کسانوں نے لال قلعہ فتح کرلیا، خالستان کی تحریک زور پکڑنے کا خدشہ

شیئر کریں:


بھارت کے یوم جمہوریہ پر دہلی کی سڑکوں پر فوجی ٹینکوں کے بجائے کسانوں کے ٹریکٹر چلتے رہے ہیں۔
دہلی کے لال قلعہ پر کسانوں نے اپنا جھںڈا لہرا کے نریندرا مودی اور امیت شاہ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

بھارت بھر کے کسان مودی حکومت کی متنازہ زرعی پالیسی کے خلاف 26 نومبر 2020 سے دہلی کی
سرحد پر احتجاج کر رہے تھے۔
تحریک کے دو ماہ ہونے پر انہوں نے نے یوم جمہوریہ کے موقع پر اپنا جمہوری حق ادا کرنے کے لیے دہلی
میں ٹریکٹر ریلی کا اعلان کیا تھا۔

حکومت نے پہلے اجازت نہ دی لیکن پھر پر امن احتجاجی ریلی کی یقین دہانی پر دہلی آنے کی اجازت دی گئی۔
کسانوں نے دہلی میں داخل ہوکر لال قعلہ پر اپنے اتحاد کی علامت والا “جھنڈا” لہرا دیا۔
جھنڈا لہرائے جانے کے بعد سے بھارت کے میڈیا نے سکھ مخالف مہم شروع کر دی۔

اس دوران سیکیورٹی اہل کار کسانوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کرتے رہے۔
یہی نہیں بلکہ نہتے کسانوں پر گولیاں بھی برسائیں متعدد کسان شہید اور زخمی ہوئے۔
کسانوں کی ریلی نے منتشر معاشرے میں ہر مسلک اور مذہب کے ماننے والوں کو اپنے جھنڈے
تلے متحد رکھا ہوا ہے۔

یوم جمہوریہ کے موقع پر ٹریکٹر ریلی نے بھارت کے متعصبانہ نظام کی جڑیں ہلا دی ہیں۔
ایک طرف کشمیر کے باسی دہائیوں سے آزادی کی تحریک چلا رہے ہیں اور دوسری جانب اب کسان
کھڑے ہو چکے ہیں۔
بھارتی سیاست پر نظر رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ اگر اب بھی مودی نے اپنی روز نہ بدلی تو پھر بھارت
کو تقسیم سے کوئی نہیں روک سکے گا۔


شیئر کریں: