کمائی حرام کی اور مرغی اللہ اکبر پڑھ کے ذبح کرنا

شیئر کریں:

تحریر ہارون رشید طور

ہمارے معاشرے میں وہ ہوتا ہے جو پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔
پیسہ حرام کا ہے لیکن مرغی ذبح کرنے سے پہلے قصائی کو بار بار تاکید کی جاتی ہے۔
بھائی اللہ اکبر ضرور پڑھ لینا۔
قصائی جس بکرے کو بڑے زور و شور سے اللہ اکبر پڑھ کر ذبح کرتا ہے تھوڑی دیر بعد اس ہی
بکرے کے گلے میں پائپ ڈال کر پانی کی مشین چلا دیتا ہے۔
مشین چلانے کے سبب پانی کے دباؤ سے گوشت کا وزن بڑھ جاتا ہے۔
آج ہم زیادہ قیمت ادا کر کے بھی اچھی اور صاف ستھری چیزوں سے محرم ہیں۔
وہ سبزی فروش ہی کیا ہے جو ایک کلو کی سبزی میں خراب اور گلی سڑی سبزی ڈالنا بھول
جائے پھل فروشوں کا بھی یہی حال ہے۔

روٹی کی قیمت زیادہ ہوتی جا رہی اور وزن کم۔
پیکنگ میں آنے والی چیزوں کے ساتھ بھی یہ ہی معاملہ ہے۔

پاکستان کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟

چیزوں کی قیمتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں اور ان کے مقدار کم ہوتی جا رہی ہے۔
قرآن کریم نے جن نافرمان قوموں کی بربادی وہلاکت کی عبرت ناک داستان بیان کی ہے۔
ان میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم بھی ہے جس کی تباہی کا سب سے بڑا سبب کفرو شرک
کے بعد اس میں پایا جانے والا کرپشن، غبن، ناپ تول میں کمی اور خیانت تھا۔

اس قوم کے جلیل القدر پیغمبران کے معاشرے میں ایک طویل عرصے تک حق واصلاح احوال کی
صدا لگاتے رہے اور انہیں باربار غبن وکرپشن کی وبا سے نکلنے اور بچنے کی تلقین کرتے رہے۔
وہ کہتے رہے (سورۃ ہود)
’’اے میری قوم! ناپ تول کو مکمل انصاف کے ساتھ پورا کرکے دیا کرو اور لوگوں کی چیزوں میں
کمی (اورکرپشن) نہ کرو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔

لیکن سرکشی میں مبتلا قوم پر ان پیغمبرانہ صداؤں کا کوئی اثر نہ ہوا۔
اس قوم کے رگ وریشے میں خیانت وکرپشن اس طرح پیوست ہوگیا تھا کہ اصلاحِ حال کی یہ
صدائیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھیں۔
وہ جواب میں کہتی رہی’’اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہم سمجھ نہیں پاتے۔‘‘
جب وہ کسی طرح نہیں سدھرے اور مہلت کا عرصہ تمام ہوا تورب کی طرف سے پکڑ آئی اور
ایک چیخ نے سرکشوں کو صفحہ ہستی سے یوں مٹادیا، جیسے وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔
ایک دن نبی کریمؐ صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کا گزر مدینہ پاک کے بازار سے ہوا۔
دونوں طرف بازار سجا ہوا تھا ایک شخص گندم کا ڈھیر سجانے بیٹھا تھا۔
گندم اتنی اچھی تھی اور دور سے اپنے گاہکوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی۔
حضورؐ اکرم صلی اللہ علیہ والیہ وسلم کے قدم مبارک بھی اس کے پاس جاکر رک گئے۔
آپ نے گندم میں ہاتھ ڈالا تو وہ اندر سے گیلی تھی آپؐ نے گندم ہاتھ میں پکڑ کر فرمایا!
“تم نے ایسا کیوں کیا”
اس نے جواب دیا اچھا منافع کمانے کے لئے۔
تو حضور نے فرمایا!
“جس نے سچائی کو جھوٹ کے پردے میں چھپایا وہ ہم میں سے نہیں”۔
حضور پاک ؐ نے جھوٹ بول کر مال بیچنے اور ناجائز منافع کمانے والوں کو اپنی امت میں سے خارج کر دیا۔
آج ہماری قوم مہنگائی ، ہوش رْبا گرانی اور ذخیرہ انداوزی کے جس عذاب سے دوچار ہے وہ اسی کرپشن
اور خیانت کا شاخسانہ ہے،جس کی آوازیں ہر سمت سے اٹھ رہی ہیں۔
شاید ہی کوئی شعبہ اور محکمہ ایسا ہو جو کرپشن سے خالی ہو۔

اگر کوئی درد مند اس کی نشاندہی کرتا ہے تو اس کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے اور بسا اوقات
یہ نشاندہی خود اس کے لیے وبالِ جان بن جاتی ہے۔

جس شخص کے پاس، جس قدر اختیار واقتدار ہے اس کے کرپشن کا حجم عموماً اسی قدر بڑا ہوتا ہے۔
اس عمل کا نتیجہ گرانیِ اشیاء کے عذاب کی شکل میں ہم سب کے سامنے ہے۔
ایک عام آدمی کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ملاوٹ ایک غیر انسانی عمل ہے اور ہم تو مسلمان ہے ملاوٹ اور ناپ تول میں کمی حقوق العباد
کی تلافی میں آتا ہیں۔
اس سےبچنا ہم پر فرض ہے۔
آج دودھ میں ملاوٹ عام جرم ہے، پانی کی ملاوٹ، مکھن نکال کر سپریٹا دودھ بنانا۔

اب ہمیں اس بات پر غور کرنا ہے کہ دودھ میں پاؤڈر ملانا، ناپ تول میں کمی کرنا یہی وہ ناپاک
کمائی ہے جس کےبعد عبادت خدا قبول نہیں کرتا۔
کسب حلال سے کی گئی عبادت ہی آخرت میں کام آئے گی۔


شیئر کریں: