March 26, 2020 at 1:01 pm

رپورٹ :علیم عُثمان

لاہور کی احتساب عدالت میں 25 مارچ کو ” جنگ و جیو ” گروپ کے مالک میر شکیل الرحمن کی طبیعت دوران سماعت اس وقت اچانک ” بگڑ ” گئی جب عدالت ان کے وکیل کے دلائل سے قائل ہوتی نہ نظر آئی ، سماعت کے دوران بار بار پانی پیتے ہوئے میر شکیل الرحمن نے عدالت کے ” تیور ” بھانپتے ہوئے اچانک کہا ” میری طبیعت خراب ہو رہی ھے ، مجھے 2 منٹ کے لئے تازہ ہوا چاہیئے ” . .

اس پر ملزم (میر شکیل الرحمن) کو کمرہ عدالت سے باہر نکلنے کی اجازت دے دی گئی جہاں ان کے بڑے صاحبزادے میر ابراہیم فون ہاتھ میں لئے ” تیار” کھڑے تھے ، جو اپنے موبائل سے پہلے ہی کوئی ” خاص ” نمبر ملا کر کسی کو لائن پر لےچکے تھے . نیب کے ملزم میڈیا سیٹھ نے میر ابراہیم سے فون لے کر
قدرے گھبرائے ہوئے انداز میں کسی کو پیغام دیا ” جج مانتا نظر نہیں آرہا ” . .

بدھ کے روز میر شکیل الرحمن کو پہلا 12 روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تو ان کے وکیل بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن ” غائب ” تھے ، بلکہ ان کی جگہ شریف فیملی کے وکیل امجد پرویز پیش ہوئے مگر ” ملزم ” کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کے خلاف ان کے دلائل مؤثر یا ” نتیجہ خیز ” ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے ، اس صورتحال نے ملک کے سب سے بڑے میڈیا سیٹھ کو خاصا ” اپ سیٹ ” کر دیا تھا . .

ذرائع کا کہنا ھے کہ مقتدر حلقوں سے درپردہ انڈر سٹینڈنگ کے باوجود میر شکیل الرحمن کی ممکنہ رہائی اس لئے عمل میں نہ آسکی کہ ایک روز قبل کرونا وائرس کے ایشو کے لئے مختص وزیراعظم عمران خان کی پریس کانفرنس کے موقع پر 2 اینکرز نے میر شکیل الرحمن کی گرفتاری کا مدعا اٹھا دیا اور اس اقدام کو میڈیا کو دبانے یعنی آزادی صحافت چھیننے کی حکومتی کوششوں کا حصہ گردانتے ہوئے وزیراعظم سے قدرے ” سخت ” لہجے میں سوالات کا حملہ کردیا جس پر وزیراعظم مزاحمت کرتے ہوئے انہیں ٹوک دینے پر مجبور ہوئے ..

باخبر حلقوں کا کہنا ھے کہ 25 مارچ کو احتساب عدالت میں میڈیا سیٹھ کی پیشی سے قبل وزیراعظم کی کرونا بحران پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں قدرے ” جارحانہ ” انداز مذکورہ سوالات کئے جانے کے رویہ کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش سے تعبیر کیا . . اور یوں ایک مبینہ ڈیل کے تحت میر شکیل الرحمن کی فوری رہائی کی راہ ھموار ہونے کا سارا پلان چوپٹ ہوگیا .

Facebook Comments