کسانوں کی احتجاجی تحریک کو ایک سال ہونے پر دہلی کی طرف مارچ

شیئر کریں:

بھارت میں کسانوں کی تحریک کو ایک سال مکمل ہونے پر آج بلیک فرائیڈے منایا جارہا ہے۔ شرومانی
اکالی دل نے دارلحکومت کی جانب پرامن مارچ کااعلان کیا ہے لیکن مودی انتظامیہ نے دہلی کی طرف
آنے والی سرحدیں بند کردی ہیں۔

گوردواہ رکاب گنج کو بھی محاصرہ میں لے لیا گیا ہے۔ کسانوں کی جماعت شرومانی اکالی دل نے عبادت گاہ
کے محاصرہ اور پنجابیوں کے دارلحکومت میں داخلے پر پابندی کو آمریت کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے مودی حکومت نے تعصب کی تمام سرحدیں عبور کرلی ہیں سوائے پنجابیوں
کے سب کو دہلی میں داخلے کی اجازت ہے۔

یاد رہے کسان مودی حکومت کی جانب سے کسانوں سے متعلق تین قوانین میں تبدیلی کے لیے گزشتہ سال
ستمبر سے احتجاجی تحریک چلارہے ہیں۔ ستمبر 2020 سے بڑی تعداد میں کسان دارلحکومت کی سرحد
پر کیمپس لگائے بیٹھے ہیں۔

امتیازی قوانین کے خلاف احتجاجی تحریک کے دوران کئی درجن کسان شہید ہو چکے ہیں۔ ایک سال
کے دوران کسانوں نے حکومت کے جبر و تشدد اور موسم کی سختیوں کا بھی مقابلہ کیا لیکن ان کے
ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کسان کہتے ہیں قوانین میں کی گئی تبدیلی کی واپسی تک
ان کا احتجاج جاری رہے گا۔


شیئر کریں: