March 21, 2020 at 10:45 pm

‫مہنگائی دوبارہ بڑھنا شروع ہو گئی آلو، پیاز،،‫لہسن پھر مہنگائی کی دوڑ میں شامل ہو گئے۔ ہفت روزہ بنیاد پر مڈل کلاس کے لیے مہنگائی کی شرح ساڑھے پندرہ فیصد ہو گئی۔‬
‎‫ایک ہفتے میں 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔‬
‎‫پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق مارکیٹ میں کھانے پینے اور روز مرہ استعمال کی 51 بنیادی اشیا میں سے 43 اشیا گزشتہ سال کے مقابلے میں مہنگی ہو چکی ہیں۔‬
‎‫آلو کی قیمت گزشتہ سال سے 128 فیصد زیادہ ہو گئی پیاز گزشتہ سال سے 94 فیصد،لہسن 88 فیصد، دال مونگ 68 فیصد اور دال ماش 49 فیصد مہنگی ہو گئی۔‬
‎‫گھی کی قیمت میں سال کے دوران 36 فیصد، چینی کی قیمت میں 33 فیصد اور دال چنا کی قیمت میں 19 فیصد اضافہ رکارڈ کیا گیا۔‬
‎‫ایل پی جی 24 فیصد،کپڑا  21 فیصد مہنگا ہو گیا مارکیٹ میں صرف ٹماٹر اور چکن کی قیمت میں گزشتہ سال کے مقابلے مین کمی رکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں کھانے پینے اور روزمرہ استعمال کی 14 بنیادی اشیا کی قیمت میں ہفتے کے دوران 20 فیصد تک اضافہ رکارڈ کیا گیا۔‬
‎‫جس سے ہفت روزہ بنیاد پر مہنگائی میں اضافے کی اوسط شرح بارہ اعشاریہ آٹھ پانچ فیصد رہی تاہم 30 ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی والے مہنگائی کا سب سے زیادہ شکار بنے ان کے لیے مہنگئی کی شرح 15.5 فیصد تک پہنچ گئی۔

Facebook Comments