کرکٹ کا ہر انٹرنیشنل میچ فکس ہونے کا انکشاف

شیئر کریں:

جینٹل مینز کا کھیل کرکٹ انڈر ورلڈ مافیا کے ہاتھ میں کھیلے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
دنیا بھرمیں جہاں بھی کرکٹ کھیلی جاتی ہے اس پر جوا کھیلا جاتا رہا ہے۔
مشہور زمانہ سن 2000 کے میچ فکسنگ اسکینڈل کے اہم کردار سنجیو چاولہ نے انکشاف کیا ہے کہ
انٹر نیشنل کرکٹ کا ہر میچ فکس ہوتا ہے۔

دنیا بھر میں جہاں بھی لائیو میچ دیکھا جاتا ہے وہ حقیقی نہیں پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے۔
تمام کرکٹ میچ فلم کی طرح چلتا ہے جس کا ڈائریکٹر کوئی نامعلوم کھلاڑی ہوتا ہے۔
پولیس کے سامنے انہوں نے انکشاف کیا کہ انڈر ورلڈ مافیا اور بہت بڑا سنڈیکٹ اس میں ملوث ہے۔
میچ فکسنگ سے متعلق اطلاعات کسی کو لیک کرنے کی سزا موت ہوتی ہے۔
فکسنگ اسکینڈل میں ہنسی کرونئے نے 20 سال پہلے اعتراف جرم کیا تھا۔
لیکن بدقسمتی سے فوری بعد وہ طیارہ حادثہ میں ہلاک ہو گئے تھے۔
حادثہ کیسے ہوا؟ یہ صرف حادثہ تھا یہ کوئی سازش؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کا آج تک کسی کو معلوم نہیں چل سکا۔
سنجیو چاولہ بھی اس کیس کے مرکزی ملزم تھے۔

چاولہ کا نام کئی کیسز میں سامنے آیا لیکن 1993 سے انگلینڈ منتقل ہوگئے اور 2000 میں برطانوی شہریت لے لی۔
آئی پی ایل فکسنگ میں بھی وہ مبینہ طور پر ملوث پائے گئے۔
بھارتی حکومت نے لندن کی عدالت میں کیس اور پھر برطانیہ کی حکومت نے چند ماہ پہلے بھارت کے حوالہ کیا۔
قسمت چاولہ پر مہربان رہی اور دلی میں کورونا کی بنیاد پر عدالت سے ضمانت لے لی۔
تفتیشی ٹیم کو چند روز قبل چاولہ نے بیان تھا کہ انڈر ورلڈ کی جانب سے زبان کھولنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
سجنیو چاولہ میچ فکسنگ میں ملوث رہنے کا اعتراف کر چکے لیکن کسی مافیا کا نام اب تک ظاہر نہیں کیا۔
چاولہ کا بیان دنیائے کرکٹ اور آئی سی سی کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔

سلیم ملک سے عمر اکمل، کرونئے سے اظہر الدین یا اسپاٹ فکسنگ معاملات تو چل رہے ہیں۔
پاکستان سپر لیگ 5 سے پہلے بکیوں سے ملاقات کے جرم میں عمر اکمل پر پابندیاں لگیں۔
بکیوں سے ملاقات پر کرکٹرز پر پابندیاں لگتی آرہی ہیں لیکن آج تک کسی مافیا کا نام منظر عام پر نہیں آسکا۔ ۔

بین اسٹوکس گزشتہ ورلڈ کپ میں بھارت انگلینڈ کا میچ مشکوک قرار دے چکے ہیں۔
حال ہی میں سلیم ملک بھی اپنا کیس دوبارہ کھولنے کے لئے میڈیا پر سامنے آچکے ہیں۔
ماضی کے کرکٹرز کا کہنا ہے کہ اس معزز کھیل کو مافیا سے بچانے کے لے کھلاڑیوں
سے سخت معاہدے کرنا چاہئیں۔
ساتھ ہی انہیں میچ کا بھرپور معاوضہ دیا جائے اور ان کے چال چلن پر گہری نگاہ رکھی جائے۔


شیئر کریں: