کراچی کی تباہی کے زمہ دار سیاستدان یا عوام؟

شیئر کریں:

تحریر مظاہر سعید

ملک کے سب سے زیادہ ریونیو دینے والے شہر کراچی پر سیاست کرنے کے دعویدارتو
بہت ہیں لیکن اس کے مسائل حل کرنے والا کوئی نہیں دکھائی دیتا۔
بارش کے بعد پہلے سے مسائل کے شکار شہر کے باسی مزید مشکلات میں گھر گئے۔
اس کے برخلاف عوامی ووٹوں سے ایوانوں میں پہنچنے والی جماعتیں ایم کیو ایم، پیپلز پارٹی
اور تحریک انصاف کو ایک دوسرے پر تنقید سے فرست نہیں۔
الیکشن کے ادوار میں ہر سیاسی جماعت نے شہر قائد کو اپنا قلعہ قرار دیا۔
عوام کے مسائل اپنے مسائل اور دوسری جماعتوں کو ان کا دشمن قرار دیا۔

اقتدار سے چمٹے رہے لیکن کراچی کے عوام کو مسائل کے حصار میں چھوڑے رکھا۔
بس الیکشن قریب آتے ہوئے حکومت سے الگ تھلگ ہو کر ووٹرز کو لبھانا شروع کر دیا۔
اقتدار میں آتے ہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی “کراچی” کے مہرے ہٹانے شروع کر دیتے ہیں۔
قائد کے شہر کو جو سونے کی چڑیا کہتے ہیں وہ اس کے پر نوچنا شروع کر دیتے ہیں۔
یعنی ہر کوئی اپنے اپنے حساب کتاب اور زہنی سوچ کے مطابق شہر کو لوٹ کو آگے بڑھ جاتا ہے
اور ووٹرز غریب مسائل کے انبار تلے بتے رہتے ہیں۔
کراچی کے عوام گواہ ہیں کہ سیاستدان انتخابات سے چند ماہ قبل اپنی مجبوریوں کے
بارے میں عوام کو آگاہی دیتے ہیں۔
ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہوئے الزام تراشی کی سیاست اور چھوٹے موٹے مسائل حل
کر کے پھر سے اقتدار سے چمٹ جاتے ہیں۔

بے چارے عوام جائیں تو جائیں کہاں حالیہ الیکشن میں شہر قائد کے عوام کو پاکستان تحریک انصاف
کی شکل میں متبادل جماعت میسر آئی لیکن تحریک انصاف بھی عوام کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکی۔
عوام کو مایوسی کے سوا ان سے کچھ نہ ملا۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں شہر کو نعمت اللہ خان اور مصطفی کمال جیسے ناظمین ملے۔
دونوں ادوار میں انڈرپاس، کشادہ سڑکیں، پلے گرائونڈ، نالوں کی بہترصفائی، بہتر نکاسی آب
کے انتظامات اور فیملی پارکس ملے۔
ان کے بعد شہر کو نیب زدہ اور سابق وزیر وسیم اختر کی صورت میں میئر نصیب ہوئے ان
کی کارکردگی حالیہ بارش نے ظاہر کردی ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی الیکشن میں کامیابی حاصل کی تو عوام پر امید ہوئے کہ
شہر کو مصطفی کمال طرز پر بہتری کی طرف گامزن کیا جائے گا۔
بدقسمتی سے وسیم اختر شہر کی بہتری کے لیے کچھ نہ کر سکے اور شہر کو گندگی کا ڈھیر بنا دیا۔
حیران کن طور پر شہر قائد میں موجود 268 چھوٹے اور 38 بڑے نالوں کی 22 سال سے صفائی نہیں کی گئی۔
عوام کی آنکھوں میں دھول جھوکنے کے لیے صرف موٹا موٹا کچرا تو نالوں سے نکالا گیا
لیکن مکمل صفائی کبھی نہیں کی گئی۔

ڈسٹرک سینٹرل کے عوام کہتے ہیں سیاست دانوں کے وعدے بھی سیاسی نکلے۔
ہم بارش کے پانی میں ڈوب رہے تھے اور ہمارے نمائندے بنگلوں میں نیند کے مزے لے رہے تھے۔
پریشانی کی اس گھڑی میں میئر کراچی بھی بجلی کی طرح نظر نہ آئے۔
حالیہ بارشوں سے زیادہ متاثر ضلع وسطی اور غربی ہوئے ہیں ان دونوں اضلاع کے چیئرمین
ایم کیو ایم کے اظہار احمد اور ریحان ہاشمی ہیں۔
کراچی میں سب سے بڑا اسٹیک بھی ایم کیو ایم پاکستان ہی کا ہے لیکن میئر وسیم اختر کام
کرنے کے بجائے مسائل کی کمی کا رونہ ہی روتے رہے۔

دوسری طرف دن بدن بڑھتے ہوئے مسائل کی وجہ سے عوام کے دن و رات ازیت ناک ہوتے چلے گئے۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی، ضلع وسطی اور غربی سے ہوتا ہوا شہر کا سب سے بڑے گجر نالے
(سیوریج) کا پانی لیاری نندی میں گرادیا جاتا ہے۔
حکومت سندھ نے لیاری ندی کی صفائی تو کروائی لیکن کچرا اور مٹی لیاری ندی کے کنارے ہی چھوڑ دی۔
بارش کی وجہ سے یہ مٹی اور کچرا دوبارہ ندی میں گر گیا پھر کیا تھا ایف سی ایریا، گلبرگ، واٹر پمپ، سہراب گوٹھ ، اوررنگی ٹائون، مومن آباد ، ناظم آباد اور عزیزآباد سمیت مختلف علاقوں کے تعلیمی اداروں میں کئی کئی فٹ پانی بھر گیا۔
شہری انتظامیہ کے بجائے سیکیورٹی ادارے پانی کی نکاسی کرتے دیکھائی دیے۔
بدانتظامی کی وجہ سے ڈسٹرک سینٹرل اور ویسٹ کے اسپتالوں میں میتیں گھنٹوں رکھی رہیں۔
ایمبولینس ملیں تو وہ بھی شاہراہوں پر پانی میں ڈوبتی ہوئی دیکھی گئیں لیکن میئر نہیں دیکھے گئے۔
سندھ حکومت کی کارکردگی بھی شہری حکومت سے کم نہیں، دونوں نے بس اپنے ہی کام سیدھے کیے ہیں۔
حکومت سندھ کے ماتحت ادارے واٹر بورڈ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ان جیسے ادارے بارشوں میں ہونے والے نقصان کے ذمہ دار ہیں۔
شہر کے باسی کہتے ہیں اب یہی شہر پر حق جتانے والی جماعتیں انہی مسائل پر سیاست کرتی دیکھائی دیتی رہیں گی۔
اور سونے پر سہاگا یہی مسائل سے دوچار شہری انہیں دوبارہ اپنے سروں پر مسلط بھی کر لیں گے۔
اس کا مطلب یہ ہوا ہے کہ قصور سیاستدانوں کا اپنی جگہ لیکن اس کے زمہ دار دراصل انہیں ووٹ دینے والے ہیں۔


شیئر کریں: