March 25, 2020 at 8:27 am

تحریر صفورا خالد

کورونا اس طاقتور اور ظالم دشمن کی طرح حملہ آور ہوا جو رات کی تاریکی میں حملہ کرتا ہے اور مقابل ابھی اسی ہربراہٹ میں ہوتا ہے کہ کیا کیا جائے وہ قبضہ بھی کر چکا ہوتا ہے۔۔

کورونا نے ساری دنیا پر اپنا اثرورسوخ قائم کر لیا ہے، دنیا کی سپر پاورز تک اپنے گھٹنے ٹکیے بیٹھی ہیں۔

اس قدر خوف کہ لوگ گھروں میں دبکے بیٹھے رہے ہیں۔ تقریبا یر کوئی آدم بےبیزار نظر آتا ہے۔

ایک ہی گھر میں ایک ہی چھت تلے رہنے والے جو محبت میں ایک دوسرے کی چائے کی پیالی سے بھی دو گھونٹ پی لیتے تھے

اب اجتناب کر رہے ہیں ایک پلیٹ میں کھانے والوں نے اپنی پلیٹیں علیحدہ کر لی ہیں، پانی پینے کے گلاس الگ کر لیے گئے اور غلطی سے بھی کوئی کسی کا گلاس استعمال کر لے گلاسوں کے پیچھے نام لکھ دیے گئے ہیں۔

جو لوگ مہمانوں کے آنے پر مہمان نوازی میں بچھے جاتے تھے وہ مہمانوں کے ناں آنے کی دعائیں کرتے ہیں۔ جن پیاروں کو گلے لگا کر کلیجہ ٹھنڈا ہوتا تھا

ان سے تین فٹ کا فاصلہ رکھا جانے لگا ہے (کلیجے کی ٹھنڈ کا کیا ہے وہ نہ بھی پڑے تو خیر ہے) ہر دوسرا انسان مشکوک زندگی گزار رہا ہے( اپنی نظروں میں بھی)، اگر جھاڑ پونچھ کے دوران ایک آدھ چھینک آ جائے تو فوراً سے دس سیکنڈ کے لیے سانس روک کر اپنا معائنہ خود ہی کرنے لگے ہیں ہم اور اس معائنے کے ساتھ ہی ہاتھ کس تیزی اور مقناطیسی انداز میں ماتھے اور گردن کی طرف بڑھتا ہے

حرارت چیک کرنے کو کہ کہیں بخار تو نہیں۔۔ ان کچھ سیکنڈز میں یہ بھی محسوس کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کہیں ٹھنڈ تو نہیں محسوس ہو رہی۔۔ اور ان سب معاملات کو۔دیکھ کر وہ معصوم چھینک جو سانس لینے کے دوران کسی ناگوار ذرے کے ناک میں گھس جانے کی وجہ سے آئی تھی شرمندہ ہی ہو جاتی ہو گی اسی لیے تو جہاں دو چار چھینکیں آ جاتی تھیں وہاں ایک ہی چھینک آ کر اسی پر اکتفا کرتی ہے۔

بحث کرنے والے یہ بحث بھی کر رہے کہ ایمان کمزور ہے یا ایمیون سسٹم۔۔۔ باقی دنیا میں کورونا سے بچاؤ کے لیے بلا امتیاز تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں

مگر ہمارا ملک کورونا کے خاتمے کے لیے غربت کے ساتھ ساتھ جہالت کا مقابلہ تو کر ہی رہا ہے مگر ایک بڑا چیلنج ان ایمان والوں کا بھی ہے

جو اپنے ایمان پر توجہ کرنے کے بجائے دوسروں کا ایمان جج کرنے پر لگے ہوئے ہیں اور کوئی حفاظتی اقدامات نہ خود کر رہے ہیں نہ اپنے پیاروں کو کرنے دے رہے ہیں

کیونکہ ان کے مطابق اس سے ان کا ایمان کمزور ہو گا۔( اللہ پر توکل بہت ضروری ہے مگر اپنی طرف سے مکمل ذمہ داری پوری کرنا بھی ضروری ہے) ایمان کی کمزوری یا مظبوطی کا تعلق روح سے ہے،

جبکہ کورونا کا تعلق کسی بھی طرح ایمان اور روح سے نہیں ہے۔ایمان اپنی جگہ سلامت رہے مگر کورونا سے بچاؤ کے تمام اقدامات لازم ہیں کیونکہ آپ بچیں گے تو ایمان بھی بچا رہے گا۔ اپنے ایمان کی آزمائش کرنے یا مظبوطی دکھانے کے چکر میں دوسروں کی زندگیاں خطرے میں ڈالنے سے گریز کریں۔

Facebook Comments