کورونا مریضوں کا علاج پلازمہ تھراپی سے کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا

شیئر کریں:

امریکا کی فیڈرل ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے دنیا میں تباہی پھیلانے والے کورونا وائرس میں پیسو
ایمونائزیشن (پلازمہ تھراپی) طریقہ علاج کو جاری رکھنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔

کورونا علاج میں‌ پیشرفت، پاکستان کے ڈاکٹر کا کارنامہ

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پلازما تھراپی مستند علاج قرار دینے کا
اعلان آئندہ ہفتہ کیا جائے گا۔
وہ مریض جو کویڈ 19 میں مبتلا ہوکر صحت یاب ہوجاتے ہیں ان کے پلازما میں اینٹی باڈیز
اور پروٹین بن جاتی ہیں جو جسم میں اس وائرس سے لڑنے والے قوت مدافعتی نظام مضبوط کرتی ہے۔
کورونا وائرس سے لڑ کر صحت یاب ہونے مریضوں کے خون سے پلازمہ حاصل کر کے
متاثرہ مریضوں کے جان بچائی جاسکتی ہیں۔

کورونا ٹرائل علاج میں دوا کام کر گئی تمام مریض صحت یاب

وال اسٹریٹ رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے پیسو ایمونائزیشن (پلازمہ تھراپی) طریقہ علاج
کیلئے مالی معاونت کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔

پاکستان میں پیسو ایمونائزیشن (پلازمہ تھراپی) کے کلینکل ٹرائل کا پہلا طریقہ علاج عالمی
شہرت یافتہ ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے متعارف کرایا تھا۔

پاکستان میں کلینکل ٹرائل کے دوران کوویڈ کے 357 مریضوں میں پلازما لگائے گئے
جس میں کامیابی کی شرح80 فیصد رہی۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ اور امریکن ایف ڈی اے نے پورے امریکا میں پلازما کے ذریعے
علاج تسلیم کیا بلکہ اسے 1500سے زیادہ اسپتالوں میں زیرِ علاج 48000سے زائد کورونا
کے مریضوں کیلئے استعمال بھی کروایا۔

کلوروکوئین اور ہائیڈروکسی کلوروکوئین کو کورونا کے خلاف ناکافی شواہد پائے گئے ہیں۔

کلوروکوئین سے دل کے مریضوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا جس کی وجہ سے ان دواؤں کے
کورونا مریضوں میں استعمال پر پابندی عائد کی گئی۔

ملٹی نیشنل کمپنی کی گٹھیا مریضوں کیلئے بنائے گئے انجکشن ایکٹیمرا جو پاکستان میں
لاکھوں کی تعداد میں حکومت اور متعلقہ اداروں نے امپورٹ کئے اور بلیک مارکیٹ میں
لاکھوں کے فروخت کیے۔

پلازما کے ذریعے علاج کوایف ڈی اے کی منظوری ملنے پر ماہرینِ طب پاکستان کی میڈیکل
سائنس میں ایک بہت اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔


شیئر کریں: