کھلی رہنے والی مارکیٹی
فوڈ اسٹریٹ، ریسٹورنٹس اور اسٹورز پر سناٹا دیکھنے کو ملا دنیا اس وقت اکیسویں صدی کے اختتام
کی جانب بڑ ھ رہی ہے۔
انسان کی بدولت سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ زمین پر تقربیا سارے کام مشین کی مدد سے کیے
جارہے ہیں یہاں تک کہ انسان سائنس اور اپنے ہنر کے آگے ایسا اندھا ہوچکا ہے کہ وہ فطرت کے
نظام کو چیلنج کر بیٹھا ہے۔

یورپ اور مغربی نظام کا ہماری زندگیوں میں عمل دخل جس کی بڑی مثال ہے۔
یورپ اور مغرب کے نظام کی کامیابی دیکھ کر مشرق وسطی بھی ترقی پسند نظام کی جانب کھنچے چلے
جارہے ہیں اور وہ ان کی مجبوری کہیں یا پھر پیسہ کمانے کی جدوجہد لیکن ان سارے عمل میں یہ
کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ مغربی ممالک مشرقی وسطی میں اپنے نظام کو رائج کرنے میں کافی
حد تک کامیاب ہوا۔

یورپی ممالک کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہاں کی راتیں جاگتی ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہاں
کے رہنے والے رات ہوٹلز اور بارز میں بسر کرتے ہیں اور دیر سے گھروں کو لوٹتے ہیں۔

یعنی ان کی رات کی نیند سورج کی روشنی سے منسلک ہوتی ہے یہی دستور مشرقی وسطی کے
ممالک میں بھی پنپنے لگا ہے کہ اور یہاں بالخصوص پاکستان میں رات گئے تک ہوٹلز اور چائے
خانوں کا کھلا رہنا “امن کی بحالی” سے جوڑا جاتا ہے مگر یہ فطرت کے اصولوں کے خلاف ہے
جس کو دیکھنے کے لیئے کوئی بھی تیار نہیں ہے۔

کورونا سے قبل پاکستان کے لوگ بھی تقریبا یورپی اصولوں کے تحت زندگی گزارنے لگے ہیں۔
پاکستان کے سب بڑے شہر کراچی کے بارے میں یوں کہا جائے کہ “کراچی بھی نیویاک شہر کی
طرح جاگتا ہے” تو غلط نہیں ہوگا۔
یہاں پر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو فطرت کے برعکس رات جاگ کر گزرتا ہے۔
رات گئے تک تقریبات، شادیاں، چائے خانوں کی رونقیں، کھانے پینے کے مراکز پر بے ہنگم رش دیکھا
جاسکتا ہے اور رہی سہی کسر علاقوں کی بنیاد پر گلی محلہ میں نوجوانون کی بیٹھک نے فطرت
کے رنگ بدل کر رکھ دیئے ہیں۔
یہاں پر نوجوان طبقہ رات رات بھر جاگ کر اور دن بھر سو کر بڑا آدمی بننے کے خواب دیکھ کر
دن برباد کردیتا ہے اور پھر رات آنے پر دوبارہ مدہوش ہوجاتا ہے۔

کورونا وائرس کا پھیلنا قدرت کی موجودگی کا احساس دلانے کی طرف بھی ہوسکتا ہے۔
اس وبا سے قبل دنیا اپنے اپنے خداوُں اور اسُ دنیا سے واپس جانے کا ارادہ بھلا ہی چکی تھی مگر
قدرت نے انسان کو واپس فطرت کی جانب لوٹنے پر مجبور کردیا۔

کراچی ہی کہ بات ہورہی ہے تو کورونا نے کراچی والوں کا بھی طور طریقہ بدل دیا ہے۔
اب یہاں کاروباری سرگرمیاں صبح سے ہی شروع ہوجاتی ہیں اندھیرا ہوتے ہوتے شہر بھی
خاموش ہو جاتا ہے۔
شہر میں رات گئے والی رونقیں نا ہونے کے برابر ہیں کورونا کا خوف دو وقت روٹی کے لیئے
کاروبار کرنے والوں کو صبح ہوتے ہی دکان کا شٹر اٹھانے اور سورج غروب ہونے پر گرانے
کا عادی بنا رہا ہے۔

فطرت نے نظام کو واپس پلٹا دیا ہے بزرگوں سے سنا تھا کہ گاوُں دیہات والے دن کی روشنی
میں تقریبات کر لیتے ہیں۔
کورونا کے باعث اب شہر میں شادیاں دن کو ہی نمٹائی جارہی ہیں رات گئے تک تقریبات
کا تصور اب ختم ہو رہا ہے۔
دو ہزار اٹھارہ سے قبل دنیا مختلف تھی سب کچھ نارمل تھا مگر دسمبر دو ہزار انیس نے
ہمیں بہت کچھ سیکھا دیا۔
دو ہزار انیس سے دو ہزار بیس کے اختتام کے نزدیک پہنچنے تک “کورونا وائرس” نے فلم
کے اسکرپٹ کی طرح دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔
اس وباء نے جانی نقصانات کے ساتھ ساتھ فطرت کے اصولوں کو ہماری زندگی میں واپس
بھیجا ہے جس کو ہم سب بھلا چکے تھے۔
امید ہے کہ کورونا کے خاتمے کے بعد بھی فطرت کے اصولوں پر ثابت قدم رہنا ہم سب
کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو گا۔


شیئر کریں: