کربلا کے ننھے شہید علی اصغرؑ کا یوم

شیئر کریں:

توقیر زیدی کی رپورٹ

دنیا بھر میں واقعہ کربلا کے ننھے شہید کی یاد میں عالمی یوم حضرت علی اصغر منایا جارہا ہے۔
یوم حضرت علی اصغر پر مائیں اپنے معصوم بچوں کو لے کر کربلا کے ششماہے سے عہد پیمان
کرتی ہیں۔ ملک بھر کی طرح ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی عالمی یوم علی اصغر علیہ السلام انتہائی
عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں امام بارگاہ چاہ سید منور شاہ سمیت متعدد امام بارگاہوں میں یوم علی اصغر کی مناسب
سے مجالس عزاء اور نوحہ خوانی کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر معصوم بچوں کے ماتھے پر
لبیک یا حسین کی پٹیاں باندھی گئیں اور سبز کرتے پہنائے گئے۔ عالمی یوم علی اصغر ہر سال محرم
کے پہلے جمعہ کو کربلا میں شہید کئے گئے بچوں خاص طور پر حضرت علی اصغر کی یاد میں منایا جاتاہے۔

آج بیک وقت پاکستان اور ایران سمیت دنیا کے چالیس سے زائد ممالک میں یوم علی اصغر کی مناسبت سے مجالس منعقد کی جارہی ہیں۔ مائیں اپنے کمسن اور معصوم بچوں کو اپنی آغوش میں لے کر کربلاکے ششماہے کی ماں حضرت رباب کی مظلومی و مصائب پر نوحہ وگریہ کر رہی ہیں۔
ماوں کا کہنا ہے کہ ہم اپنے شیر خوار بچوں کے ہمراہ اس عزم کے ساتھ موجود ہیں کہ کربلا کے کمسن شہید حضرت علی اصغر علیہ السلام سے تجدید عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو سیرت علی اصغر علیہ السلام کے مطابق پروان چڑھا کر اسلام کی سر بلندی اور امام زمانہ (عج) کے رکاب میں جہاد کے لئے تیار کریں گے۔


شہزادہ علی اصغر کی شہادت داستان کربلا کا ایسا باب ہے جو تاابد ظالمین کے خلاف انسانیت کے دل و ضمیر کو جھنجھوڑتا رہے گا۔ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ کربلا کی فتح میں اس ششماہے معصوم شہزادے حضرت علی اصغر کا بہت بڑا کردار ہے تیر کھا کر مسکرانے والے معصوم نے بدترین ظالموں کو بھی رلا دیا۔

عالمی یوم حضرت علی اصغر علیہ السلام اپنی نوعیت کی ایک منفرد رسم عزاداری ہے جو ہر سال عالمی سطح پر ماہ محرم الحرام کے پہلے جمعہ مبارک میں برپا ہوتی ہے جوکربلا میں شہید کئے گئے بچوں خاص طور پر شش ماہے حضرت علی اصغرابن امام حسین کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے جو اب عالمی میڈیا اور مختلف عالمی اداروں کی توجہ کا مرکز بھی بنی ہوئی ہے۔
کیوں توجہ کا مرکز نہ بنے یزیدی فوج نے اس چھ ماہ کے بچے کو امام حسین علیہ السلام کی گودھ میں جس تیر سے ذبحہ کیا وہ تین پھال کا تیر جانوروں کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن آل رسول کے اس کمسن بچے نے تیر کھا کے اور پھر مسکرا کر رہتی دنیا تک یزیدیت کو نشانہ عبرت بنادیا ہے۔ اسی لیے تو شاعر نے کہا ہے

منہ ڈھانپ ڈھانپ روتی ہے اصغر سپاہ شام ۔
تم تیر کھاکے آئے ہو یا تیر مارکے ؟۔


شیئر کریں: