کس ہنگامی فون کال پر چوہدریوں سے بزدار کی ملاقات منسوخ ہوئی؟

شیئر کریں:

رپورٹ علیم عُثمان

ملک بالخصوص پنجاب کی نازک سیاسی صورت حال کے حوالے سے “کپتان” چوکنا ہو گیا ہے۔
منگل کو وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو “چوہدریوں” کے ساتھ ملاقات سے روک دیا۔
ان کی کسی ممکنہ سیاسی اڑان سے پہلے ہی ان کے پر کتر دیئے دوسری طرف مریم نواز نے اسٹیبلشمنٹ
کی طرف سے “او کے” کا سگنل مل جانے پر لندن کے لئے اڑان بھرنے کی تیاری شروع کردی .ہے۔

پی ٹی آئی کا کون سا وزیر موجودہ سیٹ اپ کے خلاف سازش کر رہا ہے؟

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم کو ایک فوری خفیہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ منگل 4 جولائی کو سہ پہر 4 بجے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی چوہدری برادران کے ساتھ ملاقات صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے طے کروائی ہے جو پنجاب حکومت میں عثمان بزدار کے واحد قریبی ، قابل اعتماد دوست اور ان کے سیاسی گرو مانے جاتے ہیں۔
وزیراعظم کو ملنے والی انٹیلیجنس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب راجہ بشارت وزیر اعلیٰ اور “چوہدریوں” کے درمیان خفیہ سیاسی رابطوں کا ذریعہ ہیں جو دراصل اس سے کہیں بڑھ کر چوہدری برادران اور “نون” لیگ کے مابین رابطہ کار کا کردار ادا کرتے ہیں۔

پنجاب کے 4 وزراء کی برطرفی کیوں مؤخر ہوئی؟

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ‘چوہدریوں’ اور وزیراعلی پنجاب کی منگل کی میٹنگ کے پیچھے بھی دراصل راجہ بشارت ہی کا ہاتھ تھا جنہوں نے اس ملاقات کا سارا بند و بست کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے فوری ایکشن لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کے ساتھ ہنگامی رابطہ کر کے چوہدریوں سے ملنے سے سختی سے روک دیا۔
اور یوں وزیراعلیٰ پنجاب کی چوہدریوں کے ساتھ ملاقات عین آخری لمحوں میں منسوخ کر دی گئی۔
جو پی ٹی آئی حکومت کے اتحادی ہونے کے باوجود بغاوت پر اترے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ہفتہ بھر قبل ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں وزیراعظم کے علم میں یہ بات بھی لائی جاچکی ہے کہ لندن میں مقیم “نون” لیگ کے قائد نواز شریف کا بھی چوہدری شجاعت حسین کے ساتھ بالواسطہ رابطہ ہوا ہے اور یہ کہ نوازشریف نے “چوہدریوں” کو ایک بار پھر یہ آفر بھیجی ہے کہ وہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ لے لیں۔
نون لیگ کے پنجاب کے ایم پی ایز تبدیلی کے لئے ان کا ساتھ دینے کو تیار ہیں۔

کون لندن کے لئے اڑان بھرنے والا ہے؟

دوسری طرف “نون لیگ” کی مرکزی رہنما ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے منگل کے روز گلبرگ لاہور کی ایم ایم عالم روڈ پر “رازی ہاسپٹل” سے اپنے گلے کے ٹیسٹ کروائے تاکہ میڈیکل ایڈوائس کی بنیاد پر “علاج” کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت کے قانونی تقاضے پورے کئے جا سکیں۔

شریف فیملی اور زرداری مخالف احتساب کی نئی مہم کیوں شروع ہوئی؟

ان کی والدہ مرحومہ کلثوم نواز کو بھی “رازی ہاسپٹل” ہی کی رپورٹ اور میڈیکل ایڈوائس پر ملک سے باہر بھیجا گیا تھا۔
6 ہفتوں کی ضمانت پر رہائی کے دوران خود نوازشریف بھی اسی پرائیویٹ اسپتال سے چیک اپ کروا چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں میں باور کیا جاتا ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کی گئی اپنی کمٹمنٹ کی پاسداری کی ہے جو انہوں نے نواز شریف کے لندن جانے کی اجازت کے بدلے میں کی تھی۔
نوازشریف کی براہ راست ہدائت پر “نون” لیگ نے نہ صرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے لئے درکار قانون سازی کے حق میں ووٹ دیا اور FATF کی شرائط کی روشنی میں درکار حالیہ قانونی بل سینیٹ سے پاس کروانے میں مدد کی۔
مولانا فضل الرحمن کے “آزادی مارچ” اور دھرنا سیاست کا عملی طور پر حصہ نہ بنی بلکہ اس سارے عرصے میں مریم نواز مقتدر قوتوں کے ساتھ کی گئی کمٹمنٹ کے مطابق خاموش رہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف جھکاؤ اور تعاون کے حوالے سے بدنام شہباز شریف رہے ہیں جو بظاہر اب بری طرح پھنس چکے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ “مثالی” تعاون اور مختلف مواقع پر مقتدر حلقوں کی عملی مدد کے حوالے سے ریکارڈ نام نہاد بیانیہ باز بڑے بھائی نے قائم کیا ہے۔


شیئر کریں: