کشمیر اور فلسطین میں یکسان داستان

شیئر کریں:

انیس سو اڑتالیس سے کشمیر اورفلسطین میں ظلم کی یکساں داستا ن رقم کی جارہی ہے۔
ارض کشمیرسےسرزمین فلسطین تک اٹھنے والی مسلمانوں کی چیخ وپکار، خواتین کے نالے اور
یتیم بچوں کی آہیں بے اثر ہو رہی ہیں۔
افسوس کی بات تو یہ ہے کہ اغیار تو اغیار اپنے بھی ظلم و ستم پر مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
کشمیرسے فلسطین تک عالم اسلام کے سینے پر بھارت اوراسرائیل مونگ دل رہے ہیں۔
لیکن بین الاقوامی افق پرکوئی طوفان نہیں اٹھ رہا۔
فلسطین کا یوم نکبہ، 1948ء کا کورونا وائرس
ہر چارسو سکوت مرگ طاری ہے، فلسطین میں اسرائیلوں نے ایک قیامت برپا کی ہوئی ہے اور بھارت
کی جانب سے کشمیر میں خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔
فلسطینیوں اور کشمیریوں کا خون پانی سے بھی ارزاں ہوگیاہے۔

ہر روز معصوم بچوں سے لے کر بے گناہ نوجوانوں اور سفید ریش بزرگوں تک بلکہ بچیوں سے لے کر بزرگ
خواتین تک دونوں خطوں میں انسانوں کے لاشے گرائے جاتے ہیں۔
شہدا کی تدفین پر بھی گولیاں چلائی جاتی ہیں، دونوں علاقے جبر و استبداد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔
کشمیرمیں بھارت اور فلسطین میں اسرائیل نسل کشی کررہاہے۔
اغیار دونوں کی زمینوں پربالجبراورفوجی قوت کی بنیادپر قابض ہیں۔
اسرائیل ایک ناجائز اور جبری ریاست ہے جو فلسطینیوں کی زمین ہتھیا کر ایک سازش کے تحت وجود میں لائی گئی۔
امریکا اور برطانیہ اسرائیل کی سرپرستی کر رہے ہیں ۔

بھارت نے بھی اپنے ہم پیالوں کی آشیرباد سے مقبوضہ ریاست جموںو کشمیر پرجبری اورفوجی طاقت کے بل بوتے پر

جابرانہ قبضے اورجارحانہ تسلط کو مستحکم کرنے کے لئے کشمیریوںپرستم کے پہاڑ توڑ رہاہے۔

فلسطین اورجموں و کشمیر میں یکساں معرکہ برپا ہے ،نہتے اور بے بس اہل فلسطین اوراہل کشمیر کو ہتھیار کوئی نہیں دیتا ۔
پتھروں اورغلیلوں سے وہ اسلحے سے لیس دشمنوں کے سامنے سینہ سپرہیں۔
تھکنا، جھکنا اوربکنا دونوں کے سرشت میں شامل نہیں۔

جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے لیس غاصب فوجیوں کے خلاف فلسطینیوں اور کشمیریوں نے اپنے جگر گوشوں کے
لہو سے کوچہ و بازار میں چراغ جلا رکھے ہیں۔
5 اگست 2019 میں بھارت نے مظلوم کشمیریوں کے حق شہریت کو پامال کردیا۔
جنت نظیر وادی کے باسیوں کو اپنے ہی گھر میں بے گھر کردیا گیا۔

فلسطینیوں کے امریکا نے گریٹ ڈیل کے نام سے ہاتھ کردیا،لیکن مسند اقتدار پر براجمان مسلمان حکمرانوں نے
اسلاف کی تابناک تاریخ پرموٹاغلاف چڑھاکر طاق نسیان میں رکھ دیااور ڈالر کی پوجامیں مگن ہیں۔

اس لئے ارض کشمیرسے سرزمین فلسطین تک دونوںمقبوضہ علاقوں سے اٹھنے والی مسلمانوں کی چیخ وپکار،
خواتین اسلام کے نالے اوریتیم بچوں کی آہیں ان کے دلوں کو نرم نہیں کر سکتیں۔


شیئر کریں: