کورونا میں تعلیمی اداروں سے بچوں دوری مسائل کا سبب بنے گی

شیئر کریں:

ذہنی صحت اور امراض اطفال کے ماہرین نے خبر دار کیاہے کہ عالمگیر وبا کورونا میں روایتی یاباقاعدہ تدریس میں طویل تعطل کے نتیجے میں بچوں کی کلاس روم میں شمولیت اور نصابی وہم نصابی سرگرمیوں کے جوش میں کمی دیکھی جارہی ہےاس کا سائنسی وطبی بنیادوں پربر وقت حل نہ نکالا گیا تو بچوں کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں گےجن کی تلافی ممکن نہ ہوسکے گی ،یہ بات ان ماہرین نےیونیورسٹی روڈ پر واقع ہیلتھ آئیکون میڈیکل اور ڈائیگناسٹک سینٹر میں کورونا وبا کے اثرات اوربچوں کی جذباتی اور نفسیاتی رویے کے عنوان سے منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہیں جس میں معروف اسکولوں کے سینیر اساتذہ اور والدین نے شرکت کی ورکشاپ سےکنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر زوبیہ رمضان٫ ڈاؤ یونیورسٹی کے کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ ڈاکٹر واس دیو امر،پیڈیاٹریشن ڈاکٹر ساجد جبار،معروف سائیکو تھراپسٹ ڈاکٹرکلثوم حیدر،کلینیکل سائیکالوجسٹ مس سنبل،مس حنا اسپیچ تھراپسٹ مس اسما آغا،مس مہوش، ڈاکٹر فاہیلہ اور ڈاکٹر ذکیہ افتخار نے بھی خطاب کیا۔ ورکشاپ سے خطاب میں ڈاکٹر واس دیو امر نے کہاکہ بڑی کلاسز کے بچوں میں کووڈ کی طویل تعطیلات کے دوران منشیات کا استعمال کا رجحان بھی بڑھتا دیکھا گیاہے
خصوصا پوش ایریاز میں آئس، کرسٹل،کے علاوہ چرس اور کوکین کے کیسز بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں ایسے بچوں کی کلاس روم میں شمولیت بہت کم اور اسکول پرفارمنس بہت ناقص ہوتی ہے اور وہ تنہائی پسند ہوجاتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر معالجین کے ساتھ حکومتی سطح پر بھی دیکھا جائے سماجی و اصلاحی تنظیمیں بھی آگے بڑھ کر کردار ادا کریں ڈاکٹرکلثوم حیدر نے کہاکہ اساتذہ اسکول اور والدین گھر میں بچوں پر ہی توجہ مرکوز رکھیں ان کے رویے اور رجحانات میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کا مشاہدہ کریں تو باہم رابطے سے اس کا حل نکالیں کسی بھی معاملے پر فوری ردعمل ظاہر نہ کیاجائے اس ضمن میں ذہنی صحت کے ماہرین سے بھی مشاورت کی جاسکتی ہے انہوں نے کہاکہ اسکول کے ساتھ دینی مدارس میں زیرتعلیم بچوں پربھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے اس کےلیے خاص طور علمائے دین سےصلاح مشورہ اور ذہنی صحت کے ماہرین سے ان کا رابطہ کرانا ضروری ہےمس حنا نے بچوں کا غصہ کنٹرول کرنےاور بچوں کی ذہانت کو جانچنے کے مختلف طریقوں پر روشنی ڈالی

ڈاکٹر ساجد جبار نے کہا کہ ان دنوں بعض بچوں میں پہلے سے عام شکایات بھی سامنے آئی ہیں کہ اسکول کے اوقات کے دوران بچوں کے پیٹ میں درد ہوتاہے گھر آنے کے کچھ دیر بعد ٹھیک ہوجاتے ہیں والدین کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ بچے کو پیٹ کے درد کے ساتھ دیگر شکایات ہیں مثلا ہلکا بخار،الٹی متلی اور چکر وغیرہ تو ایسے بچوں کےلیے ماہر امراض اطفال سے رجوع کریں بہ صورت دیگر ذہنی صحت کے ماہرین سے مشورہ کریں سنبل مجیب نے کہاکہ اساتذہ طلبا کی کلاس میں شمولیت اور والدین گھر میں مثبت مصروفیت کے ذریعے کوشش کریں انہوں نے کہاکہ بہ طور قوم ہم اپنے حال سے بے خبرماضی میں رہنے کے عادی ہیں یا مستقبل میں یہاں ورکشاپ میں بیٹھے اکثر لوگ ذہنی طور پر غیر حاضر ماضی یا مستقبل کی سوچوں میں کھوئے ہوں گےضرور اس بات کی ہے ہم حال میں رہنے کی کوشش کریں اگر یہ راستہ مشکل ہے تو لازم ہے کہ ہم اسی راستے پر چلیں کیونکہ اس سے ہی ہمارا مستقبل روشن ہوسکے گا آئیے طے کریں کہ اپنے کل کے لیے ہمیں آج اورابھی کیسے جینا ہے
ڈاکٹر زوبیہ رمضان نے بچوں کی عزت نفس مجروح کیے بغیر پڑھائی کا شوق بیدار کرنے طریقے بتاتے ہوئے کہاکہ عام طور پر سمجھا جاتاہے کہ بچوں پر سختی کیے بغیرپڑھائی کی طرف مائل کیا جا نا چاہیے یہ تاثر مکمل طور پر درست نہیں ہے بچوں پر ایسی سختی کی ضرورت نہیں جیسے مارپیٹ ،ڈانٹ ڈپٹ ،جھڑکیاں دینا جن سے اسے بے عزتی محسوس ہو اس کے مقابلے ایسی سختی کی جاسکتی ہے جیسے انٹرویل میں اسے یہ کہہ کر کلاس میں روک دیا جائے چونکہ آپ کےلیے تعلیم کو زیادہ وقت دینا ضروری ہے اس لیے آپ انٹر ویل میں بھی اپنا سبق یاد کریں گے یا پھر باقی رہ جانے والا کام مکمل کریں گےاسی طرح اسے اسکول آنے سے یہ کہہ کر روک دیا جائے کہ وہ گھر پر بیٹھ کر اسکول کا کام مکمل کرے اور والدین پر واضح کردیا جائے کہ اسے گھر پر ہرصورت دیگر سرگرمیوں سے روک کر اسکول کاکام مکمل کرائیں ۔ ڈاکٹر ذکیہ افتخار اور دیگر ماہرین نے کہاکہ موجودہ حالات میں عمومی طور پر تمام اور خاص طور پر تبدیل شدہ رویے کے حامل بچوں کا مکمل معائنہ کرانے کی ضرورت ہے ان کی نفسیات کو سمجھنا ہوگاان پر مرتب نفسیاتی اور جذباتی اثرات کو سمجھنا ہوگا اگر ہم ایسا کریں گے تو درحقیقت اپنے اورقوم کے مستقبل کو محفوظ کرلیں گے ۔ورکشاپ کے دوران ماہرین نے شرکا کے سوالوں کے جواب بھی دئیے اور مسائل کے حل کے مختلف طریقوں پربھی تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء نے پروگرام کو سراہا اور اس سرگرمی کو جاری رکھنے کی تجویز بھی دی۔


شیئر کریں: