کشمیر کا موسم اور بھارت کے ہتھکنڈے

شیئر کریں:

تحریر ابوالقاسم حیدری

خطہ کشمیر دنیا بھر میں اپنی بے پناہ خوبصورتی کی وجہ سے مشہور ہے اور یہاں کے بدلتے موسم اپنی مثال آپ ہیں۔
جنتِ نظیر کہلانے والا یہ خطہ موسم گرما اور موسم سرما میں ایسے خوبصورت نظاروں سے بھرا ہے کہ اگر یہ خطہ بین الاقوامی سیاحت کے لیے کھول دیا جائے تو ہر کوئی کشمیر ہی آنا چاہے گا.

عصر حاضر میں کشمیر کی پہچان دنیا کے خوبصورت ترین مقام سے نہیں بلکہ دنیا کے سب سے زیادہ فوجی محاصرے کے علاقے کے طور پر ہے۔
بھارت اور پاکستان کی آزادی کے بعد سے یہ خطہ دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ ریاست کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایک جانب جہاں یہ ریاست دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے وہی اس خطے کے اندر سب سے بڑا مسئلہ انسانی حقوق کا بھی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے اندر انسانی حقوق پامال ہورہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مغائر بھارتی حکومت نے کالے قوانین نافذ کررکھے ہیں جنہیں عوام تو دور اب بھارت نواز لیڈر شپ بھی مخالفت کرتی نظر آتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سابق وزراء اعلی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی سمیت متعدد سیاسی لیڈر عرصہ دراز سے نظر بند ہیں۔

حال ہی میں بھارتی میڈیا کی جانب سے گلگت بلتستان اور آزادکشمیرموسم دکھایا جانے لگا اور یہ بیانیہ دیا گیا کہ یہ خطہ پاکستان کے زیر قبضہ ہے۔
اب زیر قبضہ علاقہ کیسا ہوتا ہے اس کی تعریف سمجھنے کی بھی ضرورت ہے۔
5 اگست 2019 کے بعد سے کس علاقے میں مکمل لاک ڈاون اور کرفیو نافذ رہا؟
کہاں پر 9 لاکھ افواج تعینات ہے؟
کہاں پر مزاحمت کی تحریک جاری ہے؟
کہاں پر انٹرنیٹ دستیاب نہیں؟
کہاں پر سیاسی لیڈر شپ نظر بند ہے؟
اس طرح کے بے شمار سوالات ہیں جن کے جواب میں مقبوضہ اورآزادریاست کی تعریف وضع ہوجاتی ہے۔

کشمیری عوام یہی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ بھارتی حکومت موسم کا حال بتانے کے بجائے مقبوضہ کشمیر کے عوام اور وہاں کی سیاسی لیڈرشپ کا حال بتائے۔
قابض بھارتی افواج کشمیریوں کی منظم نسل کشی سمیت وہاں غیر ریاستی باشندوں کو آباد کرنے کی کوشش کررہی ہے تو مقبوضہ کشمیر کے اندر سے مزاحمتی تحریکیں نئے ناموں کے ساتھ سامنے آتی جارہی ہیں۔
اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کشمیری عوام بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں۔

کشمیری نوجوان تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے اس قدر پرعزم ہیں کہ ماں باپ اپنے بچوں کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ جب تک ہماری نسل کا ایک بھی شخص زندہ رہے وہ آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کرتا رہے اور تاریخ اس بات کی گواہ کہ ظلم کا دور ہمیشہ قائم نہیں رہتا۔

بھارتی میڈیا کشمیر کا موسم تو دکھا رہا ہے مگر اس خطے میں موجود عوام کے تااثرات بھی جب عوام تک پہنچائے گا تومقبوضہ کشمیر انسانی حقوق کے لیے جو آواز پاکستان بلند کرتا آیا ہے وہی آواز بھارت کے اندر سے بھی سامنے آئے گی۔


شیئر کریں: