کربلا میں قبیلہ بنی اسد کا کردار

شیئر کریں:

تحریر بتول فاطمہ
آل رسولؐ کی مدینہ سے کربلا آمد تک ہر موڑ پر تاریخ کا الگ رنگ نظر آتا ہے۔ ایک طرف دنیا
کے لالچ میں ڈوبے یزید کے حواری تو دوسری طرف کچھ ایسے پاک طینت جنھوں نے اپنی جان
اور اولاد بھی نواسہ رسول پر قربان کرکے مشیت ایزدی خرید لی۔ ان میں قبیلہ بنی اسد کا کردار
بھی نمایاں ہے۔

دو محرم الحرام کو امام مظلوم کربلا پہنچتے ہیں۔ راہ گیروں سے پوچھتے ہیں اس جگہ کا کیا نام ہے؟
کسی نے کہا نینوا، کسی نے قادسیہ ایک شخص نے بتایا یہ وہ جگہ ہے جہاں پر انبیاء اور ان کی اولادوں
پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے ہیں۔ جتنا جلد ہو سکے یہاں سے نکل جائیں۔ کیونکہ اسے کربلا یعنی کرب وبلا
بھی کہتے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ امام نے فرمایا ہاں یہی ہماری منزل ہے۔

امام نے پوچھا کہ یہ جگہ کس کی ملکیت ہے فرمایا بنی اسد کی۔ آپ نے قبیلہ بنی اسد کےلوگوں کوبلایا،
ان سے زمین کو خریدا اور پھر انھیں ہی ہدیہ کر دی۔ امام مظلوم نے ان سے کہا کہ یہ ہماری جائے شہادت
ہے، یزید کی فوج جب ہمیں قتل کر چکے تو تم لوگ ہمارے بے کفن لاشے دفنا دینا۔ مردوں سے خطاب
کے بعد ان کی عورتوں کوبلایا ان سےکہا کہ اگر تمھارے مرد کسی خوف سے ہمیں نہ دفنا سکے تو تم
ہمیں دفنا نہ دینا اس کے بعد بچوں سے کہا کہ اگر تمھارے ماں باپ ہمیں نہ دفنا سکے تو تم کھیلنے کے
بہانے یہاں آنا اور ریت اٹھا اٹھا کر ہمارے لاشوں پر ڈال دینا ۔

روز عاشور عصر کے بعد یزیدی فوج نے آل رسول اور ان کے جانثار ساتھیوں کی لاشوں پر گھوڑے
دوڑا دیے۔ سر جسم سے الگ کیے۔ جب یزیدی فوج آل اطہار کے خیموں میں لوٹ مار اور انھیں قیدی
بنا کر ساتھ لے گئے تو روایات کے مطابق تیرہ محرم کو بنی اسد کے لوگ آئے اور وعدے کے
مطابق بے کفن لاشوں کو دفن کیا۔

غیر مسلموں کی نظر میں کربلا

یہی نہیں ، بنی اسد ہی وہ قبیلہ ہے جس نے جب بھی روضہ امام حسین کو مٹانے کی کوشش کی گئی
انھؤں نے دوبارہ اسے تعمیر کیا۔
اس دن سے لے کر آج تک روز عاشور بنی اسد کے لوگ سروں پر سیاہ پٹیاں باندھے، خاک اڑاتے
روضہ مظلوم پر آتے ہیں اور اپنے خاص انداز میں امام مظلوم کو پُرسہ دیتے ہیں۔

حضرت زینب کے خطبات اور یزید کی رسوائی

امام حسین کے جانثار ساتھیوں میں مسلم ابن عوسجہ اسدی، حبیب ابن مظاہر اسدی، قیس بن مشراسدی،
ابو سمامہ بن عبداللہ،اریر ہمدانی ، حنالہ ابن اسد، عابس شاکری ، عبدالرحمان راہبی ،سیف ابن حارث،
امربن عبداللہ ہمدانی اسی بنی اسد قبیلے سے تھے۔


شیئر کریں: