March 22, 2020 at 6:19 pm

تحریر : عمران اطہر
پر ہجوم سڑکیں اب ویران پڑی ہیں ،،،کسی نے اپنے چاہنے والے کے لیے تحفہ خردینے کا تو سوچ رکھا ہے لیکن اب بازاروں اور شاپنگ مالز پر تالےپڑے ہیں ،،

کوئی زندگی کی تلخ حقیقتوں سے آنکھیں چرا کر کسی دیرنیہ غم کو بھلانے کےلیےکسی قریبی دوست کے ساتھ چائے کی چسکیوں میں اپنے دل کی ساری باتیں کرنے کے لیے اب بھی بے تاب اور بے قرار ہے

لیکن شہر کی تمام ہوٹیلیں بند پڑی ہیں۔اب یہ تنہائی اداسی روکھا پن آنکھ کو بلکل بھی نہیں بہا رہاہے ۔

ایک عجیب سی بے چینی کا عالم ہے۔خوف سے ذیادہ تنہائی کھائی جارہی ہے۔وہ لمحے وہ پل جن کو پانے کےلیے کبھی ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا تھا اب وقت توہے لیکن وہ لمحے وہ پل کیسے کسی کےساتھ بیتائےجائے یہ سوال اب بھی ذہن کے دریچوں میں اٹھتے ہی ماحول کو سوگوار بنادیتاہے۔

اب کیسے کوئی اپنے پیاروں سے ملے کیسے کھل کر دل کی باتیں کریں کیسے ویران دل کو زندگی کی رعنائیوں سے محظوظ کرے۔کورونا کے خوف نے زندگی کی آئیسولیشن کا جو خلاء پیداکیاہے

اس کو ایک عام آدمی ابھی تک قبول کرنے سے قاصر ہے۔اسے زندگی ہمیشہ کی طرح مسکراتی اچھی لگتی ہے ۔

معمول کی زندگی صبح سویرے اٹھو کام پر جائو شام ڈھلتے ہی گھر لوٹ آئو۔لیکن وقت اور حالات انسان سے ازل سے وہ کام ہی کرا ئےجاتےہیں جس کے لیے اس نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا ہے۔

کورونا وائرس کے بڑھتے خدشات دنیا کے ممالک میں اموات کی خبروں نے انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے۔

موت کی خبر سن کر ہی انسان کے چہرے کی تمام تاثرات بدل جاتے ہیں گو یہ بھی زندگی کی ایک کڑی حقیقت ہے۔ایک دن اس نے آناہے اور ہم سب کو ہی باری باری اپنے ساتھ لے کر جاناہے۔

پریشانی ،مشکلات ، کڑے امتحانات انسان کی زندگی میں آتے ہیں اور کامیاب قومیں وہی ہوتی ہیں جو ہر حال میں جینے کا ہنر رکھتی ہیں۔
اس وباء نے انسان کو انسان سے دور کردیاہے ۔ہرآدمی دوسرے سے ڈرتاہے مصافہ کرنا منع گلے ملنا منع ساتھ بیٹھنا ہجوم میں جانا منع ہوگیاہے

یہ ساری احتیاطی تدابیر بھی انسان کےلیے بےحد ضروری ہے جب انسان زندہ رہےگا تو باقی کچھ ہوگا ۔اس میں ایک عام آدمی سے لیکر کم و بیش تمام شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو چھٹیاں دے دی گئی ہیں لیکن صحافی حضرات اب بھی پہلے سے ذیادہ اپنے کام میں منگن ہے ۔

حالات کیسے بھی ہوں انہوں نے رپورٹ کرناہےپھر کورونا وائرس سے بچنے کے لیے ادارے نے ماسک خرید کردیا ہوکہ نہیں یہ اس کی قسمت ہے۔صحافت سے وابستہ افراد کی زندگی پر بہت کم لوگ لکھتے ہیں شاید اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہےکہ ان کی چمک دمک سے انکے ذاتی حالات کا تعین نہیں کیا جاسکتاہےؕ۔ان دنوں کراچی کا جہاں ہر منظر اداس ہے وہاں پر صحافی صبح سویرے آفس پہنچ رہے ہیں ۔

ہر چیز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔اپنی ایمانداری اور سچائی سے کام میں مصروف ہیں ان کے لیے فلحال کوئی احتیاطی تدابیر کا بہتر انداز میں تعین نہیں کیا جاسکاہےسوائے ماسک پہننے کے۔باقی انکی ہر آدمی سے انٹرکیشن بھی ضروری ہےجس سے خبر نکلےگی اور لوگوں سے میل جول نہیں رکھے گے تو حالات کا احاط کیسے کیا جائےگا ۔

ہم یوں کہہ سکتےہیں ہر مشکل حالات پریشانی میں صحافی کا کام ڈبل ضرور ہوجاتاہے اور ان سارے معاملات میں صرف اور صرف اسے بارہایہی کہا جاتاہےکہ روٹین کا کام ہےآپ ہی نے کرنااور یہ حقیقت بھی ہےاگر صحافی رپورٹ نہیں کرےگا تو بھلا کون کرےگا لیکن اس صحافی کی اجرت اور چھٹیوں اور زندگی گزارنے کے لیے جو لوازمات انتہائی ضروری ہے ان کا بھی ہمیں سوچنا چائیے۔

یہ وہ طبقہ ہےجو اپنے دکھ سینے چھپا کر ہمیشہ معاشرے کے ہر بے کس مجبور نادار شخص کی آواز بنتا ہے حوالہ بنتاہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ اس کا کوئی حوالہ نہیں بنتا یہ خود کا خودہی حوالہ ہے۔اس کے بارے میں سوچنے اور اسکے حالات بدلے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments