March 19, 2020 at 12:40 pm

تحریر ندیم رضا

شاید ہم نے بطور قوم اور ذمہ داران یہ طے کر رکھا ہے کہ جب تک سر پر آن نا پڑے کچھ نہیں کرنا۔
اور اگر کوئی کچھ سوچنے کی ہمت کرے یا عقل کی بات کرے تو سب سے پہلے اس کا شجرہ نسب کھنگالناچاہیئے اور کچھ نہیں تو یہ ضرور چیک کرلیا جائے کہ وہ شخص ہمارے طے کردہ حب الوطنی کے معیار پر بھی پورا ترتا ہےکہ نہیں۔

تو تو میں میں اور میری تیری کے چکر میں قومی سوچ اور حکمت عملی پر جتنا مشکل وقت آج ہے شاید ماضی میں اس کی جھلک مشکل سے ملے گی۔
اب کورونا کا مسئلہ ہی دیکھ لیں۔
ہمارے پسندیدہ ترین ہمسائے چین کواس نے مشکل میں ڈالا لیکن ہم یہی سمجھتے رہے کہ چونکی ہماری دوستی ہمالیہ سے بلند ہے اس لیے کورونا چاہے کچھ کر لے اس کو عبور نہیں کر پائے گا۔
پھراس کی رفتار اور واراسے پاکستان کی سرحدوں پرلے ائی لیکن تحریک انصاف کی حکومت اور انہیں اقتدار میں لانے والوں کو ہوش نہ آیا۔
روش کے عین مطابق سیاسی محاز آرائیوں میں لگے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور بیان بازیوں کے سوا کچھ نہ سوجھی۔
دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہونے لگیں ملکوں نے لاک ڈاؤن کر دیے اور ہم نے اپنے باڈر اور ائیرپورٹس کھلے رکھے۔
کچھ لوگ زائرین کو لے کر تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور کچھ زائرین کا دفاع کرتے رہے۔
ہم نے اصل مسئلہ کو سمجھنے اور دروازوں پر دستک دیے بغیر گھروں میں پہنچنے والے وائرس پر کیسے قابو پائیں یہ سوچنا بھی گوارا نہ کیا۔
بلوچستان سے ہزاروں زائرین اور کاروباری حضرات کا آنا جانا مسلسل جاری رہا۔
انسانوں کی شکل میں چلتا پھرتا کورونااس وقت تک ہزاروں لوگوں کو متاثر کر چکاہے۔
مدینہ کی ریاست کا دعوی کرنے والے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ نے کیا کرلیا؟
اس مہلک وائرس پر وزیر اعظم نے خطاب کی زحمت بھی شائد کسی کے کہنے پر ہی کی ہو گی وہ بھی اعلان کے چار روز بعد۔
وزیر اعظم عمران خان نے خطاب کیا کیا اس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن وقت کا ضیاع ہی ہو گا۔
ملک چلانے والے اور خود کو سب پر افضل قرار دینے والے اس صورت حال میں کیا کر رہے ہیں؟
سب سے کرپٹ قرار دی جانے والی سندھ حکومت نے جب وفاق اور دیگر صوبوں سے بھی پہلے اقدامات کیے تو پھر سب کو ہوش آیا لیکن وہ بھی ادھورا، غنودگی سے اب بھی باہر نہیں آئے۔
سندھ نے عالمی معیارپر اپنے شہروں میں لاک ڈاؤن کر دیا لیکن باقی تین صوبوں اور وفاق نے ایسا کچھ نہ کیا۔

آخر کیوں انہیں کا چیز کا انتظار ہے؟
کیا ملک کو اسی طرح وینٹی لیٹر پر چلایا جاتا رہے گا؟
معزرت کے ساتھ ملک میں تو وینٹی لیٹرز بھی نہیں ہیں ملک کو اس وقت ہزاروں وینٹی لیٹرز چاہئیں جو صرف سیکڑوں ہیں۔
دنیا بھر کے ممالک کورنا وائرس کا مقابلہ کرنے والے آلات اور ضروری چیزوں کا اسٹاک کر چکے ہیں۔
پاکستان کی حکومت کو اب ہوش آیااور اب ہنگامی طور پر اور بڑے پیمانے پر میڈیکل آلات درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اطلاعات ہیں اب چین سمیت 3 بڑے ممالک سے کورونا ٹیسٹ کٹس، وینٹیلیٹرز، تھرمل اسکینرز اور دیگر میڈیکل آلات درآمد کرنے کا آرڈر دے دیا گیا۔
سوال یہ ہے ایسی صورت حال میں کوئی ملک کس طرح یہ چیزیں دوسرے ملک کو دے گا جب وہاں خود اس کی ضرورت ہو؟
لوگوں نے گھروں میں کھانے پینے کی اشیا ذخیرہ کرلیں وہ کسی سے شئیر کرنے کو تیار نہیں تو آلات کیسے کوئی دے گا؟
بہرحال تاخیر تو آپ نے بہت کردی لیکن اب صرف اس وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے اخلاقی اقدار کو پروان چڑھائیں۔
حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے حکومت اور مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ اخلاقیات کو پروان چڑھائیں۔
ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ پروان چڑھانا ہو گا ایک دوسرے کو زیر کرنے والا نظریہ پہلے کبھی کام آیا اور نہ اب کام آئے گا۔
دیہاڑی پیشہ افراد کا خیال کریں۔ گھروں میں کام کرنے والوں کو لوگوں نے چھٹی دےدی ہیں ان کا خیال کیا جائے۔
کورونا وائرس سے اصل جنگ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے لڑنی ہے انہیں بھرپور مسلح کیا جائے۔
تمام ضروریات کی اشیا انہیں فراہم کی جائیں ان کے پاس تاحال بہتر چیزیں نہیں ہیں۔
مدینہ کی ریاست میں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا اور حق دار کو اپنے حق سے محروم نہیں رہتا تھا۔
وزیر اعظم صاحب کوئی مسئلہ نہیں اب بھی وقت ہے سنجیدگی سے اس طپقے کا ہی خیال کرلیں۔
ایسا نہ ہو کہ لوگ کہنے لگیں “کورونا وائرس بھی حکومت کو جگا نہ سکا”

Facebook Comments